مشہور، عزیز اور غریب کا حکم

طالب علم حدیث کو نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا حال کی روایت کے طور پر پہچان سکے۔ مشہور، عزیز اور غریب کا حکم کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں کیا سیکھیں گے؟

مشہور، عزیز اور غریب، راویوں کی تعداد کے اعتبار سے حدیث کے نام ہیں۔ اب ان کے حکم کو سمجھیں گے: ان سے حاصل ہونے والا علم کس درجے کا ہوتا ہے، اور دو روایتوں کا مفہوم بظاہر ایک دوسرے کے خلاف ہو تو اس تقسیم میں کس کو ترجیح دی جاتی ہے؟ مقصد اس اصول کو سمجھنا ہے، کسی خاص حدیث کا درجہ خود مقرر کرنا نہیں۔

2. نام سے کون سی بات معلوم ہوئی؟

مثلاً کسی روایت کو مشہور کہا گیا۔ یہاں اس کا مطلب صرف لوگوں میں مشہور ہونا نہیں، بلکہ راویوں کی ایک مقرر تعداد ہے: • مشہور: ہر طبقے میں تین یا زیادہ راوی، مگر تواتر کی حد1 سے کم۔ • عزیز: کسی طبقے میں دو سے کم راوی نہ ہوں۔ • غریب: کم از کم ایک طبقے میں صرف ایک راوی ہو۔ طبقہ یہاں ایک زمانے کے راویوں کو کہتے ہیں۔ یہ نام راویوں کی تعداد بتاتے ہیں؛ صرف نام سن کر روایت کے درست ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ 1. تواتر کی حد: راویوں کی ایسی کثرت جو ہر زمانے میں ہو اور سب کا جھوٹ پر جمع ہونا معمول کے مطابق ممکن نہ ہو۔

3. ظنی الثبوت کا مطلب

متواتر حدیث اپنی شرطیں پوری ہونے پر یقینی علم دیتی ہے۔ مشہور، عزیز اور غریب کے اس بنیادی حکم میں ثبوت1 کا درجہ اس سے مختلف ہے۔ انہیں ظنی الثبوت کہتے ہیں: دلیل کی بنا پر روایت کے ثابت ہونے کا امکان زیادہ ہو، یعنی غالب گمان ہو، لیکن متواتر کے درجے کا یقینی ثبوت نہ ہو۔ اس درجے کے علم کو علمِ ظن کہتے ہیں۔ یہاں ظن سے بے بنیاد اندازہ یا بدگمانی مراد نہیں۔ 1. ثبوت: یہاں یہ بات ثابت ہونا کہ روایت جس کی طرف منسوب ہے، واقعی اسی سے منقول ہے۔

4. ظنی کا مطلب رد شدہ نہیں

ظنی الثبوت کہنے سے کسی روایت کو خود بخود رد نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح صرف مشہور یا عزیز کا نام سن کر اسے قبول بھی نہیں کر لیا جاتا۔ روایت کو قبول کرنے کے لیے راویوں کے حالات اور ضروری اوصاف بھی دیکھے جاتے ہیں۔ اس کی تفصیل الگ ہے۔ مثلاً «یہ غریب ہے، اس لیے لازماً رد ہوگی» کہنا درست نہیں۔ غریب کا نام راویوں کی تعداد بتاتا ہے، رد ہونے کا فیصلہ نہیں۔

5. تعارض کے وقت ترجیح

دو روایتوں کا مفہوم بظاہر ایک دوسرے کے خلاف معلوم ہو تو اسے تعارض کہتے ہیں۔ مشہور، عزیز اور غریب تینوں کے عمومی حکم میں اشتراک ہے، لیکن مراتب کا فرق بھی ہے۔ اس تقابلی حکم میں تعارض کے وقت مشہور کو عزیز اور غریب پر ترجیح دی جاتی ہے۔ اسے راجح کہتے ہیں، یعنی مقابلے میں ترجیح پانے والی روایت۔

6. شرط کو ساتھ رکھیے

• مشہور اور عزیز میں تعارض: اس بیان کردہ تقابل میں مشہور راجح ہے۔ • مشہور اور غریب میں تعارض: یہاں بھی اسی اصول کے مطابق مشہور کو ترجیح ہے۔ لیکن دو روایتوں کے صرف الفاظ مختلف ہوں اور معنی موافق ہوں، تو اس فرق کو تعارض نہیں کہیں گے۔ اسی لیے «مشہور ہر صورت میں بہتر ہے» کے بجائے تعارض کے وقت ترجیح کی شرط یاد رکھیے۔

7. سبق کا خلاصہ

• ظنی الثبوت: اس بنیادی تقسیم میں مشہور، عزیز اور غریب کا ثبوت متواتر کے یقینی ثبوت جیسا نہیں؛ اس درجے کے علم کو علمِ ظن کہتے ہیں۔ • تعارض: دو روایتوں کا مفہوم بظاہر ایک دوسرے کے خلاف ہونا۔ • راجح: مقابلے میں ترجیح پانے والی روایت؛ بیان کردہ تقابل میں تعارض کے وقت مشہور کو عزیز اور غریب پر ترجیح ہے۔ ظنی کا مطلب لازماً رد شدہ نہیں، اور راویوں کی تعداد کا نام قبول یا رد کا مکمل فیصلہ نہیں۔

مشق کے سوالات

سوال 1

ایک مشہور اور ایک عزیز روایت کے مفہوم میں تعارض ہے۔ اس سبق کے بیان کردہ تقابل میں کس کو ترجیح ہوگی؟

  • عزیز، کیونکہ اس کے راوی کم ہیں۔
  • مشہور، کیونکہ یہاں تعارض کی شرط موجود ہے۔
  • دونوں برابر، کیونکہ عمومی حکم ایک ہے۔

سوال 2

کسی روایت کو ظنی الثبوت کہنا ہی اسے رد کرنے کے لیے کافی ہے۔

  • درست
  • غلط

سوال 3

ہر اصطلاح کو مناسب وضاحت سے ملائیں۔

سوال 4

دو روایتوں کے الفاظ کچھ مختلف ہیں، لیکن دونوں کا مفہوم موافق ہے۔ کیا صرف اس فرق کی وجہ سے تعارض کا اصول لگائیں گے؟

  • نہیں، کیونکہ مفہوم مخالف نہیں ہے۔
  • ہاں، کیونکہ مختلف الفاظ ہی تعارض ہیں۔
  • ہاں، کیونکہ ہر دو روایتوں میں ترجیح ضروری ہے۔

تعاملی کوئز کھولیں