موقوف روایت: صحابی کی طرف نسبت

طالب علم حدیث کو نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا حال کی روایت کے طور پر پہچان سکے۔ موقوف روایت: صحابی کی طرف نسبت کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں کیا سیکھیں گے؟

روایت میں یہ دیکھیں گے کہ بات کس کی ہے: صحابی اپنی بات کہہ رہے ہیں، یا نبی کریم ﷺ کا فرمان نقل کر رہے ہیں؟ اسی فرق سے موقوف روایت کو پہچاننا سیکھیں گے۔ مختصر یاد دہانی: صحابی وہ ہیں جو نبی کریم ﷺ سے ایمان کی حالت میں ملے اور ایمان ہی پر وفات پائی۔

2. حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اپنا قول

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کا ایک حصہ ہے: حَدِّثُوا النَّاسَ بِمَا يَعْرِفُونَ (صحیح البخاری: 127) ترجمہ: لوگوں سے وہ باتیں بیان کرو جو وہ سمجھ سکیں۔ • یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اپنی بات ہے۔ • حضرت علی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔ • اس لیے یہ موقوف روایت کی مثال ہے: یہاں صحابی کا اپنا قول نقل ہوا ہے۔

3. موقوف روایت کی تعریف

موقوف وہ روایت ہے جس کی نسبت کسی صحابی کی طرف ہو؛ یعنی اس میں صحابی کا اپنا قول، فعل یا تقریر نقل ہو۔1 • قول: صحابی کی اپنی کہی ہوئی بات۔ • فعل: صحابی کا اپنا کیا ہوا کام۔ • تقریر: کسی کام کا علم ہونے پر صحابی کا اسے منظور کرنا یا منع نہ کرنا۔ اس لیے موقوف روایت صرف صحابی کے الفاظ نقل کرنے تک محدود نہیں۔ 1. نسبت: یہاں کسی بات یا عمل کو اس شخص کی طرف منسوب کرنا مراد ہے جس کی وہ بات یا عمل بیان ہو رہا ہے۔

4. صحابی راوی ہوں، بات نبی کریم ﷺ کی ہو

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے یہ فرمان سنا اور نقل کیا: إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (صحیح البخاری: 1، ابتدائی حصہ) ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ • راوی: حضرت عمر رضی اللہ عنہ۔ • فرمان: نبی کریم ﷺ کا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا قول نہیں۔ اسے صرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے راوی ہونے کی وجہ سے موقوف نہیں کہیں گے۔ سند میں صرف صحابی کا نام دیکھنا کافی نہیں؛ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کس کی بات یا عمل نقل ہوا ہے۔

5. موقوف ہونے سے کیا معلوم ہوتا ہے؟

موقوف کہنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت میں صحابی کی بات، عمل یا رضامندی نقل کی گئی ہے۔ اس سے یہ فیصلہ نہیں ہو جاتا کہ وہ روایت قابلِ قبول بھی ہے۔ • قبولیت کی شرطیں پوری ہوں تو موقوف روایت قبول کی جاتی ہے۔ • شرطیں پوری نہ ہوں تو اسے قبول نہیں کیا جاتا۔ یہ فیصلہ سند اور متن کی تحقیق سے ہوتا ہے، صرف «موقوف» کے نام سے نہیں۔

6. سبق کا خلاصہ

• موقوف روایت: کسی صحابی کا اپنا قول، فعل یا تقریر نقل ہو۔ • اہم فرق: صحابی کا نبی کریم ﷺ کا فرمان نقل کرنا، صحابی کا اپنا قول ہونا نہیں ہے۔ • قبولیت: موقوف روایت کی قبولیت کا فیصلہ اس کی تحقیق سے ہوگا، صرف اس نام سے نہیں۔ روایت پڑھتے وقت پوچھیں: اس میں بات یا عمل کس کا ہے؟

مشق کے سوالات

سوال 1

حضرت علی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔ «لوگوں سے وہ باتیں بیان کرو جو وہ سمجھ سکیں» ان کا اپنا قول نقل ہوا ہے۔ اسے موقوف کہنے کی اصل وجہ کیا ہے؟

  • اس قول میں لوگوں کو اچھی نصیحت کی گئی ہے۔
  • یہ قول خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے۔
  • اس قول کو حدیث کے ایک مجموعے میں درج کیا گیا ہے۔

سوال 2

ایک روایت میں کسی صحابی کے اپنے کیے ہوئے کام کا ذکر ہے، ان کے الفاظ نقل نہیں ہوئے۔ کیا صرف الفاظ نقل نہ ہونے کی وجہ سے اسے موقوف نہیں کہیں گے؟

  • ہاں؛ موقوف میں صحابی کے الفاظ نقل ہونا ضروری ہے۔
  • ہاں؛ الفاظ کے بغیر معلوم نہیں ہوتا کہ عمل کس کا ہے۔
  • نہیں؛ صحابی کا اپنا کام نقل ہونا بھی تعریف میں آتا ہے۔

سوال 3

ہر بیان کو اس سے نکلنے والے مناسب نتیجے سے ملائیں۔

سوال 4

کسی روایت کو موقوف کہہ دیا جائے تو اس کی قبولیت بھی ثابت ہو جاتی ہے؛ مزید تحقیق کی ضرورت نہیں رہتی۔

  • درست
  • غلط

سوال 5

ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ کسی صحابی کو ایک کام کا علم ہوا اور انہوں نے اسے منظور کیا۔ کام کرنے والا کوئی اور تھا۔ موقوف کی تعریف میں یہ کس وجہ سے آئے گا؟

  • اس میں صحابی کی تقریر، یعنی منظوری، نقل ہوئی ہے۔
  • اس میں صحابی کا اپنا کیا ہوا کام نقل ہوا ہے۔
  • اس میں صحابی کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ نقل ہوئے ہیں۔

تعاملی کوئز کھولیں