مقطوع روایت: تابعی کی طرف نسبت

طالب علم حدیث کو نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا حال کی روایت کے طور پر پہچان سکے۔ مقطوع روایت: تابعی کی طرف نسبت کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں کیا سیکھیں گے؟

اس سبق میں مقطوع روایت کو پہچاننا سیکھیں گے: تابعی اپنی بات کہہ رہے ہیں، یا کسی اور کی بات نقل کر رہے ہیں؟ تابعی کی یاد دہانی: وہ مسلمان جو خود صحابی نہ ہوں، مگر کسی صحابی سے ایمان کی حالت میں ملے ہوں۔

2. حسن بصری رحمہ اللہ کا اپنا قول

حسن بصری رحمہ اللہ تابعی ہیں۔ بدعت والے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں ان کا قول ہے:1 صَلِّ وَعَلَيْهِ بِدْعَتُهُ (صحیح البخاری، کتاب الأذان، باب إمامة المفتون والمبتدع) ترجمہ: نماز پڑھ لو؛ اس کی بدعت کا گناہ اسی پر ہے۔ یہ حسن بصری رحمہ اللہ کی اپنی بات ہے؛ اسی لیے مقطوع روایت کی مثال ہے۔ 1. بدعت: ایسا عقیدہ یا عمل جو نبی کریم ﷺ، صحابہ اور تابعین کے بعد دین کے نام پر ایجاد یا اختیار کیا گیا ہو۔ نماز کے اس مسئلے کی تفصیل یہاں موضوع نہیں۔

3. مقطوع روایت کی تعریف

مقطوع وہ روایت ہے جس میں کسی تابعی کا اپنا قول یا فعل نقل ہو۔ • قول: تابعی کی اپنی کہی ہوئی بات۔ • فعل: تابعی کا اپنا کیا ہوا کام۔ اس لیے مقطوع روایت صرف الفاظ نقل کرنے تک محدود نہیں؛ تابعی کا عمل بیان کرنا بھی اس میں شامل ہے۔

4. تابعی کا اپنا قول یا کسی اور کی بات؟

تابعی کسی اور کی بات بھی نقل کر سکتے ہیں۔ فرق یہ ہے: • تابعی کی اپنی بات یا اپنا عمل: مقطوع روایت۔ • تابعی نے صحابی کا اپنا قول نقل کیا: بات صحابی کی ہے، تابعی کی نہیں؛ یہ موقوف کی صورت ہے۔ • تابعی نے نبی کریم ﷺ کا فرمان نقل کیا: فرمان نبی کریم ﷺ کا ہے، تابعی کا اپنا قول نہیں۔ صرف راوی کا تابعی ہونا کافی نہیں۔ پہلے معلوم کریں کہ نقل ہونے والی بات یا عمل کس کا ہے۔

5. نام اور قبولیت میں فرق

مقطوع کا نام تابعی کی طرف نسبت بتاتا ہے، روایت کی قبولیت کا فیصلہ نہیں کرتا۔ • قبولیت کی شرطیں پوری ہوں تو روایت قبول کی جاتی ہے۔ • شرطیں پوری نہ ہوں تو قبول نہیں کی جاتی۔ اس لیے نہ ہر مقطوع روایت کو صرف اس نام کی وجہ سے قبول کریں، نہ رد کریں۔

6. سبق کا خلاصہ

• مقطوع روایت: تابعی کا اپنا قول یا فعل نقل ہو۔ • مثال: حسن بصری رحمہ اللہ کا اپنا قول۔ • اہم فرق: تابعی کا کسی اور کی بات نقل کرنا، ان کا اپنا قول ہونا نہیں ہے۔ • قبولیت: اس کا فیصلہ قبولیت کی شرطوں کے مطابق ہوگا۔

مشق کے سوالات

سوال 1

حسن بصری رحمہ اللہ تابعی ہیں۔ نماز کے بارے میں ان کا اپنا قول نقل ہوا ہے۔ اسے مقطوع کہنے کی وجہ کیا ہے؟

  • یہ قول نماز کے بارے میں ہے۔
  • یہ خود تابعی کی بات نقل ہوئی ہے۔
  • یہ قول عربی زبان میں ہے۔

سوال 2

کسی روایت میں تابعی کے اپنے کیے ہوئے کام کا ذکر ہو، مگر ان کے الفاظ نقل نہ ہوں، تو کیا وہ مقطوع ہو سکتی ہے؟

  • نہیں؛ اس میں تابعی کا قول ہونا ضروری ہے۔
  • نہیں؛ عمل ہمیشہ کسی اور کی طرف منسوب ہوتا ہے۔
  • ہاں؛ تابعی کا اپنا فعل بھی تعریف میں شامل ہے۔

سوال 3

ہر بیان کو مناسب نتیجے سے ملائیں۔

سوال 4

ہر مقطوع روایت صرف مقطوع ہونے کی وجہ سے رد کر دی جاتی ہے۔

  • درست
  • غلط

سوال 5

ایک تابعی نے کسی صحابی کا اپنا قول نقل کیا ہے۔ اس قول کی نسبت کس کی طرف ہوگی؟

  • صحابی کی طرف؛ تابعی یہاں راوی ہیں۔
  • تابعی کی طرف؛ کیونکہ انہوں نے اسے نقل کیا ہے۔
  • دونوں کی طرف، دونوں کا اپنا قول ہوگا۔

تعاملی کوئز کھولیں