ایک طالب علم کہتا ہے: «مجھے دونوں حدیثوں کا مفہوم سمجھ نہیں آیا، اس لیے یہ متوقف فیہ ہیں۔» اس بات میں کیا کمی ہے؟

متوقف فیہ: فیصلہ کب روکا جاتا ہے؟