صحیح لذاتہ: راوی کی دو صفاتصرف سوالات کا جائزہ۔ جوابات اور اسکور صرف لاگ اِن شدہ تعلیمی کوشش میں دستیاب ہیں۔حدیث کو سند سمیت بہت احتیاط سے لکھ کر محفوظ رکھنے کی بات کس صفت کی وضاحت ہے؟صحیح لذاتہ کی ان دو شرطوں کے لیے سند میں صرف ایک راوی کا عادل اور تام الضبط ہونا کافی ہے۔ہر بات کو متعلقہ صفت سے ملائیں۔تمام راویوں میں یہ دو صفات موجود ہوں تو صحیح لذاتہ کے بارے میں کون سی بات درست ہے؟