صحیح لذاتہ: بخاری کی مثال اور حکم
اصل روایت میں سند اور متن پہچانیں اور صحیح حدیث پر عمل کے حکم کو سمجھیں۔ صحیح لذاتہ: بخاری کی مثال اور حکم کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. تعارف
اب صحیح لذاتہ کی ایک اصل مثال پڑھیں گے۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی نماز میں قراءت سنی اور اسے روایت کیا۔ اس مثال میں: • راویوں کے سلسلے اور اصل بات کو الگ پہچانیں گے۔ • صحیح حدیث پر عمل کے حکم کو سمجھیں گے۔
2. اصل روایت
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. (صحیح بخاری، 765) ترجمہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کو مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھتے سنا۔ متن روایت میں بیان ہونے والی اصل بات ہے۔ یہاں متن میں نبی ﷺ کی قراءت کا ذکر ہے۔
3. اس روایت کی سند
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مفہوم: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا: مالک نے ہمیں خبر دی، ابن شہاب سے، انہوں نے محمد بن جبیر بن مطعم سے، اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا۔ ان کے والد نے کہا: اس کے بعد «میں نے رسول اللہ ﷺ کو…» والی بات آتی ہے۔ اوپر راویوں کا سلسلہ سند ہے۔
4. اپنے والد سے
سند میں عَنْ أَبِيهِ کا مطلب ہے: «اپنے والد سے»۔ یہاں محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد جبیر بن مطعم سے روایت کر رہے ہیں۔ «میں نے سنا» کہنے والے جبیر بن مطعم ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی قراءت سنی؛ یہ نبی ﷺ کا اپنے بارے میں «میں نے سنا» کہنا نہیں ہے۔
5. یہ صحیح لذاتہ کی مثال ہے
یہ روایت صحیح لذاتہ کی مثال ہے۔ اس درجہ بندی میں پانچوں شرطیں جمع ہوتی ہیں: • تمام راوی معتبر ہوں اور حدیث کو سند سمیت خوب اچھی طرح یاد رکھتے یا لکھ لیتے ہوں۔ • سند میں کوئی راوی چھوٹا نہ ہو۔ • صحت کو متاثر کرنے والا پوشیدہ عیب نہ ہو۔ • ثقہ راوی کی روایت زیادہ معتبر راوی کی روایت کے خلاف نہ ہو۔ صرف سند کے نام پڑھ لینا، ان شرطوں کی علمی تحقیق نہیں ہے۔
6. صحیح حدیث پر عمل
صحیح لذاتہ پر عمل کرنا واجب ہے۔ یہاں واجب کا مطلب ہے: عمل کرنا لازم ہے۔ یہ صحیح حدیث پر عمل کا عمومی حکم ہے۔ اسے مثال کے الفاظ میں اپنی طرف سے اضافہ نہ بنائیں۔ اس روایت میں نبی ﷺ کا سورۃ الطور پڑھنا بیان ہوا ہے؛ «ہر مغرب میں سورۃ الطور ہی پڑھنا لازم ہے» اس متن میں نہیں کہا گیا۔
7. خلاصہ
• سند: اس مثال کے راویوں کا سلسلہ۔ • متن: جبیر بن مطعم کا نبی ﷺ کو مغرب میں سورۃ الطور پڑھتے سننا۔ • درجہ: صحیح لذاتہ کی مثال؛ اس درجے کی پانچوں شرطیں ضروری ہیں۔ • حکم: صحیح لذاتہ پر عمل واجب ہے۔ حدیث کی بیان کردہ بات، اس کا درجہ اور اس پر عمل کا حکم الگ الگ سمجھیں۔
مشق کے سوالات
سوال 1
اس مثال کا متن کس بات کو بیان کرتا ہے؟
- ہر مغرب میں سورۃ الطور پڑھنے کا حکم۔
- نبی ﷺ کی قراءت کو جبیر بن مطعم کا سننا۔
- محمد بن جبیر کا اپنے والد کو سورۃ الطور سنانا۔
سوال 2
صحیح حدیث پر عمل واجب ہونے سے اس مثال کا مطلب یہ ہوگیا کہ ہر مغرب میں سورۃ الطور ہی پڑھنا لازم ہے۔
سوال 3
ہر بات کو مناسب عنوان سے ملائیں۔
سوال 4
ایک طالب علم نے سند کے تمام نام پڑھ لیے۔ اس سے کون سی بات درست طور پر کہی جاسکتی ہے؟
- اس نے ہر راوی کی عدالت اور ضبط ثابت کردیا۔
- اس نے پوشیدہ عیب نہ ہونے کی تحقیق مکمل کرلی۔
- اس نے راویوں کے نام پڑھے، شرطوں کی تحقیق نہیں کی۔
تعاملی کوئز کھولیں