سند اور متن
طالب علم ایک واضح روایت میں راویوں کے سلسلے کو سند اور اس کے بعد آنے والے منقول کلام کو متن کے طور پر الگ پہچان سکے۔ سند اور متن کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سند اور متن
● سند: حدیث نقل کرنے والے راویوں کا سلسلہ۔ ● متن: سند کے بعد آنے والا منقول کلام۔ ● ایک روایت میں سند نقل کرنے والوں کو، اور متن نقل ہونے والی بات کو ظاہر کرتا ہے۔
2. سند کی مثال
● حمیدی نے سفیان سے، سفیان نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے محمد بن ابراہیم سے، محمد نے علقمہ بن وقاص سے، اور علقمہ نے عمرؓ سے روایت نقل کی۔ ● وجہ: یہ روایت نقل کرنے والے راویوں کا سلسلہ ہے، اس لیے یہ سند ہے۔
3. سند میں کیا دیکھا جاتا ہے؟
سند سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت کن راویوں نے ایک دوسرے سے نقل کی۔ راویوں کے نام اور ان کی ترتیب سند کا حصہ ہوتے ہیں۔
4. متن کی مثال
راویوں کے سلسلے کے بعد رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان آتا ہے: «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى»۔ وجہ: یہ سند کے بعد آنے والا منقول کلام ہے، اس لیے یہ متن ہے۔
5. متن اور اس کا مفہوم
اصل منقول عبارت متن ہے۔ اس عبارت کا سادہ مفہوم ترجمہ ہے۔ متن اور اس کا ترجمہ الگ رکھے جاتے ہیں۔
6. سند اور متن ایک چیز نہیں
● سند راویوں کا سلسلہ ہے۔ ● متن وہ کلام ہے جو اس سلسلے کے ذریعے نقل ہوا۔ ● دونوں ایک ہی روایت کے الگ حصے ہیں۔
مشق کے سوالات
سوال 1
حمیدی، سفیان، یحییٰ بن سعید، محمد بن ابراہیم، علقمہ بن وقاص اور عمرؓ کی ترتیب کیا ہے؟
سوال 2
«إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ…» سے شروع ہونے والا منقول فرمان کیا کہلاتا ہے؟
سوال 3
سند کسے کہتے ہیں؟
- حدیث نقل کرنے والے راویوں کا سلسلہ
- روایت کا سادہ مفہوم
- سند کے بعد آنے والا کلام
سوال 4
سند اور متن میں درست فرق کون سا ہے؟
- سند راویوں کا سلسلہ ہے، متن منقول کلام ہے۔
- سند منقول کلام ہے، متن راویوں کا سلسلہ ہے۔
- سند اور متن ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔
سوال 5
متن روایت کے منقول کلام کو کہتے ہیں۔
تعاملی کوئز کھولیں