راوی کی پہچان اور حالت: جہالت

اسباب، دو قسمیں اور متعلقہ احکام راوی کی پہچان اور حالت: جہالت کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں کیا سیکھیں گے؟

حَدَّثَنَا رَجُلٌ یعنی: ایک شخص نے ہم سے بیان کیا۔ اس عبارت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ شخص کون ہے۔ • کبھی راوی کا نام بیان نہیں ہوتا۔ • کبھی اسے غیر معروف نام سے ذکر کیا جاتا ہے۔ • کبھی اس سے اتنی کم روایتیں نقل ہوتی ہیں کہ اس کی پہچان یا حالت واضح نہیں ہوتی۔ آج ان صورتوں کا فرق اور روایت کی قبولیت پر ان کا اثر سمجھیں گے۔

2. جہالت کا مطلب

جہالت یہاں راوی کے غیر معروف یا نامعلوم ہونے کو کہتے ہیں۔ یہ روایت کے غیر معتبر ہونے کے اسباب میں آٹھواں سبب ہے۔ اصل سوال یہ ہے: • یہ راوی کون ہے؟ • اس کی روایت پر اعتماد کے لیے اس کی حالت معلوم ہے یا نہیں؟ یہاں جہالت سے مراد صرف کم پڑھا لکھا ہونا نہیں، بلکہ راوی کے متعلق ضروری معلومات نہ ہونا ہے۔

3. پہلا سبب: نام نہ بتانا

عدمِ تسمیہ یعنی نام نہ بتانا: راوی کا نام لینے کے بجائے ایسا لفظ کہہ دیا جائے جس سے اس کی پہچان واضح نہ ہو۔ • حَدَّثَنَا رَجُلٌ: ایک شخص نے ہم سے بیان کیا۔ • شَيْخٌ: ایک شیخ۔ • ثِقَةٌ: ایک قابلِ اعتماد راوی۔ آخری لفظ میں اعتماد کا وصف ہے، مگر نام پھر بھی معلوم نہیں ہوا۔ 1. مبہم: یہاں ایسا ذکر جس میں راوی کا نام، مشہور لقب یا کنیت بیان نہ ہو۔

4. نام معلوم نہ ہونے کا حکم

جس راوی کا نام معلوم نہ ہو، اس کی روایت غیر معتبر ہے۔ البتہ اگر ائمۂ فنِ حدیث اسے قبول کریں تو وہ معتبر ہے۔ • عام لفظ سے راوی کی پہچان پوری نہیں ہوتی۔ • قبولیت کی بیان کردہ استثنائی صورت بھی یاد رکھیے۔ • صرف ثِقَةٌ کا لفظ پڑھ لینا، ائمۂ حدیث کی قبولیت معلوم ہوجانے کے برابر نہیں۔ 1. ائمۂ فنِ حدیث: علمِ حدیث کے ماہر اور معتبر اہلِ علم۔

5. دوسرا سبب: غیر معروف نام

حضرت ابو ہریرہ کو عبد الرحمن بن صخر کے نام سے ذکر کرنا اس کی مثال ہے۔ معروف کنیت کے بجائے ایسا نام آیا جس سے ہر پڑھنے والا فوراً واقف نہیں ہوگا۔ غیر معروف تسمیہ میں راوی کا نام، کنیت، لقب یا نسبت، اس کے مشہور تعارف کے بجائے غیر معروف صورت میں بیان ہوتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوجائے کہ یہ ثقہ راوی ہے تو روایت معتبر ہے، ورنہ غیر معتبر۔ غیر معروف نام ہونا، راوی کے لازماً ناقابلِ اعتماد ہونے کے برابر نہیں۔ 1. کنیت: ابو یا ام سے شروع ہونے والا تعارف، جیسے ابو ہریرہ۔ 2. لقب یا نسبت: پہچان کا دوسرا عنوان یا تعلق بتانے والا نام۔

6. تیسرا سبب: روایتیں کم ہونا

قلیل الروایہ یعنی ایسا راوی جس سے بہت کم روایتیں نقل ہوئی ہوں۔ یہ بھی راوی کے متعلق ضروری معلومات کم ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہاں دو قسمیں بیان ہوتی ہیں: • مجہول العین: نام موجود ہے، مگر راوی کی ذات کی پہچان واضح نہیں۔ • مجہول الحال: راوی سے روایت کرنے والے موجود ہیں، مگر اس کے قابلِ اعتماد ہونے کی تصدیق منقول نہیں۔ اگلی دو سلائیڈوں میں روایت کرنے والوں کی تعداد اور توثیق کے فرق کو واضح کریں گے۔

7. مجہول العین: نام کے باوجود پہچان نامعلوم

مجہول العین وہ راوی ہے جس کا نام ذکر ہوا ہو، پھر بھی اس کی ذات کی پہچان معلوم نہ ہوسکے؛ اس سے روایت کرنے والا ایک ہی شاگرد ہو۔ • نام کا ذکر موجود ہے۔ • اس سے روایت کرنے والا صرف ایک شخص ہے۔ • صرف نام آجانے سے جہالت لازماً ختم نہیں ہوتی۔ اس کی روایت غیر معتبر ہے، الا یہ کہ کسی ذریعے سے اس کی توثیق ہوجائے۔ 1. توثیق: راوی کے قابلِ اعتماد ہونے کی علمی تصدیق۔

8. مجہول الحال: حالت کی توثیق باقی

مجہول الحال وہ راوی ہے جس سے کم از کم دو راوی یا اس سے زیادہ روایت کرتے ہوں، لیکن کسی امام سے اس کی توثیق منقول نہ ہو۔ • اس سے روایت کرنے والے دو یا زیادہ ہیں۔ • اس کے قابلِ اعتماد ہونے کی توثیق منقول نہیں۔ • دو افراد کا روایت کرنا اور کسی امام کی توثیق ہونا الگ باتیں ہیں۔ اس لیے راویوں کی تعداد بڑھنے کو، خود بخود توثیق ہوجانا نہیں سمجھنا چاہیے۔

9. مجہول الحال کے حکم میں اختلاف

مجہول الحال کی روایت جمہور کے نزدیک غیر معتبر ہے۔ اس کے معتبر ہونے کا قول بھی موجود ہے۔ • راوی کی تعریف سمجھنا ایک بات ہے۔ • اس کی روایت کے قبول یا عدمِ قبول میں اہلِ علم کا اختلاف جاننا دوسری بات ہے۔ • اس حکم کو سب اہلِ علم کا متفقہ حکم نہ سمجھیے۔ 1. جمہور: اہلِ علم کی اکثریت۔

10. خلاصہ: پہچان اور توثیق کا فرق

• جہالت میں راوی کی پہچان یا حالت کی ضروری معلومات میسر نہیں ہوتیں۔ • اس کے تین اسباب یہاں پڑھے: نام نہ بتانا، غیر معروف نام بتانا اور روایتیں کم ہونا۔ • مجہول العین: نام موجود، مگر ایک ہی شاگرد روایت کرتا ہے اور ذات کی پہچان واضح نہیں۔ توثیق ہوجانے کی استثنائی صورت یاد رکھیے۔ • مجہول الحال: دو یا زیادہ راوی اس سے روایت کرتے ہیں، مگر کسی امام کی توثیق منقول نہیں؛ قبولیت میں اختلاف ہے۔ نام، روایت کرنے والوں کی تعداد اور توثیق کو ایک ہی بات نہ سمجھیے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

اس سبق میں جہالت سے کیا مراد ہے؟

  • راوی کا کم پڑھا لکھا ہونا
  • راوی کی پہچان یا حالت کی ضروری معلومات نہ ہونا
  • روایت کے الفاظ کا مختصر ہونا

سوال 2

راوی کا نام دینے کے بجائے صرف «ثِقَةٌ» کہنا کس صورت کی مثال ہے؟

  • عدمِ تسمیہ
  • غیر معروف نام بیان کرنا
  • دو شاگردوں کا روایت کرنا

سوال 3

نام معلوم نہ ہونے کے حکم میں کون سا استثنا پڑھا؟

  • لفظ مختصر ہو تو روایت معتبر ہے۔
  • کوئی نام نہ ہو تو استثنا نہیں ہوسکتا۔
  • ائمۂ فنِ حدیث اسے قبول کریں تو معتبر ہے۔

سوال 4

غیر معروف نام سے مذکور راوی کے بارے میں تحقیق سے معلوم ہو کہ وہ ثقہ ہے، تو بیان کردہ حکم کیا ہے؟

  • صرف نام غیر معروف ہونے کی وجہ سے روایت رد ہوگی۔
  • اس صورت میں روایت معتبر ہے۔
  • اس کا نام حذف کردینا چاہیے۔

سوال 5

نام موجود ہو، ذات کی پہچان واضح نہ ہو اور ایک ہی شاگرد روایت کرے: یہ کس کی تعریف ہے؟

  • مجہول العین
  • مجہول الحال
  • عدمِ تسمیہ

سوال 6

دو راوی کسی شخص سے روایت کریں، مگر کسی امام کی توثیق منقول نہ ہو؛ کیا صرف یہ تعداد توثیق کے برابر ہے؟

  • ہاں، دو راوی لازماً توثیق ہیں۔
  • اسے لازماً مجہول العین کہیں گے۔
  • نہیں؛ یہ مجہول الحال کی بیان کردہ صورت ہے۔

سوال 7

مجہول العین کے حکم کے ساتھ کون سی شرط یاد رکھنی ہے؟

  • اس کا نام کبھی بیان نہیں ہوسکتا۔
  • کسی ذریعے سے توثیق ہوجانے کی صورت مستثنیٰ ہے۔
  • اس سے دو شاگردوں کا روایت کرنا ضروری ہے۔

تعاملی کوئز کھولیں