صحیح لذاتہ: باقی تین شرطیں

سند کے متصل ہونے، پوشیدہ عیب اور شاذ روایت کا مفہوم سمجھیں۔ صحیح لذاتہ: باقی تین شرطیں کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. تعارف

صحیح لذاتہ کی پہلی دو شرطیں راویوں کے بارے میں ہیں: • تمام راوی عادل، یعنی ثقہ اور معتبر ہوں۔ • تمام راوی تام الضبط ہوں، یعنی حدیث کو سند سمیت خوب اچھی طرح یاد رکھتے یا لکھ لیتے ہوں۔ اب سند کے جڑے ہونے، پوشیدہ عیب اور زیادہ معتبر راوی کی روایت سے مخالفت کے متعلق باقی تین شرطیں سمجھیں گے۔

2. سند متصل ہو

حدیث جن راویوں کے ذریعے پہنچی، ان کا سلسلہ سند کہلاتا ہے۔ اس سند سے کوئی راوی چھوٹا نہ ہو تو سند متصل ہے؛ یعنی راویوں کا سلسلہ جڑا ہوا ہے۔ صحیح لذاتہ کی تیسری شرط یہی ہے۔ راوی کا معتبر ہونا اور حدیث اچھی طرح محفوظ رکھنا، سند کے متصل ہونے کی جگہ نہیں لیتا۔

3. حدیث معلل نہ ہو

حدیث بظاہر درست معلوم ہو، لیکن اس میں ایسی پوشیدہ کمزوری ہو جو اس کی صحت پر اثر ڈالے۔ اس پوشیدہ عیب کو علتِ خفیہ کہتے ہیں، اور ایسی حدیث معلل کہلاتی ہے۔ صحیح لذاتہ کی چوتھی شرط ہے کہ حدیث معلل نہ ہو۔ صرف پہلی نظر میں درست معلوم ہونا کافی نہیں؛ صحت کو متاثر کرنے والا پوشیدہ عیب بھی نہ ہو۔

4. حدیث شاذ نہ ہو

راوی ثقہ، یعنی معتبر ہو، لیکن اس کی روایت اس سے زیادہ معتبر راوی کی روایت کے خلاف ہو۔ ایسی روایت کو یہاں شاذ کہتے ہیں۔ زیادہ معتبر راوی کے لیے اوثق کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ صحیح لذاتہ کی پانچویں شرط ہے کہ روایت شاذ نہ ہو۔ یہاں راوی کی صفت کے ساتھ اس کی روایت کا زیادہ معتبر راوی کی روایت سے تقابل بھی سامنے ہے۔1 1. تقابل: دو روایتوں کو ایک دوسرے کے سامنے رکھ کر دیکھنا۔

5. صرف الفاظ کا فرق کافی نہیں

دو روایتوں کے الفاظ مختلف ہونے کا ذکر ہو تو صرف اسی بات سے شاذ ہونے کا فیصلہ نہیں ہوگا۔ شاذ کی اس تعریف میں دو باتیں ساتھ ہیں: • روایت کرنے والا راوی ثقہ ہو۔ • اس کی روایت زیادہ معتبر راوی کی روایت کے خلاف ہو۔ صرف «الفاظ مختلف ہیں» کو پوری تعریف کی جگہ نہ رکھیں۔

6. پانچوں شرطیں ضروری ہیں

سند میں کوئی راوی نہ چھوٹا ہو، تب بھی پوشیدہ عیب اور شاذ ہونے سے متعلق شرطیں اپنی جگہ ضروری ہیں۔ اسی طرح راویوں کا معتبر ہونا، باقی شرطوں کی جگہ نہیں لیتا۔ صحیح لذاتہ کی تعریف میں پانچوں شرطیں جمع ہوتی ہیں۔ یہاں شرطوں کا مطلب سمجھ رہے ہیں۔ کسی خاص حدیث میں ان کا پورا ہونا ثابت کرنا الگ علمی تحقیق ہے۔

7. خلاصہ

صحیح لذاتہ وہ حدیث ہے جس میں یہ پانچ باتیں ہوں: • تمام راوی عادل، یعنی ثقہ اور معتبر ہوں۔ • تمام راوی تام الضبط ہوں: حدیث کو سند سمیت خوب اچھی طرح یاد رکھتے یا لکھ لیتے ہوں۔ • سند متصل ہو: کوئی راوی چھوٹا نہ ہو۔ • حدیث معلل نہ ہو: صحت کو متاثر کرنے والا پوشیدہ عیب نہ ہو۔ • حدیث شاذ نہ ہو: ثقہ راوی کی روایت زیادہ معتبر راوی کی روایت کے خلاف نہ ہو۔

مشق کے سوالات

سوال 1

روایت بظاہر درست معلوم ہو، مگر صحت پر اثر ڈالنے والا پوشیدہ عیب موجود ہو۔ یہ کس اصطلاح کی وضاحت ہے؟

  • متصل
  • معلل
  • شاذ

سوال 2

تمام راوی عادل اور تام الضبط ہوں اور سند متصل ہو، تو صحیح لذاتہ کی پانچوں شرطیں پوری ہوگئیں۔

  • درست
  • غلط

سوال 3

ہر وضاحت کو مناسب اصطلاح سے ملائیں۔

سوال 4

صرف یہ معلوم ہوا کہ دو روایتوں کے الفاظ مختلف ہیں۔ شاذ کی بیان کردہ تعریف کے لیے مزید کون سی بات ضروری ہے؟

  • ثقہ راوی کی روایت اس سے کم معتبر راوی کی روایت کے خلاف ہو۔
  • ثقہ راوی کی روایت زیادہ معتبر راوی کی روایت سے صرف لفظوں میں مختلف ہو۔
  • ثقہ راوی کی روایت زیادہ معتبر راوی کی روایت کے خلاف ہو۔

تعاملی کوئز کھولیں