متواتر حدیث: راویوں کی کثرت اور چار شرطیں
طالب علم حدیث کو نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا حال کی روایت کے طور پر پہچان سکے۔ متواتر حدیث: راویوں کی کثرت اور چار شرطیں کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اس سبق میں کیا سیکھیں گے؟
حدیث بیان کرنے والے لوگوں کو راوی کہتے ہیں۔ اب راویوں کی تعداد کے اعتبار سے حدیث کی ایک قسم، متواتر، سمجھیں گے۔ اس سبق کے بعد آپ اس کی چار شرطیں بیان کر سکیں گے اور سمجھ سکیں گے کہ صرف کسی حدیث کا بہت مشہور ہونا کافی کیوں نہیں۔
2. جھوٹی نسبت سے متعلق نبوی فرمان
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ (صحیح مسلم، مقدمہ: 3) ترجمہ: جو شخص جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے، وہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنا لے۔ یہ متواتر حدیث کی مثال ہے۔ یہاں متواتر کہنے کا تعلق اس فرمان کو نقل کرنے والے راویوں کی کثرت سے ہے، نہ کہ صرف اس کے سخت تنبیہ والے مضمون سے۔
3. بہت سے راوی: دو ضروری شرطیں
متواتر وہ حدیث ہے جس کے راوی ہر زمانے میں اتنے زیادہ ہوں کہ ان سب کا جھوٹ پر جمع ہونا معمول کے مطابق ممکن نہ ہو۔ • پہلی شرط: راویوں کی تعداد بہت زیادہ ہو۔ • دوسری شرط: یہ کثرت ایسی ہو کہ نہ سب کا مل کر جھوٹ طے کرنا ممکن سمجھا جائے، نہ اتفاقاً سب سے ایک ہی جھوٹ بیان ہو جانا۔ اس لیے صرف «کئی راوی ہیں» کہہ دینا کافی نہیں۔
4. ہر زمانے میں یہی کثرت
تیسری شرط: سند کے شروع سے آخر تک، راویوں کے ہر زمانے میں یہ کثرت موجود ہو۔ سند سے مراد یہ ترتیب ہے کہ حدیث کس نے کس سے لی۔ صرف بعد کے زمانے میں راوی بہت بڑھ جائیں تو پہلے زمانے کی کمی پوری نہیں ہوتی۔ مثلاً کسی حدیث کے بارے میں صرف یہ معلوم ہو کہ بعد میں اسے بہت سے لوگوں نے نقل کیا، تو اتنی معلومات سے اسے متواتر نہیں کہہ سکتے۔
5. خبر کی بنیاد سنی یا دیکھی ہوئی بات
چوتھی شرط: روایت کی بنیاد کسی حِس سے معلوم ہونے والی بات ہو، جیسے خود سننا یا دیکھنا؛ محض سوچ کر نکالا ہوا نتیجہ نہ ہو۔ • کسی بات کو سن کر بیان کرنا، سنی ہوئی بات کی خبر دینا ہے۔ • بہت سے لوگوں کا ایک ہی نتیجہ سوچ لینا، اس بات کو سننا یا دیکھنا نہیں بن جاتا۔ نبوی فرمان کی روایت میں اصل بنیاد فرمان کا سنا جانا ہے، صرف یہ خیال نہیں کہ ایسا فرمایا ہوگا۔
6. آج کی مقبولیت کافی نہیں
• آج بہت لوگ بیان کرتے ہوں: اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہر پہلے زمانے میں بھی مطلوبہ کثرت تھی۔ • ایک عبارت بار بار چھپے: نقلوں کی گنتی، راویوں کی گنتی نہیں۔ • بہت لوگ ایک رائے رکھتے ہوں: مشترک رائے، سنی یا دیکھی ہوئی بات کی روایت کے برابر نہیں۔ متواتر سمجھنے کے لیے چاروں شرطیں ساتھ دیکھنی ہوتی ہیں۔
7. متواتر حدیث سے یقین حاصل ہوتا ہے
جب حدیث میں تواتر کی شرطیں پوری ہوں تو اس سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے؛ صرف یہ گمان نہیں رہتا کہ شاید بات درست ہو۔ اسے علمِ قطعی بدیہی کہتے ہیں: ایسا یقین جو اس طرح خبر پہنچنے ہی سے حاصل ہوتا ہے۔1 1. قطعی: یقینی۔ بدیہی: خبر کے اس طرح پہنچنے سے علم حاصل ہونا، الگ دلیل جوڑ کر نتیجہ نکالنے کی حاجت نہ رہنا۔
8. انکار سے متعلق عمومی اصول
ثابت شدہ متواتر حدیث کا انکار کفر ہے۔ یہاں کفر ایمان کی نفی کا اعتقادی حکم ہے۔ یہ ایک عمومی اصول بیان ہو رہا ہے؛ کسی خاص شخص یا اختلاف والی کسی خاص صورت کا فیصلہ نہیں کیا جا رہا۔ کسی روایت کو محض «متواتر» کہہ دینے سے اس کی شرطیں ثابت نہیں ہوتیں، اور اس سبق سے کسی شخص پر حکم لگانا نہیں سیکھ رہے۔
9. سبق کا خلاصہ
متواتر حدیث کو راویوں کی تعداد کے اعتبار سے پہچانا جاتا ہے۔ اس کی چار شرطیں ہیں: • راوی بہت زیادہ ہوں۔ • سب کا مل کر یا اتفاقاً ایک ہی جھوٹ بیان کرنا معمول کے مطابق ممکن نہ ہو۔ • یہ کثرت سند کے ہر زمانے میں موجود ہو۔ • روایت کی بنیاد حِس، مثلاً سننے یا دیکھنے پر ہو، محض اندازے پر نہیں۔ اس سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔ انکار کا عمومی اصول بیان ہوا ہے، کسی فرد پر اس کا اطلاق نہیں۔
مشق کے سوالات
سوال 1
کسی حدیث کے بارے میں صرف یہ معلوم ہے کہ وہ آج بہت سے مجموعوں میں چھپی ہے۔ متواتر ہونے کے لیے کون سی معلومات درکار ہیں؟
- اس وقت چھپنے والے مجموعوں کی کل تعداد۔
- ہر زمانے کے راویوں اور باقی شرطوں کی تفصیل۔
- آج اس حدیث کو پڑھنے والوں کی کل تعداد۔
سوال 2
متواتر حدیث کی مثال میں جھوٹی نسبت پر سخت تنبیہ آئی ہے۔ اس حدیث کے متواتر ہونے کی وجہ کس بات سے متعلق ہے؟
- فرمان میں بیان کی گئی تنبیہ کی سختی سے۔
- فرمان کے مختصر اور آسانی سے یاد ہونے سے۔
- اسے نقل کرنے والے راویوں میں تواتر کی شرطوں سے۔
سوال 3
ہر صورت کو اس شرط سے ملائیں جو پوری نہیں ہو رہی۔
سوال 4
تواتر کی شرطیں پوری ہوں تو بھی حدیث سے صرف امکان معلوم ہوتا ہے، یقین نہیں۔
سوال 5
دوسری شرط میں صرف یہ دیکھنا کافی کیوں نہیں کہ راویوں نے مل کر جھوٹ طے نہیں کیا؟
- سب سے اتفاقاً ایک ہی جھوٹ نکلنا بھی معمول کے مطابق ناممکن ہو۔
- سب راویوں کا ایک ہی زمانے میں جمع ہونا بھی ضروری ہو۔
- سب راویوں کا روایت کو اپنے خیال سے درست سمجھنا بھی کافی ہو۔
تعاملی کوئز کھولیں