منکر: ثقہ کی مخالفت کرنے والی ضعیف روایت

اصل مثال میں نسبت کا فرق سمجھیں۔ منکر: ثقہ کی مخالفت کرنے والی ضعیف روایت کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں

ایک ہی بات کو نبی ﷺ کا فرمان کہنا اور ابن عباسؓ کا قول کہنا ایک بات نہیں۔ اصل مثال میں یہی فرق سامنے آئے گا۔ اس سے منکر سمجھیں گے: ضعیف راوی کی روایت، ثقہ یعنی قابلِ اعتماد راوی کی روایت کے خلاف ہو۔

2. منکر کی تعریف

ضعیف راوی کی وہ روایت جو ثقہ راوی کی روایت کے خلاف ہو، منکر کہلاتی ہے۔ • راوی ضعیف ہے۔ • اس کی روایت ثقہ کی روایت کے خلاف ہے۔ 1. ضعیف: یہاں روایت نقل کرنے میں کمزوری مراد ہے، جسمانی کمزوری نہیں۔

3. نسبت کے فرق کی مثال

مَنْ أَقَامَ الصَّلَوٰةَ وَآتَى الزَّكَوٰةَ وَحَجَّ الْبَيْتَ وَصَامَ رَمَضَانَ وَقَرَى الضَّيْفَ دَخَلَ الْجَنَّةَ (طبرانی: ۱۲۶۹۲) مفہوم: جس نے نماز قائم کی، زکوٰۃ دی، بیت اللہ کا حج کیا، رمضان کے روزے رکھے اور مہمان کی خاطر تواضع کی، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ نبی ﷺ کی طرف منسوب اس روایت کو یہاں منکر کی مثال کے طور پر سمجھیں گے۔

4. روایت کا متعلقہ سلسلہ

• حبیب بن حبیب نے ابو اسحاق سے روایت کی۔ • ابو اسحاق نے عیزار بن حریث سے روایت کی۔ • عیزار بن حریث نے ابن عباسؓ سے روایت کی۔ • اس صورت میں ابن عباسؓ سے بات نبی ﷺ کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ یہ سند کا متعلقہ حصہ ہے، پوری سند نہیں۔

5. مرفوع اور موقوف

• نبی ﷺ کی طرف منسوب روایت یہاں مرفوع ہے۔ • صحابی کے قول کے طور پر آنے والی روایت یہاں موقوف ہے۔ حبیب بن حبیب کے علاوہ دوسرے راویوں نے اسی بات کو ابن عباسؓ کا قول نقل کیا ہے۔ یہ موقوف صورت ہے۔ 1. ابن عباسؓ: صحابی عبد اللہ بن عباسؓ مراد ہیں۔

6. منکر ہونے کی وجہ

امام ہیثمی نے حبیب بن حبیب کو ضعیف کہا ہے۔ یہاں ان کی روایت دوسری معتبر روایت کے خلاف ہے: دوسروں نے ابن عباسؓ کا قول نقل کیا، انہوں نے اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب کیا۔ • ابن عباسؓ پر رکنے والی موقوف روایت یہاں معروف ہے۔ • نبی ﷺ کی طرف منسوب مرفوع روایت یہاں منکر ہے۔ امام ابو زرعہ نے بھی اسے منکر کہا اور واضح کیا کہ یہ ابن عباسؓ سے موقوف ہے۔

7. ہر مرفوع روایت منکر نہیں

مرفوع بتاتا ہے کہ روایت کس کی طرف منسوب ہے؛ صرف یہ نام اس کے درست ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں کرتا۔ یہاں منکر ہونے کی وجہ صرف نبی ﷺ کی طرف نسبت نہیں، بلکہ ضعیف راوی کی معتبر روایت سے مخالفت ہے۔ اسی طرح ہر موقوف روایت کو صرف موقوف ہونے سے معروف نہیں کہیں گے۔

8. خلاصہ

• ضعیف راوی کی روایت ثقہ کی روایت کے خلاف ہو تو بیان کردہ تعریف میں منکر ہے۔ • اصل مثال میں دوسروں نے ابن عباسؓ کا قول نقل کیا؛ حبیب بن حبیب نے اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب کیا۔ • یہاں موقوف صورت معروف اور مرفوع صورت منکر ہے؛ یہ ہر موقوف اور مرفوع روایت کا عمومی حکم نہیں۔

مشق کے سوالات

سوال 1

ضعیف اور ثقہ راوی کی روایتیں مخالف ہوں تو منکر کس کی روایت ہے؟

  • ثقہ کی
  • ضعیف کی
  • دونوں کی

سوال 2

صرف مرفوع ہونے سے ہر روایت منکر ہوجاتی ہے۔

  • درست
  • غلط

سوال 3

اس مثال میں نسبت کو اس کے نام سے ملائیں۔

سوال 4

اصل مثال میں منکر ہونے کی وجہ کون سی ہے؟

  • ضعیف راوی نے معتبر روایت کے خلاف نبی ﷺ کی طرف نسبت کی۔
  • حج اور روزے کے ساتھ مہمان نوازی کا ذکر بھی آیا۔
  • معتبر راویوں نے ابن عباسؓ کا اپنا قول نقل کیا۔

تعاملی کوئز کھولیں