مقبول حدیث کی تقسیم کے تین اعتبار

راویوں کی صفات کے درجے، باہمی تعارض اور مضمون کی زیادتی کو تقسیم کے الگ اعتبار کے طور پر پہچانیں۔ مقبول حدیث کی تقسیم کے تین اعتبار کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں کیا سیکھیں گے؟

مقبول حدیث وہ روایت ہے جو قبول کی گئی ہو۔ مقبول روایتوں کی مزید تقسیم میں تین باتیں دیکھی جاتی ہیں: • راویوں کی صفات کے درجے۔ • روایتوں میں باہمی تعارض ہونا یا نہ ہونا۔ • روایت کے مضمون میں زیادتی ہونا یا نہ ہونا۔ ان تینوں کا مطلب سمجھیں گے، تاکہ پہچان سکیں کہ ہر تقسیم میں کس بات کو دیکھا جا رہا ہے۔

2. تقسیم کا اعتبار کیا ہوتا ہے؟

دو مقبول روایتوں کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہو۔ ایک بار ان کے راویوں کی صفات کا تقابل کیا جائے، اور دوسری بار ان کے مفہوم کا۔ دونوں بار ایک ہی بات نہیں دیکھی جا رہی۔ جس بات کو سامنے رکھ کر تقسیم کی جائے، اسے تقسیم کا اعتبار کہتے ہیں۔ یہاں تین اعتبار ہیں؛ مقبول حدیث کی صرف تین قسموں کے نام نہیں۔

3. پہلا اعتبار: صفات کے درجے

راویوں میں قبول کے لیے مطلوب صفات موجود ہوں، مگر ان صفات کے درجے ایک جیسے نہ ہوں۔ یہاں گفتگو راویوں کی تعداد کی نہیں، ان کی صفات کے درجوں کی ہے۔ اسی کو صفات میں فرقِ مراتب کہتے ہیں، یعنی صفات کے درجوں میں فرق۔ مثلاً سوال یہ ہو کہ راویوں کی متعلقہ صفات کس درجے کی ہیں، تو یہ پہلا اعتبار ہے۔ اس بنیاد پر بننے والے تفصیلی درجات الگ پڑھیں گے۔

4. دوسرا اعتبار: تعارض

دو مقبول روایتوں کا مفہوم بظاہر ایک دوسرے کے خلاف معلوم ہو تو اسے تعارض کہتے ہیں۔ اس اعتبار میں دیکھا جاتا ہے: • روایتوں میں باہمی تعارض ہے۔ • یا باہمی تعارض نہیں ہے۔ صرف الفاظ کا مختلف ہونا کافی نہیں؛ الفاظ مختلف ہوں اور مفہوم ایک ہو تو محض اس فرق کو تعارض نہیں کہیں گے۔

5. تیسرا اعتبار: مضمون کی زیادتی

ایک روایت میں دوسری روایت کے مقابل کوئی اضافی بات منقول ہو تو یہ زیادتِ مضمون ہے۔ یہاں مضمون سے روایت میں بیان ہونے والی بات مراد ہے۔ اس اعتبار میں دیکھا جاتا ہے کہ ایسی زیادتی ہے یا نہیں۔ استاد کی الگ وضاحت یا ترجمے کی لمبائی کو روایت کے مضمون کی زیادتی نہیں کہیں گے؛ گفتگو خود منقول روایت کی ہے۔ 1. منقول: وہ بات جو روایت کے طور پر نقل کی گئی ہو۔

6. خلاصہ

مقبول حدیث کی تقسیم کے تین اعتبار ہیں: • فرقِ مراتب: راویوں کی صفات کے درجوں کا فرق۔ • تعارض: مقبول روایتوں کے مفہوم میں بظاہر مخالفت ہونا یا نہ ہونا۔ • زیادتِ مضمون: روایت میں اضافی بات منقول ہونا یا نہ ہونا۔ یہ تقسیم کی الگ بنیادیں ہیں۔ ایک اعتبار کو دوسرے کا نام نہ دیں؛ پہلے دیکھیں کہ گفتگو کس بات کے بارے میں ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

دو مقبول روایتوں کا تقابل کرتے ہوئے راویوں کی مطلوب صفات کے درجے دیکھے جا رہے ہیں۔ یہاں کس اعتبار سے گفتگو ہو رہی ہے؟

  • مضمون میں اضافی بات کے اعتبار سے۔
  • صفات میں فرقِ مراتب کے اعتبار سے۔
  • روایتوں میں تعارض کے اعتبار سے۔

سوال 2

تقسیم کے تین اعتبار ہونے کا مطلب ہے کہ مقبول حدیث کی کل تین ہی قسمیں ہیں۔

  • درست
  • غلط

سوال 3

ہر گفتگو کو تقسیم کے مناسب اعتبار سے ملائیں۔

سوال 4

دو جگہ روایت کا منقول متن ایک ہے، لیکن ایک جگہ استاد نے الگ تشریح زیادہ لکھی ہے۔ کیا اسی سے زیادتِ مضمون ثابت ہوگی؟

  • نہیں؛ اضافہ الگ تشریح میں ہے، منقول روایت میں نہیں۔
  • ہاں؛ جہاں عبارت زیادہ ہو، وہاں روایت میں اضافہ ہوتا ہے۔
  • ہاں؛ الگ تشریح بھی لازماً روایت کا حصہ ہوتی ہے۔

تعاملی کوئز کھولیں