اگر راویوں کی کثرت حدِ تواتر تک پہنچ جائے اور تواتر کی باقی شرطیں بھی پوری ہوں، تو صرف «تین سے زیادہ راوی» کہہ کر اسے مشہور ہی کیوں نہیں کہیں گے؟

مشہور حدیث اور مستفیض کے دو استعمال