سورۃ الإخلاص — حصہ ١

آیات ١–٤ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ الإخلاص — حصہ ١ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. سورۃ الإخلاص، آیت ١

قُلْ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ ۝١ جملے کی ترکیب فعلِ امر قُلْ کے بعد مقولۂ قول هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ آیا ہے۔ هُوَ ضمیرِ منفصل ہے، جبکہ ٱللَّهُ اور أَحَدٌ مرفوع ہیں۔ آیت کا خلاصہ کہہ دیجیے: وہ اللہ ایک ہے۔ قُلْ — کہہ دیجئے گرامر: واحد مذکر حاضر فعلِ امر ہے جس کا فاعل ضمیرِ مستتر «أَنْتَ» ہے۔ هُوَ — وہ گرامر: مقولۂ قول میں واحد مذکر غائب ضمیرِ منفصل ہے۔ ٱللَّهُ — اللہ گرامر: اسمِ علم مرفوع ہے۔ أَحَدٌ — ایک ہے گرامر: نکرہ مذکر اسم مرفوع ہے۔

2. سورۃ الإخلاص، آیت ٢

ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ ۝٢ جملے کی ترکیب یہ جملۂ اسمیہ ہے: اسمِ علم مرفوع ٱللَّهُ مبتدا اور مرفوع ٱلصَّمَدُ اس کی خبر ہے۔ آیت کا خلاصہ اللہ بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔ ٱللَّهُ — اللہ گرامر: اسمِ علم مرفوع ہے جو جملۂ اسمیہ کا مبتدا ہے۔ ٱلصَّمَدُ — بےنیاز ہے گرامر: معرفہ مذکر اسم مرفوع ہے جو ٱللَّهُ کی خبر ہے۔

3. سورۃ الإخلاص، آیت ٣

لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ۝٣ جملے کی ترکیب لَمْ نفی کرتا اور فعلِ مضارع معروف يَلِدْ کو مجزوم کرتا ہے۔ حرفِ عطف وَ کے بعد دوسرا لَمْ فعلِ مضارع مجہول يُولَدْ کو مجزوم کرتا ہے۔ آیت کا خلاصہ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ لَمْ — نہ گرامر: حرفِ نفی و جزم ہے جو يَلِدْ کو مجزوم کرتا ہے۔ يَلِدْ — اس نے جنا گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ مضارع معروف ہے جسے لَمْ نے مجزوم کیا ہے؛ اس کا فاعل ضمیرِ مستتر «هُوَ» ہے۔ وَلَمْ — اور نہ گرامر: وَ حرفِ عطف اور لَمْ حرفِ نفی و جزم ہے۔ يُولَدْ — وہ جنا گیا گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ مضارع مجہول ہے جسے لَمْ نے مجزوم کیا ہے؛ اس کا نائب فاعل ضمیرِ مستتر «هُوَ» ہے۔

4. سورۃ الإخلاص، آیت ٤

وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدٌۢ ۝٤ جملے کی ترکیب حرفِ عطف وَ کے بعد لَمْ، يَكُن کو مجزوم کرتا ہے۔ لَّهُۥ جار و مجرور، كُفُوًا، يَكُن کی خبر منصوب، اور أَحَدٌۢ اس کا اسم مرفوع ہے۔ آیت کا خلاصہ اور کوئی بھی اس کے برابر نہیں۔ وَلَمْ — اور نہیں گرامر: وَ حرفِ عطف اور لَمْ حرفِ نفی و جزم ہے۔ يَكُن — ہے گرامر: كَانَ سے واحد مذکر غائب فعلِ مضارع ہے جسے لَمْ نے مجزوم کیا ہے۔ لَّهُۥ — اس کے لئے گرامر: لِ حرفِ جر ہے جو متصل هُۥ کو مجرور کرتا ہے؛ یہ ترکیب كُفُوًا سے متعلق ہے۔ كُفُوًا — برابر کا گرامر: نکرہ مذکر اسم منصوب ہے جو يَكُن کی خبر ہے۔ أَحَدٌۢ — کوئی ایک بھی گرامر: نکرہ مذکر اسم مرفوع ہے جو يَكُن کا اسم ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

قُلْ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ ۝١ قُلْ کس قسم کا فعل ہے؟

  • واحد مذکر حاضر فعلِ امر
  • واحد مذکر غائب فعلِ ماضی
  • فعلِ مضارع مجہول
  • اسم مرفوع

سوال 2

ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ ۝٢ ٱلصَّمَدُ کا نحوی محل کیا ہے؟

  • مفعول بہ منصوب
  • ٱللَّهُ کی خبر مرفوع
  • اسم مجرور
  • فعل مجزوم

سوال 3

لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ۝٣ يُولَدْ معروف ہے یا مجہول؟

  • فعلِ ماضی معروف
  • فعلِ امر
  • فعلِ مضارع مجہول
  • اسمِ فاعل

سوال 4

وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدٌۢ ۝٤ كُفُوًا کا نحوی محل کیا ہے؟

  • اسم مرفوع
  • اسم مجرور
  • فعل مجزوم
  • يَكُن کی خبر منصوب

تعاملی کوئز کھولیں