صحیح لغیرہ: تعریف، تقویت اور مثال
سمجھیں کہ حسن لذاتہ روایت دوسری سندوں کی تائید سے صحیح لغیرہ کیسے بنتی ہے۔ صحیح لغیرہ: تعریف، تقویت اور مثال کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. تعارف
مسواک والی روایت کے ایک راوی محمد بن عمرو ہیں۔ ان کے ضبط، یعنی حدیث یاد رکھنے کی مضبوطی، میں کمی ہے؛ لیکن یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی منقول ہے۔ اس سبق میں سمجھیں گے کہ دوسری سندوں کی تائید سے روایت کو مزید قوت ملنے کا کیا مطلب ہے۔ اسی کو یہاں تقویت کہتے ہیں۔
2. مسواک والی حدیث
لَوْ لَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلوٰةٍ. (جامع ترمذی، 22) ترجمہ: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا۔ 1. مسواک: دانت صاف کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی لکڑی۔
3. صحیح لغیرہ کی تعریف
کسی راوی کی یادداشت نسبتاً کم مضبوط ہو، مگر باقی چار شرطیں موجود ہوں، تو روایت حسن لذاتہ ہوتی ہے۔ جب یہی روایت دوسری سندوں سے بھی آئے اور ان کی تائید سے ضبط کی کمی پوری ہوجائے، تو اسے صحیح لغیرہ کہتے ہیں۔ اس کمی کے پورا ہونے کو یہاں تلافی کہا گیا ہے۔ باقی چار شرطیں: راوی معتبر ہوں، سند میں راوی چھوٹا نہ ہو، صحت کو متاثر کرنے والا پوشیدہ عیب نہ ہو، اور معتبر راوی کی روایت زیادہ معتبر راوی کے خلاف نہ ہو۔
4. دوسری سندوں سے تائید
سند راویوں کا وہ سلسلہ ہے جس کے ذریعے حدیث پہنچی۔ ایک ہی حدیث دوسرے راویوں کے سلسلے سے بھی منقول ہوسکتی ہے۔ یہاں دوسری سندوں کی تائید سے روایت مضبوط ہوتی ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے راوی کی یادداشت بدل گئی۔ اسی سند کو کئی جگہ چھاپ دینا یا اس کے کئی ترجمے کردینا، دوسری سندوں سے روایت آنا نہیں ہے۔
5. مثال میں تقویت کی وجہ
اس مثال کی سند کا متعلقہ حصہ ہے: عن محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة مفہوم: محمد بن عمرو، ابو سلمہ سے، اور ابو سلمہ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ محمد بن عمرو کی یادداشت کی کمی کے لحاظ سے یہ روایت حسن ہے؛ دوسری سندوں سے بھی منقول ہونے کی وجہ سے یہ صحیح لغیرہ ہے۔
6. درجے کا فرق
• حسن لذاتہ: ضبط نسبتاً کم ہے، مگر باقی ضروری شرطیں موجود ہیں۔ • صحیح لغیرہ: دوسری سندوں کی تائید نے اسی کمی کی تلافی کردی ہے۔ • صحیح لذاتہ: تمام راویوں کا ضبط پہلے ہی پوری مضبوطی کا ہوتا ہے؛ صحیح کی باقی شرطیں بھی موجود ہوتی ہیں۔ صحیح لغیرہ، حسن لذاتہ سے اعلیٰ اور صحیح لذاتہ سے کم درجے کی ہے۔
7. حکم اور ضروری فرق
صحیح لغیرہ لائقِ عمل اور قابلِ استدلال ہے: اس پر عمل کیا جاتا ہے اور اسے دلیل بنایا جاسکتا ہے۔ یہاں حسن لذاتہ روایت میں ضبط کی نسبتی کمی کی تلافی سمجھائی گئی ہے۔ یہ قاعدہ نہیں کہ ہر قسم کی کمزوری صرف سندیں بڑھ جانے سے دور ہوجاتی ہے۔ کسی روایت پر یہ درجہ لگانے کے لیے شرطوں کی علمی تحقیق ضروری ہے؛ صرف سندوں کی تعداد گن لینا کافی نہیں۔
8. خلاصہ
• بنیاد: روایت حسن لذاتہ ہے؛ ضبط کی نسبتی کمی کے ساتھ باقی شرطیں موجود ہیں۔ • تقویت: دوسری سندوں کی تائید سے اس کمی کی تلافی ہوتی ہے۔ • نتیجہ: روایت صحیح لغیرہ بنتی ہے۔ • حکم: لائقِ عمل اور قابلِ دلیل ہے؛ حسن لذاتہ سے اعلیٰ، صحیح لذاتہ سے کم ہے۔ مسواک والی مثال میں یہی فرق محمد بن عمرو کی سند اور دوسری سندوں کی تائید کے ذریعے سمجھا گیا۔
مشق کے سوالات
سوال 1
حسن لذاتہ روایت کو صحیح لغیرہ کہنے کی وجہ کون سی ہے؟
- اس کے ایک راوی کی یادداشت نسبتاً کم ہے۔
- دوسری سندوں کی تائید نے ضبط کی کمی پوری کردی ہے۔
- اسے روایت کرنے والوں کے نام معلوم ہیں۔
سوال 2
متعدد سندیں موجود ہوں تو ہر قسم کی کمزوری لازماً دور ہوجاتی ہے۔
سوال 3
ہر تعارف کو مناسب درجے سے ملائیں۔
سوال 4
ایک ہی سند کے ساتھ روایت تین کتابچوں میں چھپی ہے۔ صرف اس بات سے کیا معلوم ہوتا ہے؟
- تین الگ سندوں سے تائید مل گئی ہے۔
- روایت صحیح لغیرہ ہوگئی ہے۔
- اسی روایت اور سند کی کئی نقلیں موجود ہیں۔
تعاملی کوئز کھولیں