شاذ: زیادہ مضبوط روایت کی مخالفت

ثقہ راوی کی مخالف روایت اور اصل مثال کو سمجھیں۔ شاذ: زیادہ مضبوط روایت کی مخالفت کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں

ایک روایت میں نبی ﷺ کا فرمان نقل ہوا ہے، جبکہ اسی مثال کی دوسری روایتوں میں آپ ﷺ کا عمل بیان ہوا ہے۔ اس فرق کی مدد سے شاذ سمجھیں گے: قابلِ اعتماد راوی کی روایت، زیادہ مضبوط روایت کے خلاف کب ہوتی ہے؟

2. شاذ کی تعریف

ثقہ یعنی قابلِ اعتماد راوی کی وہ روایت شاذ کہلاتی ہے جو: • اس سے زیادہ قابلِ اعتماد، یعنی اوثق راوی کی روایت کے خلاف ہو؛ • یا چند ثقہ راویوں کی روایت کے خلاف ہو۔ صرف اکیلے روایت کرنا کافی نہیں؛ یہاں زیادہ مضبوط روایت کی مخالفت بھی ضروری ہے۔

3. فجر کی دو رکعتوں کے بعد

إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ (ترمذی: ۴۲۰) ترجمہ: جب تم میں سے کوئی فجر کی دو رکعتیں پڑھے تو اپنی دائیں کروٹ لیٹ جائے۔ یہاں قول، یعنی نبی ﷺ کی طرف منسوب فرمان نقل ہوا ہے: «لیٹ جائے»۔

4. اس مثال میں مخالفت کہاں ہے؟

• اس روایت میں لیٹنے کا فرمان نقل ہوا ہے۔ • دوسرے چند ثقہ راویوں نے نبی ﷺ کے عمل کو نقل کیا: آپ ﷺ دائیں کروٹ لیٹتے تھے۔ اس مثال کو شاذ کہنے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ایک ثقہ راوی نے، دوسرے ثقہ راویوں کے برخلاف، اسے عمل کے بجائے فرمان کے طور پر نقل کیا۔ محض قول اور فعل کی دو روایتیں ملنے سے ہر جگہ مخالفت ثابت نہیں ہوتی؛ یہ اسی مثال کی علمی تشریح ہے۔

5. روایت کا سلسلہ

اس قولی روایت میں: • عبد الواحد بن زیاد نے اعمش سے روایت کی۔ • اعمش نے ابو صالح سے روایت کی۔ • ابو صالح نے ابو ہریرہؓ سے روایت کی۔ ابو ہریرہؓ اسے نبی ﷺ کے فرمان کے طور پر نقل کرتے ہیں۔ 1. عن: سند میں اس کا مطلب «سے روایت کرتے ہیں» ہے۔ یہاں سلسلے کا متعلقہ حصہ دکھایا گیا ہے، پوری سند نہیں۔

6. مثال پر علمی اختلاف

اس روایت کے بارے میں اہلِ علم کی رائے ایک نہیں ہے۔ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح غریب کہا ہے، جبکہ شاذ کی مثال میں فرمان اور عمل کی روایتوں کا فرق وجہ بنایا گیا ہے۔ لہٰذا اس مثال پر شاذ ہونے کا متفقہ حکم نہیں لگائیں گے۔ یہاں مقصد اس کی بیان کردہ وجہ سمجھنا ہے، نیا حکم دینا نہیں۔ 1. حسن صحیح غریب: یہ امام ترمذی کے اپنے علمی الفاظ ہیں؛ یہاں ان سے صرف یہ واضح ہے کہ انہوں نے روایت قبول کی۔ اس ترکیب کی تفصیلی تشریح اس سبق کا موضوع نہیں۔

7. خلاصہ

• شاذ: ثقہ راوی کی روایت، اوثق یا چند ثقہ راویوں کی روایت کے خلاف ہو۔ • اوثق اور ثقہ کے اس مقابلے میں اوثق کی روایت محفوظ، اور اس کے خلاف ثقہ کی روایت شاذ ہے۔ • اصل مثال میں فرق فرمان اور عمل کے طور پر نقل کرنے کا ہے؛ اس مثال کے حکم میں علمی اختلاف بھی ہے۔ • صرف ایک راوی ہونا، شاذ کہنے کے لیے کافی نہیں۔

مشق کے سوالات

سوال 1

ایک ثقہ راوی کی روایت چند ثقہ راویوں کی روایت کے خلاف ہے۔ بیان کردہ تعریف میں اس ایک راوی کی روایت کیا کہلائے گی؟

  • محفوظ
  • شاذ
  • صرف اس بنا پر کوئی نام نہیں دے سکتے

سوال 2

ایک روایت صرف ایک راوی نے نقل کی ہے۔ زیادہ مضبوط روایت کی مخالفت بتائے بغیر، صرف اس بات سے اسے شاذ کہہ سکتے ہیں۔

  • درست
  • غلط

سوال 3

بیان کی صورت کو اس کے مطلب سے ملائیں۔

سوال 4

فجر والی مثال سے کون سا نتیجہ درست ہے؟

  • فرمان اور عمل کا فرق وجہ ہے، مگر حکم متفقہ نہیں۔
  • قول اور فعل ساتھ آئیں تو ہمیشہ شاذ ہوتا ہے۔
  • اس مثال پر تمام اہلِ علم کا ایک ہی حکم ہے۔

تعاملی کوئز کھولیں