مقبول: روایت میں قابلِ قبول اضافہ

اضافی الفاظ کب قبول ہوتے ہیں؟ مقبول: روایت میں قابلِ قبول اضافہ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں

ایک ہی حدیث کئی راوی نقل کریں تو کسی کی روایت میں ایک لفظ یا جملہ زیادہ بھی ہوسکتا ہے۔ برتن دھونے کی حدیث میں ایسے ہی اضافی الفاظ دیکھیں گے، پھر سمجھیں گے کہ وہ کس شرط کے ساتھ قبول ہوتے ہیں۔

2. برتن دھونے کی حدیث

إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ (مشکوٰۃ المصابیح، 490) ترجمہ: جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں سے پی لے تو اسے سات بار دھوئے۔ یہاں برتن کو سات بار دھونے کا حکم بیان ہوا ہے۔

3. اضافی الفاظ

دوسری روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں: فَلْيُرِقْهُ (صحیح مسلم، 279a) یعنی: اس میں موجود پانی بہا دے۔ یہاں پانی بہانے کی بات مزید نقل ہوئی ہے۔ «اضافہ» سے مراد روایت میں آنے والے اضافی الفاظ ہیں، راوی کا اپنی طرف سے بات بنانا نہیں۔

4. مقبول اضافے کی شرط

ثقہ (ثقة) وہ راوی ہے جس کی دیانت اور روایت کو درست یاد رکھنے یا محفوظ کرنے پر اعتماد ہو۔ اوثق (أوثق) اس مقابلے میں زیادہ قابلِ اعتماد راوی کو کہتے ہیں۔ ثقہ راوی کوئی اضافی بات نقل کرے اور وہ اوثق راوی کی روایت کے خلاف نہ ہو، تو اس اضافے کو یہاں مقبول، یعنی قابلِ قبول کہتے ہیں۔

5. یہ اضافہ کیوں مقبول ہے؟

• پہلی عبارت میں برتن کو سات بار دھونے کا حکم ہے۔ • اضافی الفاظ میں اس کا پانی بہانے کا حکم ہے۔ • پانی بہانا، برتن دھونے کے خلاف نہیں؛ پانی بہا کر برتن دھویا جاسکتا ہے۔ اس مثال میں یہ اضافہ اوثق راوی کی روایت کے خلاف نہیں، اسی لیے اسے مقبول کہا گیا ہے۔

6. صرف ثقہ ہونا کافی نہیں

اگر اضافی بات اوثق راوی کی روایت کے خلاف ہو تو اسے صرف اس لیے مقبول نہیں کہیں گے کہ اسے نقل کرنے والا ثقہ ہے۔ یہاں دونوں باتیں ضروری ہیں: • اضافی بات نقل کرنے والا ثقہ ہو۔ • اس کا اضافہ اوثق راوی کی روایت کے خلاف نہ ہو۔

7. روایت اور وضاحت الگ ہیں

استاد کسی حدیث کا مطلب آسان لفظوں میں سمجھائے تو وہ وضاحت ہے، حدیث کی دوسری روایت نہیں۔ اس سبق میں «مقبول» کا تعلق راوی سے نقل ہونے والی اضافی بات کے قبول ہونے سے ہے۔ کسی اچھی وضاحت یا ہر اضافی جملے کو یہ نام نہیں دیا جاتا۔

8. خلاصہ

• ایک ہی حدیث کی روایتوں میں کسی لفظ یا جملے کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ • ثقہ راوی کا اضافہ اوثق راوی کی روایت کے خلاف نہ ہو تو وہ یہاں مقبول ہے۔ • پانی بہانے کی بات، برتن دھونے کے خلاف نہیں؛ اسی سے مثال میں اضافے کے قبول ہونے کی وجہ سمجھ آتی ہے۔ • نقل شدہ الفاظ اور استاد کی وضاحت الگ رہیں گے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

پانی بہانے کے اضافی الفاظ، برتن دھونے کی روایت کے ساتھ کیوں قبول ہوئے؟

  • کیونکہ یہ سات بار دھونے کی جگہ لے لیتے ہیں۔
  • کیونکہ پانی بہانا، برتن دھونے کے خلاف نہیں۔
  • کیونکہ ہر اضافی جملہ قبول کیا جاتا ہے۔

سوال 2

ثقہ راوی کا اضافہ اوثق کی روایت کے خلاف بھی ہو تو اس سبق کی تعریف کے مطابق اسے مقبول کہیں گے۔

  • درست
  • غلط

سوال 3

ہر بیان کو اس کی صحیح حیثیت سے ملائیں۔

سوال 4

ایک راوی نے اضافی الفاظ نقل کیے۔ ہمیں صرف یہ معلوم ہے کہ وہ اوثق کی روایت کے خلاف نہیں۔ مقبول کی اس تعریف کے لیے اور کیا معلوم ہونا چاہیے؟

  • یہ کہ اضافہ نقل کرنے والا ثقہ راوی ہے۔
  • یہ کہ اضافی الفاظ زیادہ مختصر ہیں۔
  • یہ کہ وضاحت پڑھنے میں زیادہ آسان ہے۔

تعاملی کوئز کھولیں