قول، فعل، تقریر اور حال: مثالوں سے پہچان

طالب علم حدیث کو نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا حال کی روایت کے طور پر پہچان سکے۔ قول، فعل، تقریر اور حال: مثالوں سے پہچان کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں کیا سیکھیں گے؟

پچھلے سبق میں حدیث کی تعریف پڑھی: نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر اور حال کا بیان۔ آج مختصر مثالیں پڑھ کر پہچانیں گے: • آپ ﷺ نے کیا فرمایا؟ • آپ ﷺ نے کیا کیا؟ • آپ ﷺ کے سامنے کس کام کی اجازت ظاہر ہوئی؟ • آپ ﷺ کی کون سی صفت بیان ہوئی؟ مقصد: مثال کی متعلقہ بات پہچاننا اور اپنی وجہ بتانا۔

2. قول: آپ ﷺ کا فرمان

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (صحیح البخاری: 1) ترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ • قول کا مطلب ہے آپ ﷺ کی کہی ہوئی بات۔ • یہاں نیتوں کے بارے میں آپ ﷺ کا فرمان نقل ہوا ہے، اس لیے یہ قول کی مثال ہے۔

3. فعل: آپ ﷺ کا عمل

نماز شروع کرنے کے بارے میں یہ بات نقل ہوئی ہے: كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ (صحیح البخاری: 735) ترجمہ: آپ ﷺ نماز شروع کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے تھے۔ • فعل کا مطلب ہے آپ ﷺ کا کیا ہوا کام۔ • یہاں ہاتھ اٹھانے کا عمل بتایا گیا ہے؛ کوئی فرمان نقل نہیں کیا گیا۔ اس لیے متعلقہ بات فعل ہے۔

4. تقریر: دیکھ کر منع نہ فرمانا

حضرت خالد بن ولیدؓ نے نبی کریم ﷺ کے سامنے ضب1 کا گوشت کھایا۔ آپ ﷺ نے خود نہیں کھایا، لیکن پوچھنے پر بتایا کہ یہ حرام نہیں۔ خالدؓ کہتے ہیں: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ (صحیح البخاری: 5537) ترجمہ: میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور کھایا، اور رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔ • کھانے کا کام خالدؓ نے کیا؛ آپ ﷺ دیکھ رہے تھے اور آپ نے منع نہیں فرمایا۔ • اس طرح کسی کے کام پر آپ ﷺ کی رضامندی ظاہر ہو تو اس کے بیان کو تقریر کہتے ہیں۔ 1. ضب: عرب کے صحراؤں میں پایا جانے والا چھپکلی جیسی شکل کا ایک جانور؛ یہاں اس کے گوشت کا ذکر ہے۔

5. تقریر کا مطلب تقریر کرنا نہیں

عام اردو میں کسی مجمع سے خطاب کو تقریر کہتے ہیں۔ یہاں یہ مطلب نہیں۔ حدیث میں تقریر: آپ ﷺ کے علم میں کسی کی بات یا کام آئے اور آپ ﷺ کی رضامندی ظاہر ہو، مثلاً اسے دیکھ کر منع نہ فرمائیں۔ • خالدؓ کے واقعے میں آپ ﷺ کو کھانے کا علم تھا۔ • آپ ﷺ نے اسے حرام بھی نہیں بتایا اور کھاتے ہوئے منع بھی نہیں فرمایا۔ • آپ ﷺ کا خود نہ کھانا، یہاں منع کرنے کے معنی میں نہیں تھا۔

6. حال: آپ ﷺ کی صفت کا بیان

حضرت براء بن عازبؓ نے آپ ﷺ کے بارے میں بتایا: كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَرْبُوعًا، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ (صحیح البخاری: 3551) ترجمہ: نبی کریم ﷺ درمیانے قد کے تھے اور آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان کشادگی تھی۔ • حال میں آپ ﷺ کے حلیے، یعنی ظاہری شکل و صورت، اور اخلاقی صفات کا بیان بھی آتا ہے۔ • اس مثال میں قد اور کندھوں کی بناوٹ بتائی گئی ہے؛ کوئی خاص کام یا فرمان نہیں۔ اسی لیے یہ حال کی مثال ہے۔

7. ایک واقعے میں دو باتیں

خالدؓ کے واقعے کو دوبارہ دیکھیے: • آپ ﷺ نے بتایا کہ ضب حرام نہیں: یہاں آپ ﷺ کی کہی ہوئی بات، یعنی قول ہے۔ • خالدؓ نے کھایا اور آپ ﷺ نے دیکھ کر منع نہ فرمایا: یہاں آپ ﷺ کی رضامندی، یعنی تقریر ہے۔ پہچاننے کا طریقہ: دیکھیں سوال واقعے کی کس بات کے بارے میں ہے۔ ایک ہی واقعے میں ایک سے زیادہ باتیں بیان ہو سکتی ہیں۔

8. صرف کسی اور کا کام کافی نہیں

اگر صرف اتنا بتایا جائے کہ کسی شخص نے ایک کام کیا، تو اس سے نبی کریم ﷺ کی تقریر ثابت نہیں ہوتی۔ • یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ بات یا کام آپ ﷺ کے علم میں آیا۔ • اور آپ ﷺ کی رضامندی کا بیان موجود ہو۔ خالدؓ کے واقعے میں دونوں باتیں واضح ہیں: آپ ﷺ دیکھ رہے تھے اور منع نہیں فرما رہے تھے۔ فرق یاد رکھیں: آپ ﷺ کا اپنا کام فعل ہے؛ دوسرے کے کام پر آپ ﷺ کی رضامندی تقریر ہے۔

9. سبق کا خلاصہ

• قول: آپ ﷺ کی کہی ہوئی بات، جیسے نیتوں والا فرمان۔ • فعل: آپ ﷺ کا کیا ہوا کام، جیسے نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھانا۔ • تقریر: کسی کی بات یا کام پر آپ ﷺ کی رضامندی، جیسے خالدؓ کو کھاتے دیکھ کر منع نہ فرمانا۔ • حال: آپ ﷺ کی صفت کا بیان، جیسے درمیانہ قد۔ مثال پڑھ کر بتائیں: کون سی بات بیان ہوئی ہے، اور آپ کی وجہ کیا ہے؟

مشق کے سوالات

سوال 1

نماز کے آغاز میں آپ ﷺ کے ہاتھ اٹھانے کو فعل کیوں کہیں گے؟

  • کیونکہ یہ آپ ﷺ کی جسمانی بناوٹ بتاتا ہے۔
  • کیونکہ یہ آپ ﷺ کا کیا ہوا کام بتاتا ہے۔
  • کیونکہ یہ کسی اور کے کام پر اجازت بتاتا ہے۔

سوال 2

خالدؓ کے کھانے والے واقعے میں تقریر کی پہچان کس بات سے ہوتی ہے؟

  • خالدؓ نے کھانا اپنی طرف کھینچا۔
  • آپ ﷺ نے وہ کھانا خود نہیں کھایا۔
  • آپ ﷺ نے خالدؓ کو کھاتے دیکھا اور منع نہ فرمایا۔

سوال 3

ہر بیان کو مناسب اصطلاح سے ملائیں۔ صرف اسی بات کو دیکھیں جو لکھی ہے۔

سوال 4

کسی بیان میں صرف ایک شخص کے کام کا ذکر ہے۔ اسے نبی کریم ﷺ کی تقریر کہنے کے لیے کون سی بات مزید درکار ہے؟

  • اس شخص کا نام اور رہنے کی جگہ۔
  • وہ کام بیان کرنے والے کے اچھے الفاظ۔
  • آپ ﷺ کو اس کام کا علم اور آپ ﷺ کی رضامندی۔

سوال 5

خالدؓ کے واقعے میں آپ ﷺ کا یہ بتانا کہ وہ کھانا حرام نہیں، کس کی مثال ہے؟ یہاں صرف آپ ﷺ کے جواب کے بارے میں پوچھا گیا ہے۔

  • تقریر، کیونکہ پورے واقعے میں تقریر بھی ہے۔
  • قول، کیونکہ یہاں آپ ﷺ کی کہی ہوئی بات ہے۔
  • فعل، کیونکہ واقعے میں آپ ﷺ کے ہاتھ روکنے کا ذکر ہے۔

سوال 6

آپ ﷺ کی ظاہری صفت کا بیان بھی حدیث میں آتا ہے، چاہے اس حصے میں آپ ﷺ کا کوئی فرمان نقل نہ ہوا ہو۔

  • درست
  • غلط

تعاملی کوئز کھولیں