حدیثِ مسند اور مسند کی کتاب

جڑی ہوئی سند، نبی ﷺ کی طرف نسبت، اور ایک الگ کتابی استعمال۔ حدیثِ مسند اور مسند کی کتاب کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے ایک حدیث روایت کرتے ہیں، اور ان تک پہنچنے والے راویوں کا سلسلہ بھی موجود ہے۔ اس مثال سے حدیثِ مسند کی دو باتیں سمجھیں گے: سند کا جڑا ہونا اور نسبت نبی ﷺ کی طرف ہونا۔ آخر میں مسند نام کی کتاب کی ترتیب بھی دیکھیں گے۔

2. مسند کی دو شرطیں

حدیثِ مسند وہ ہے جو: • متصل ہو: سند سے کوئی راوی چھوٹا نہ ہو۔ • مرفوع ہو: حدیث کی نسبت نبی ﷺ تک پہنچتی ہو۔ اس تعریف میں دونوں باتیں جمع ہیں؛ صرف ایک بات کافی نہیں۔

3. حدیث کی مثال

إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا (صحیح بخاری: 172) ترجمہ: جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں سے پی لے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے۔ اب اس حدیث کی سند اور نبی ﷺ کی طرف نسبت دیکھیں گے۔

4. مثال کی سند

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آگے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا۔ اس طرح حدیث کی نسبت نبی ﷺ تک پہنچتی ہے۔

5. سند کو آسانی سے سمجھیں

• عبداللہ بن یوسف نے مالک سے روایت کی۔ • مالک نے ابوالزناد سے، اور ابوالزناد نے اعرج سے۔ • اعرج نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ • ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان بیان کیا۔ یہ اسی مثال کی ترتیب ہے؛ سند کے ساتھ یہ بھی معلوم ہے کہ فرمان کس کی طرف منسوب ہے۔

6. یہ مثال مسند کیوں ہے؟

دو باتیں ایک ساتھ موجود ہیں: • راویوں کی سند مکمل اور متصل ہے۔ • حدیث کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے۔ اسی لیے اسے مسند کہتے ہیں۔ یہاں صرف متن کے مضمون سے نام نہیں دیا جارہا؛ سند اور نسبت دونوں دیکھی جارہی ہیں۔

7. مسند ہونا اور روایت کا درجہ

مسند کا حکم اس لحاظ سے متصل جیسا ہے: راویوں کے حالات کے مطابق روایت صحیح بھی ہوسکتی ہے اور ضعیف بھی۔ مسند کا نام بتاتا ہے کہ سند جڑی ہے اور نسبت نبی ﷺ کی طرف ہے۔ یہ نام اکیلا صحیح ہونے کا فیصلہ نہیں کرتا۔

8. ایک شرط کافی نہیں

• صرف یہ کہنا کہ روایت نبی ﷺ کی طرف منسوب ہے، سند کے جڑے ہونے کو ثابت نہیں کرتا۔ • صرف سند کے جڑے ہونے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ نسبت نبی ﷺ تک پہنچی ہے۔ مسند کی اس تعریف میں اتصال اور مرفوع ہونا دونوں ضروری ہیں۔

9. مسند نام کی کتاب

کتابوں کی ترتیب میں مسند کا ایک اور استعمال ہے: ہر صحابی کی روایتیں اس کے نام کے تحت جمع کی جائیں۔ صحابہ کی ترتیب فضیلت، پہلے اسلام لانے، یا حروفِ تہجی کے لحاظ سے ہوسکتی ہے۔ مثالیں: مسندِ احمد، مسندِ ابوداؤد طیالسی، مسندِ حمیدی۔ یہ کتاب کی ترتیب کا نام ہے؛ اسے کسی ایک حدیث کی سند اور نسبت والی تعریف سے الگ سمجھیں۔

10. خلاصہ

• حدیثِ مسند میں سند متصل اور نسبت نبی ﷺ کی طرف ہوتی ہے۔ • ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مثال میں یہی دونوں باتیں موجود ہیں۔ • مسند کا نام اکیلا صحیح ہونے کا فیصلہ نہیں کرتا۔ • مسند نام کی کتاب میں روایتیں صحابہ کے ناموں کے تحت جمع ہوتی ہیں؛ یہ لفظ کا الگ استعمال ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

مسند حدیث میں کون سی دو باتیں جمع ہیں؟

  • متصل سند اور نبی ﷺ کی طرف نسبت۔
  • مختصر متن اور راویوں کی زیادہ تعداد۔
  • صرف نبی ﷺ کی طرف نسبت۔

سوال 2

صرف مسند کہنے سے روایت لازماً صحیح ہوجاتی ہے۔

  • درست
  • غلط

سوال 3

مثال میں ہر راوی کو اس شخص سے ملائیں جس سے اس نے روایت کی۔

سوال 4

مثال کو مسند کہنے کی مکمل وجہ کیا ہے؟

  • اس میں برتن دھونے کا ذکر ہے۔
  • سند مکمل ہے اور نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے۔
  • اس میں صرف ایک راوی کا نام موجود ہے۔

سوال 5

مسند نام کی کتاب میں روایتیں صحابہ کے ناموں کے تحت جمع ہوتی ہیں۔

  • درست
  • غلط

سوال 6

صحابہ کے لحاظ سے مرتب مسند میں ان کی ترتیب کس طرح ہوسکتی ہے؟

  • صرف روایت کے متن کی لمبائی کے لحاظ سے۔
  • صرف سوالوں کی تعداد کے لحاظ سے۔
  • فضیلت، پہلے اسلام لانے، یا حروفِ تہجی کے لحاظ سے۔

تعاملی کوئز کھولیں