طریق اور طرق: ایک حدیث کی سندیں
طالب علم حدیث کو نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا حال کی روایت کے طور پر پہچان سکے۔ طریق اور طرق: ایک حدیث کی سندیں کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اس سبق میں کیا سیکھیں گے؟
ہم جانتے ہیں کہ راوی حدیث نقل کرتا ہے، اور راویوں کا سلسلہ سند کہلاتا ہے۔ اب دیکھیں گے کہ ایک ہی حدیث کی ایک سے زیادہ سندیں بھی ہوتی ہیں۔ مقصد: دی گئی مثال میں سمجھنا کہ دو سندیں کہاں مختلف ہیں اور انہیں الگ کیوں شمار کیا جاتا ہے۔
2. نیتوں والی حدیث
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (صحیح البخاری: 1) ترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ حضرت عمرؓ نے یہ فرمان نبی کریم ﷺ سے سن کر بیان کیا۔ ہم اس مثال کو پہلے پڑھ چکے ہیں۔ اب اسی حدیث کو نقل کرنے والوں کے دو سلسلوں کا ایک مختصر حصہ دیکھتے ہیں۔
3. دو سندوں کے منتخب حصے
نیتوں والی حدیث میں یحییٰ بن سعید سے نقل کرنے والوں کو دیکھیے: • ایک سند میں: سفیان نے یہ حدیث یحییٰ بن سعید سے نقل کی۔ (صحیح البخاری: 1) • دوسری سند میں: مالک نے یہ حدیث یحییٰ بن سعید سے نقل کی۔ (صحیح البخاری: 54) دونوں میں یحییٰ بن سعید ہیں، مگر ان سے نقل کرنے والا شخص ایک میں سفیان اور دوسری میں مالک ہے۔ یہ دونوں سندوں کے صرف متعلقہ حصے ہیں، مکمل سندیں نہیں۔
4. طریق اور طرق کسے کہتے ہیں؟
• طریق: حدیث نقل کرنے والوں کا ایک سلسلہ، یعنی ایک سند۔1 • طُرُق: طریق کی جمع؛ ایک ہی حدیث کی ایک سے زیادہ سندیں۔ پچھلی مثال میں نیتوں والی حدیث کی دو سندوں کا حصہ دیکھا۔ یہ اس حدیث کے دو طرق کی مثال ہے۔ 1. طریق: عام زبان میں اس لفظ کا معنی «راستہ» بھی ہے؛ یہاں اسے سند کے علمی معنی میں پڑھ رہے ہیں۔
5. دونوں کو الگ کیوں شمار کیا؟
• ایک سلسلے میں سفیان، یحییٰ بن سعید سے نقل کرتے ہیں۔ • دوسرے سلسلے میں مالک، یحییٰ بن سعید سے نقل کرتے ہیں۔ نقل کرنے والوں کے سلسلے میں یہ فرق ہے؛ اسی لیے یہ دو الگ طرق ہیں۔ دو طرق کے ہر راوی کا الگ ہونا ضروری نہیں۔ اس مثال میں یحییٰ بن سعید دونوں سندوں میں موجود ہیں۔
6. دو ترجمے، دو سندیں نہیں
کسی استاد نے ایک حدیث کا اردو مطلب لکھا اور پھر اسی کا انگریزی مطلب بھی لکھ دیا۔ اس سے صرف زبان بدلی ہے؛ حدیث نقل کرنے والوں کا کوئی دوسرا سلسلہ بیان نہیں ہوا۔ دو ترجموں کو دو طرق نہیں کہیں گے۔ طرق سمجھنے کے لیے سندوں کو دیکھتے ہیں، ترجموں کی تعداد کو نہیں۔
7. راویوں کی تعداد اور سندوں کی تعداد
اپنی مثال میں تین نام پڑھے: سفیان، مالک اور یحییٰ بن سعید۔ لیکن دو سلسلوں کے حصے دیکھے: • سفیان کا یحییٰ بن سعید سے نقل کرنا۔ • مالک کا یحییٰ بن سعید سے نقل کرنا۔ یہ تین نام، تین طرق نہیں بن جاتے۔ راویوں کی تعداد میں اشخاص گنتے ہیں؛ طرق کی تعداد میں حدیث کی الگ الگ سندیں دیکھتے ہیں۔
8. سبق کا خلاصہ
• طریق: حدیث کا ایک سلسلۂ سند۔ • طرق: ایک ہی حدیث کی ایک سے زیادہ سندیں۔ • بعض راوی دونوں سندوں میں موجود ہو سکتے ہیں، پھر بھی دونوں الگ طرق ہو سکتے ہیں۔ • راویوں یا ترجموں کی تعداد، طرق کی تعداد نہیں ہے۔ اب دو دی گئی سندوں کے متعلقہ حصے دیکھ کر بتا سکتے ہیں کہ نقل کرنے والوں کا سلسلہ کہاں مختلف ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
نیتوں والی حدیث ایک سند میں سفیان نے یحییٰ بن سعید سے، اور دوسری میں مالک نے یحییٰ بن سعید سے نقل کی۔ انہیں دو الگ طرق کہنے کی وجہ کیا ہے؟
- کیونکہ دونوں میں یحییٰ بن سعید کا نام موجود ہے۔
- کیونکہ ایک حدیث کو دو زبانوں میں سمجھایا گیا ہے۔
- کیونکہ یحییٰ سے نقل کرنے والا دونوں سندوں میں مختلف ہے۔
سوال 2
ایک طالب علم کہتا ہے: «سفیان، مالک اور یحییٰ، تین نام ہیں؛ اس لیے ہماری مثال میں تین طرق ہیں۔» اس کی بات میں کیا غلطی ہے؟
- اس نے اشخاص گنے ہیں، حدیث کے الگ سلسلے نہیں۔
- اسے صرف یحییٰ گننے چاہییں، کیونکہ دونوں میں وہی ہیں۔
- اسے ہر سند میں یحییٰ کو دوبارہ گن کر چار طرق کہنے چاہییں۔
سوال 3
ہر بیان کو مناسب لفظ سے ملائیں۔
سوال 4
اگر دو سندوں میں کوئی ایک راوی مشترک ہو، یعنی دونوں میں موجود ہو، تو وہ دو الگ طرق نہیں ہو سکتے۔
سوال 5
ایک استاد نے وہی حدیث اور وہی سند برقرار رکھی، لیکن اردو کے ساتھ انگریزی ترجمہ بھی لکھ دیا۔ کیا صرف اس اضافے سے ایک اور طریق بن گیا؟
- ہاں؛ ہر الگ زبان کو ایک الگ طریق شمار کریں گے۔
- نہیں؛ ترجمہ بڑھا ہے، راویوں کا دوسرا سلسلہ نہیں۔
- ہاں؛ دوسرا ترجمہ لکھنے سے ایک نیا راوی سند میں شامل ہوگیا۔
سوال 6
آپ کو ایک حدیث کی دو سندیں دی گئی ہیں۔ ان کے طرق کا فرق سمجھنے کے لیے سب سے پہلے کیا مقابلہ کریں گے؟
- حدیث کے ترجموں میں جملوں کی تعداد کا۔
- حدیث کے عربی الفاظ کے معنی کا۔
- راویوں کا، اور یہ کہ کس نے کس سے نقل کیا۔
تعاملی کوئز کھولیں