راجح اور مرجوح: ترجیح اور عمل

ترجیح کی صورت، دونوں اصطلاحات اور عمل کا حکم سمجھیں۔ راجح اور مرجوح: ترجیح اور عمل کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں

دو حدیثوں کے مفہوم ایک دوسرے کے خلاف ہوں، دونوں پر عمل کی صورت نہ بن سکے، اور یہ بھی معلوم نہ ہو کہ کون سی پہلے کی ہے۔ ایسی صورت میں اگر علمی وجہ سے ایک حدیث کو دوسری پر مقدم کیا جاسکے، تو ان دونوں کو کیا کہیں گے اور عمل کس پر ہوگا؟ یہی بات اس سبق میں سمجھیں گے۔

2. یہ صورت کب ہوتی ہے؟

دو حدیثوں کے مفہوم ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ ان میں یہ چار باتیں بھی موجود ہیں: • دونوں حدیثیں صحت، یعنی ثابت ہونے کے درجے میں برابر ہیں۔ • ان میں تطبیق ممکن نہیں: مفہوم اس طرح نہیں ملتا کہ دونوں پر عمل ہوسکے۔ • کسی کا پہلے یا بعد کا ہونا معلوم نہیں۔ • علمی وجہ سے ایک کو دوسری پر مقدم کرنا ممکن ہے۔ ان سب باتوں کو ساتھ رکھ کر آگے کی اصطلاحات سمجھیں۔

3. ترجیح اور راجح

ترجیح کا مطلب ہے علمی وجہ سے ایک حدیث کو دوسری پر مقدم کرنا، یعنی عمل کے لیے اسے اختیار کرنا۔ پچھلی سلائیڈ کی صورت میں جس حدیث کو ترجیح دی جائے، وہ راجح کہلاتی ہے۔ یہ اپنی پسند کا انتخاب نہیں؛ ترجیح کے لیے علمی وجہ ہوتی ہے۔

4. مرجوح

اسی مقابلے میں دوسری حدیث، جسے ترجیح نہیں دی گئی، مرجوح کہلاتی ہے۔ • راجح: جسے ترجیح ملی۔ • مرجوح: جس پر دوسری حدیث کو ترجیح ملی۔ یہاں مرجوح کہنے سے حدیث کو جھوٹا نہیں کہا جارہا؛ ابتدا میں دونوں کا صحت میں برابر ہونا بیان ہوا ہے۔

5. عمل کس پر ہوگا؟

جب تطبیق ممکن نہ ہو، پہلے اور بعد کی ترتیب معلوم نہ ہو، اور ترجیح ممکن ہو، تو صحت میں برابر ان حدیثوں میں سے راجح حدیث پر عمل کیا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ اس لیے نہیں کہ راجح حدیث لازماً بعد کی ہے؛ یہاں پہلے اور بعد کی ترتیب معلوم ہی نہیں۔ بنیاد ترجیح ہے۔

6. دو باتوں میں فرق

• دونوں حدیثوں کا مفہوم اس طرح مل جائے کہ دونوں پر عمل ہوسکے، تو اسے تطبیق کہتے ہیں؛ دونوں پر عمل کیا جاتا ہے۔ • اس سبق کی صورت میں تطبیق ممکن نہیں، پہلے اور بعد کی ترتیب بھی معلوم نہیں؛ اس لیے علمی ترجیح کی بنیاد پر راجح پر عمل ہوتا ہے۔ صرف کسی بات کا آسان یا پسندیدہ لگنا، اسے راجح قرار دینے کی وجہ نہیں۔

7. خلاصہ

• مفہوم میں مخالفت ہو؛ صحت میں برابر حدیثوں کی تطبیق ممکن نہ ہو، پہلے اور بعد کی ترتیب معلوم نہ ہو، مگر ترجیح ممکن ہو۔ • جسے ترجیح دی جائے وہ راجح، اور دوسری مرجوح ہے۔ • اس صورت میں عمل راجح پر ہوگا؛ ترجیح علمی وجہ سے ہوتی ہے، ذاتی پسند سے نہیں۔

مشق کے سوالات

سوال 1

دو حدیثیں صحت میں برابر ہیں، مفہوم میں مخالفت ہے، تطبیق ممکن نہیں اور پہلے یا بعد کا ہونا معلوم نہیں۔ ایک کو علمی وجہ سے ترجیح حاصل ہے۔ عمل کس پر ہوگا؟

  • جسے پہلے پڑھا گیا ہے، اس پر۔
  • جسے علمی ترجیح حاصل ہے، اس پر۔
  • جس کا مفہوم آسان لگتا ہے، اس پر۔

سوال 2

دو حدیثوں میں بظاہر مخالفت تھی، مگر ان کا مفہوم سمجھنے کے بعد دونوں پر عمل کی صورت واضح ہوگئی۔ اب کیا مناسب ہے؟

  • دونوں پر عمل کیا جائے، کیونکہ تطبیق ممکن ہے۔
  • ایک پر عمل کیا جائے، کیونکہ شروع میں فرق تھا۔
  • دونوں چھوڑ دی جائیں، کیونکہ پہلا تاثر مختلف تھا۔

سوال 3

بیان کردہ صورت میں ہر حدیث کی حیثیت کو درست اصطلاح سے ملائیں۔

سوال 4

راجح کہنے سے یہ لازماً ثابت ہوتا ہے کہ وہ حدیث زمانے کے لحاظ سے بعد کی ہے۔

  • درست
  • غلط

تعاملی کوئز کھولیں