سورۃ الفجر — حصہ ٢
آیات ١١–٢٠ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ الفجر — حصہ ٢ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ الفجر، آیت ١١
ٱلَّذِينَ طَغَوْا۟ فِى ٱلْبِلَـٰدِ جملے کی ترکیب ٱلَّذِينَ صفتی صلۂ موصول شروع کرتا ہے۔ طَغَوْا۟ جمع مذکر فعلِ ماضی ہے، متصل و اس کا فاعل اور فِى ٱلْبِلَـٰدِ فعل سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ ان سب نے ملکوں میں سرکشی کی تھی۔ ٱلَّذِينَ — وہ جنہوں نے گرامر: جمع مذکر اسمِ موصول ہے جو صفتی صلۂ موصول شروع کرتا ہے۔ طَغَوْا۟ — سرکشی کی گرامر: جمع مذکر غائب فعلِ ماضی ہے اور متصل و فاعل ہے۔ فِى — میں گرامر: حرفِ جر ہے جو اگلے اسم کو مجرور کرتا ہے۔ یہ ترکیب «طَغَوْا۟» سے متعلق ہے۔ ٱلْبِلَـٰدِ — ملکوں میں گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور بِلَادِ جمع مؤنث اسمِ مجرور ہے جسے فِى نے جر دیا ہے۔
2. سورۃ الفجر، آیت ١٢
فَأَكْثَرُوا۟ فِيهَا ٱلْفَسَادَ جملے کی ترکیب فَأَكْثَرُوا۟ بابِ افعال کا جمع مذکر فعلِ ماضی ہے اور متصل و فاعل ہے۔ ٱلْفَسَادَ مفعول بہ منصوب اور فِيهَا فعل سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ اور ان میں بہت فساد پھیلایا تھا۔ فَأَكْثَرُوا۟ — پھر کثرت سے کیا گرامر: فَ عطف و نتیجہ کے لیے، أَكْثَرُوا۟ بابِ افعال کا جمع مذکر فعلِ ماضی اور متصل و فاعل ہے۔ فِيهَا — ان میں گرامر: فِى حرفِ جر اور متصل هَا واحد مؤنث ضمیرِ مجرور ہے۔ یہ ترکیب «أَكْثَرُوا۟» سے متعلق ہے۔ ٱلْفَسَادَ — فساد گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور فَسَادَ مفعول بہ منصوب مذکر ہے۔
3. سورۃ الفجر، آیت ١٣
فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ جملے کی ترکیب فَصَبَّ فعلِ ماضی اور رَبُّكَ اس کا فاعل ہے۔ سَوْطَ مفعول بہ اور عَذَابٍ اس کا مضاف الیہ ہے؛ عَلَيْهِمْ فعل سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ تو آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ فَصَبَّ — تو ڈالا گرامر: فَ نتیجہ کے لیے اور صَبَّ واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے۔ عَلَيْهِمْ — ان پر گرامر: عَلَىٰ حرفِ جر اور متصل هِمْ جمع مذکر ضمیرِ مجرور ہے۔ یہ ترکیب «صَبَّ» سے متعلق ہے۔ رَبُّكَ — تیرے رب نے گرامر: رَبُّ، صَبَّ کا فاعلِ مرفوع اور متصل كَ مضاف الیہ ہے۔ سَوْطَ — کوڑا گرامر: نکرہ مذکر مفعول بہ منصوب ہے جو اگلے اسم کی طرف مضاف ہے۔ عَذَابٍ — عذاب کا گرامر: نکرہ مذکر اسمِ مجرور ہے جو سَوْطَ کا مضاف الیہ ہے۔
4. سورۃ الفجر، آیت ١٤
إِنَّ رَبَّكَ لَبِٱلْمِرْصَادِ جملے کی ترکیب إِنَّ مؤکد اسمیہ جملہ شروع کرتا ہے۔ رَبَّكَ اس کا اسم، متصل كَ مضاف الیہ اور لَبِٱلْمِرْصَادِ لامِ تاکید کے ساتھ جار و مجرور خبر ہے۔ آیت کا خلاصہ یقیناً آپ کا رب سب کے اعمال پر پوری نگاہ رکھتا ہے۔ إِنَّ — بیشک گرامر: حرفِ نصب و تاکید ہے جو اسمیہ جملہ شروع کرتا ہے۔ رَبَّكَ — تیرا رب گرامر: رَبَّ، إِنَّ کا اسمِ منصوب اور متصل كَ مضاف الیہ ہے۔ لَبِٱلْمِرْصَادِ — البتہ گھات میں ہے گرامر: لَ لامِ تاکید، بِ حرفِ جر، ٱل حرفِ تعریف اور مِرْصَادِ اسمِ مجرور ہے؛ پوری ترکیب إِنَّ کی خبر ہے۔
5. سورۃ الفجر، آیت ١٥
فَأَمَّا ٱلْإِنسَـٰنُ إِذَا مَا ٱبْتَلَىٰهُ رَبُّهُۥ فَأَكْرَمَهُۥ وَنَعَّمَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّىٓ أَكْرَمَنِ جملے کی ترکیب فَأَمَّا ٱلْإِنسَـٰنُ تفصیلی مبتدا شروع کرتا ہے۔ إِذَا مَا ٱبْتَلَىٰهُ رَبُّهُۥ ظرفی جملہ، فَيَقُولُ اس کا جواب اور رَبِّىٓ أَكْرَمَنِ مقولۂ قول ہے۔ آیت کا خلاصہ انسان خوش حالی کی آزمائش کو اپنی عزت سمجھ لیتا ہے۔ فَأَمَّا — تو رہا گرامر: فَ استئناف اور أَمَّا حرفِ شرط و تفصیل ہے جس کے جواب پر آگے فاء آتی ہے۔ ٱلْإِنسَـٰنُ — انسان گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور إِنسَانُ تفصیلی جملے کا مبتدا مرفوع مذکر ہے۔ إِذَا — جب گرامر: غیر جازم ظرفِ زمان و شرط ہے جو آزمائش والا جملہ شروع کرتا ہے۔ یہ ترکیب «ٱلْإِنسَـٰنُ» کے ساتھ ظرفی خبر کا تعلق رکھتی ہے۔ مَا — جب گرامر: إِذَا کے بعد زائدہ و تاکید کا حرف ہے؛ یہاں الگ نحوی عمل نہیں کرتا۔ ٱبْتَلَىٰهُ — آزماتا ہے اس کو گرامر: بابِ افتعال کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے؛ متصل هُ مفعول بہ اور اگلا اسم اس کا فاعل ہے۔ رَبُّهُۥ — اس کا رب گرامر: رَبُّ، ٱبْتَلَىٰهُ کا فاعلِ مرفوع اور متصل هُۥ مضاف الیہ ہے۔ فَأَكْرَمَهُۥ — پھر عزت دیتا ہے اس کو گرامر: فَ عطف و نتیجہ، أَكْرَمَ بابِ افعال کا فعلِ ماضی، فاعل هُوَ مستتر اور متصل هُۥ مفعول بہ ہے۔ وَنَعَّمَهُۥ — اور نعمت دیتا ہے اس کو گرامر: وَ حرفِ عطف، نَعَّمَ بابِ تفعیل کا فعلِ ماضی، فاعل مستتر اور متصل هُۥ مفعول بہ ہے۔ فَيَقُولُ — تو کہتا ہے گرامر: فَ جواب و نتیجہ کے لیے، يَقُولُ واحد مذکر غائب فعلِ مضارع مرفوع اور فاعل هُوَ مستتر ہے۔ رَبِّىٓ — میرے رب نے گرامر: رَبِّ مقولۂ قول کے اسمیہ جملے کا اسم ہے؛ متصل ى مضاف الیہ اور حرکت اس سے پہلے مقدر ہے۔ أَكْرَمَنِ — عزت دی مجھ کو گرامر: بابِ افعال کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے، فاعل هُوَ مستتر؛ نِ نونِ وقایہ اور محذوف/مقدر ى مفعول بہ ہے۔
6. سورۃ الفجر، آیت ١٦
وَأَمَّآ إِذَا مَا ٱبْتَلَىٰهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّىٓ أَهَـٰنَنِ جملے کی ترکیب وَأَمَّآ دوسری مقابل صورت شروع کرتا ہے۔ إِذَا مَا ٱبْتَلَىٰهُ ظرفی جملہ، فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُۥ اسی کا حصہ اور فَيَقُولُ رَبِّىٓ أَهَـٰنَنِ جواب اور مقولۂ قول ہے۔ آیت کا خلاصہ اور رزق کی تنگی کی آزمائش کو اپنی ذلت سمجھ لیتا ہے۔ وَأَمَّآ — اور اگر پھر گرامر: وَ حرفِ عطف اور أَمَّا دوسری تفصیلی شرط شروع کرتا ہے۔ إِذَا — جب گرامر: غیر جازم ظرفِ زمان و شرط ہے جو آزمائش والا جملہ شروع کرتا ہے۔ اس ظرفی ترکیب کا تعلق «أَمَّآ» سے ہے۔ مَا — جب گرامر: إِذَا کے بعد زائدہ و تاکید کا حرف ہے؛ یہاں الگ عمل نہیں کرتا۔ ٱبْتَلَىٰهُ — وہ آزماتا ہے اس کو گرامر: بابِ افتعال کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی ہے؛ فاعل هُوَ مستتر اور متصل هُ مفعول بہ ہے۔ فَقَدَرَ — (اور) پھر تنگ کردیتا ہے گرامر: فَ عطف و نتیجہ کے لیے، قَدَرَ واحد مذکر غائب فعلِ ماضی اور فاعل هُوَ مستتر ہے۔ عَلَيْهِ — اس پر گرامر: عَلَىٰ حرفِ جر اور متصل هِ واحد مذکر ضمیرِ مجرور ہے۔ یہ ترکیب «قَدَرَ» سے متعلق ہے۔ رِزْقَهُۥ — اس کا رزق گرامر: رِزْقَ، قَدَرَ کا مفعول بہ منصوب اور متصل هُۥ مضاف الیہ ہے۔ فَيَقُولُ — تو وہ کہتا ہے گرامر: فَ جواب کے لیے، يَقُولُ واحد مذکر غائب فعلِ مضارع مرفوع اور فاعل مستتر ہے۔ رَبِّىٓ — میرے رب نے گرامر: رَبِّ مقولۂ قول کے اسمیہ جملے کا اسم اور متصل ى مضاف الیہ ہے۔ أَهَـٰنَنِ — ذلیل کردیا مجھ کو گرامر: بابِ افعال کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی اور فاعل مستتر ہے؛ نِ نونِ وقایہ اور محذوف/مقدر ى مفعول بہ ہے۔
7. سورۃ الفجر، آیت ١٧
كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ ٱلْيَتِيمَ جملے کی ترکیب كَلَّا پچھلے گمان کی تردید اور بَلْ اصلاح کی طرف انتقال کرتا ہے۔ لَا تُكْرِمُونَ منفی جمع فعلیہ جملہ ہے؛ متصل و فاعل اور ٱلْيَتِيمَ مفعول بہ ہے۔ آیت کا خلاصہ مگر تم یتیم کی عزت و خاطر نہیں کرتے۔ كَلَّا ۖ — ہرگز نہیں گرامر: حرفِ ردع و زجر ہے اور نحوی عمل نہیں کرتا۔ بَل — بلکہ گرامر: حرفِ اضراب و انتقال ہے جو تردید کے بعد اصل بیان کی طرف لاتا ہے۔ لَّا — نہیں گرامر: حرفِ نفی غیر عامل ہے جو مضارع مرفوع پر آیا ہے۔ تُكْرِمُونَ — تم عزت دیتے گرامر: بابِ افعال کا جمع مذکر مخاطب فعلِ مضارع مرفوع ہے؛ متصل و فاعل اور آخری ن علامتِ رفع ہے۔ ٱلْيَتِيمَ — یتیم کو گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور يَتِيمَ واحد مذکر مفعول بہ منصوب ہے۔
8. سورۃ الفجر، آیت ١٨
وَلَا تَحَـٰٓضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ جملے کی ترکیب وَلَا تَحَـٰٓضُّونَ پچھلے منفی جملے پر معطوف ہے۔ فعل بابِ تفاعل، جمع مذکر مخاطب اور متصل و فاعل ہے؛ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ فعل سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ اور ایک دوسرے کو مسکین کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے۔ وَلَا — اور نہیں گرامر: وَ حرفِ عطف اور لَا حرفِ نفی غیر عامل ہے۔ تَحَـٰٓضُّونَ — تم اکساتے گرامر: بابِ تفاعل کا جمع مذکر مخاطب فعلِ مضارع مرفوع ہے؛ متصل و فاعل اور آخری ن علامتِ رفع ہے۔ عَلَىٰ — پر گرامر: حرفِ جر ہے جو اگلے اسم کو مجرور کرتا ہے۔ یہ ترکیب «تَحَـٰٓضُّونَ» سے متعلق ہے۔ طَعَامِ — کھانا کھلانے پر گرامر: مذکر مصدر ہے جو عَلَىٰ سے مجرور اور اگلے اسم کی طرف مضاف ہے۔ ٱلْمِسْكِينِ — مسکین کے گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور مِسْكِينِ، طَعَامِ کا مضاف الیہ مجرور مذکر ہے۔
9. سورۃ الفجر، آیت ١٩
وَتَأْكُلُونَ ٱلتُّرَاثَ أَكْلًۭا لَّمًّۭا جملے کی ترکیب وَتَأْكُلُونَ جمع مذکر مخاطب فعلِ مضارع مرفوع ہے اور متصل و فاعل ہے۔ ٱلتُّرَاثَ مفعول بہ، أَكْلًۭا مفعول مطلق اور لَّمًّۭا اس کی صفت ہے۔ آیت کا خلاصہ اور میراث کا مال حق و ناحق سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ وَتَأْكُلُونَ — اور تم کھا جاتے ہو گرامر: وَ حرفِ عطف؛ تَأْكُلُونَ جمع مذکر مخاطب مضارع مرفوع، متصل و فاعل اور آخری ن علامتِ رفع ہے۔ ٱلتُّرَاثَ — میراث کو گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور تُّرَاثَ مفعول بہ منصوب مذکر ہے۔ أَكْلًۭا — کھانا گرامر: نکرہ مذکر مفعول مطلق ہے جو تَأْكُلُونَ کے عمل کی تاکید کرتا ہے۔ لَّمًّۭا — سمیٹ کر گرامر: نکرہ مذکر صفتِ منصوب ہے جو أَكْلًۭا کی صفت ہے۔
10. سورۃ الفجر، آیت ٢٠
وَتُحِبُّونَ ٱلْمَالَ حُبًّۭا جَمًّۭا جملے کی ترکیب وَتُحِبُّونَ جمع مذکر مخاطب فعلِ مضارع مرفوع ہے؛ متصل و فاعل اور آخری ن علامتِ رفع ہے۔ ٱلْمَالَ مفعول بہ، حُبًّۭا مفعول مطلق اور جَمًّۭا اس کی صفت ہے۔ آیت کا خلاصہ اور مال سے حد سے بڑھی ہوئی محبت رکھتے ہو۔ وَتُحِبُّونَ — اور تم محبت رکھتے ہو گرامر: وَ حرفِ عطف؛ تُحِبُّونَ بابِ افعال کا جمع مذکر مخاطب مضارع مرفوع، و فاعل اور ن علامتِ رفع ہے۔ ٱلْمَالَ — مال سے گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور مَالَ مفعول بہ منصوب مذکر ہے۔ حُبًّۭا — محبت گرامر: نکرہ مذکر مفعول مطلق ہے جو تُحِبُّونَ کے عمل کی تاکید کرتا ہے۔ جَمًّۭا — بہت زیادہ گرامر: نکرہ مذکر صفتِ منصوب ہے جو حُبًّۭا کی صفت ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
ٱلَّذِينَ طَغَوْا۟ فِى ٱلْبِلَـٰدِ ١١ طَغَوْا۟ میں متصل و کیا ہے؟
- مفعول بہ
- مضاف الیہ
- فاعل
- علامتِ رفع
سوال 2
فَأَكْثَرُوا۟ فِيهَا ٱلْفَسَادَ ١٢ أَكْثَرُوا۟ کے ساتھ ٱلْفَسَادَ کیا ہے؟
- فاعل
- خبر
- اسمِ مجرور
- مفعول بہ منصوب
سوال 3
فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ ١٣ صَبَّ کے ساتھ رَبُّكَ کیا ہے؟
- فاعلِ مرفوع
- مفعول بہ
- خبر
- صفت
سوال 4
إِنَّ رَبَّكَ لَبِٱلْمِرْصَادِ ١٤ إِنَّ کے بعد رَبَّكَ کیا ہے؟
- خبر
- اسمِ إِنَّ
- فعل کا فاعل
- منادا
سوال 5
فَأَمَّا ٱلْإِنسَـٰنُ إِذَا مَا ٱبْتَلَىٰهُ رَبُّهُۥ فَأَكْرَمَهُۥ وَنَعَّمَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّىٓ أَكْرَمَنِ ١٥ ٱبْتَلَىٰهُ میں متصل هُ کیا ہے؟
سوال 6
وَأَمَّآ إِذَا مَا ٱبْتَلَىٰهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّىٓ أَهَـٰنَنِ ١٦ فَقَدَرَ کے ساتھ رِزْقَهُۥ کیا ہے؟
- فاعل
- خبر
- صفتِ مجرور
- مفعول بہ منصوب
سوال 7
كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ ٱلْيَتِيمَ ١٧ تُكْرِمُونَ کے ساتھ ٱلْيَتِيمَ کیا ہے؟
- مفعول بہ منصوب
- فاعل
- خبر
- اسمِ مجرور
سوال 8
وَلَا تَحَـٰٓضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ ١٨ تَحَـٰٓضُّونَ کس باب سے ہے؟
- بابِ تفعیل
- بابِ تفاعل
- بابِ افعال
- بابِ استفعال
سوال 9
وَتَأْكُلُونَ ٱلتُّرَاثَ أَكْلًۭا لَّمًّۭا ١٩ أَكْلًۭا کیا ہے؟
- فاعل
- مفعول بہ
- مفعول مطلق
- خبر
سوال 10
وَتُحِبُّونَ ٱلْمَالَ حُبًّۭا جَمًّۭا ٢٠ حُبًّۭا کے ساتھ جَمًّۭا کیا ہے؟
- فاعل
- مفعول بہ
- اسمِ مجرور
- صفتِ منصوب
تعاملی کوئز کھولیں