سورۃ الانشقاق — حصہ ١
آیات ١–٧ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ الانشقاق — حصہ ١ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ الانشقاق، آیت ١
إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنشَقَّتْ جملے کی ترکیب إِذَا غیر جازم زمانی شرط لاتا ہے۔ ٱلسَّمَآءُ بابِ انفعال کے فعلِ ماضی ٱنشَقَّتْ کا فاعلِ مرفوع ہے۔ جوابِ شرط محذوف ہے۔ آیت کا خلاصہ قیامت کے وقت آسمان پھٹ جائے گا۔ إِذَا — جب گرامر: غیر جازم شرطیہ ظرفِ زمان ہے جو بعد کا جملہ لاتا ہے۔ ٱلسَّمَآءُ — آسمان گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور سَّمَآءُ، ٱنشَقَّتْ کا مؤنث فاعلِ مرفوع ہے۔ ٱنشَقَّتْ — پھٹ جائے گا گرامر: بابِ انفعال کا واحد مؤنث غائب فعلِ ماضی ہے؛ آخری تْ علامتِ تانیث ہے۔
2. سورۃ الانشقاق، آیت ٢
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ جملے کی ترکیب وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا پچھلے جملۂ شرط پر معطوف ہے اور اس کا فاعل مستتر هِيَ ہے۔ وَحُقَّتْ فعلِ ماضی مجہول معطوف ہے اور اس کا نائب فاعل مستتر هِيَ ہے۔ آیت کا خلاصہ آسمان اپنے رب کا حکم پوری فرمانبرداری سے قبول کرے گا۔ وَأَذِنَتْ — اور کان لگائے گا گرامر: وَ حرفِ عطف اور أَذِنَتْ واحد مؤنث غائب فعلِ ماضی ہے جس کا فاعل مستتر هِيَ ہے۔ لِرَبِّهَا — اپنے رب کے لئے گرامر: لِ حرفِ جر، رَبِّ اسمِ مجرور اور متصل هَا مضاف الیہ ہے۔ وَحُقَّتْ — اور حق یہی ہے گرامر: وَ حرفِ عطف؛ حُقَّتْ واحد مؤنث غائب فعلِ ماضی مجہول ہے جس کا نائب فاعل مستتر هِيَ ہے۔
3. سورۃ الانشقاق، آیت ٣
وَإِذَا ٱلْأَرْضُ مُدَّتْ جملے کی ترکیب معطوف وَإِذَا ایک اور زمانی شرط لاتا ہے۔ مُدَّتْ فعلِ ماضی مجہول اور ٱلْأَرْضُ اس کا نائب فاعلِ مرفوع ہے۔ آیت کا خلاصہ محشر کے لیے زمین پھیلا کر ہموار کر دی جائے گی۔ وَإِذَا — اور جب گرامر: وَ حرفِ عطف اور إِذَا غیر جازم شرطیہ ظرفِ زمان ہے۔ ٱلْأَرْضُ — زمین گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور أَرْضُ فعلِ مجہول مُدَّتْ کا نائب فاعلِ مرفوع ہے۔ مُدَّتْ — پھیلادی جائے گی گرامر: واحد مؤنث غائب فعلِ ماضی مجہول ہے؛ آخری تْ علامتِ تانیث ہے۔
4. سورۃ الانشقاق، آیت ٤
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ جملے کی ترکیب وَأَلْقَتْ معطوف ہے اور اس کا فاعل مستتر هِيَ ہے جو زمین کی طرف لوٹتا ہے۔ اسمِ موصول مَا اس کا مفعول بہ اور فِيهَا صلۂ موصول ہے۔ وَتَخَلَّتْ معطوف ہے اور اس کا فاعل مستتر هِيَ ہے۔ آیت کا خلاصہ زمین اپنے خزانے اور مردوں کے اجزا باہر نکال کر خالی ہو جائے گی۔ وَأَلْقَتْ — اور اس نے نکال پھینکا گرامر: وَ حرفِ عطف؛ أَلْقَتْ بابِ افعال کا واحد مؤنث غائب فعلِ ماضی ہے جس کا فاعل مستتر هِيَ ہے۔ مَا — جو گرامر: اسمِ موصول ہے جو أَلْقَتْ کا مفعول بہ ہے۔ فِيهَا — اس میں ہے گرامر: فِي حرفِ جر اور متصل هَا ضمیرِ مجرور ہے؛ جار و مجرور مَا کے صلۂ موصول کے محذوف متعلق سے وابستہ ہے۔ وَتَخَلَّتْ — اور خالی ہوجائے گی گرامر: وَ حرفِ عطف؛ تَخَلَّتْ بابِ تفعّل کا واحد مؤنث غائب فعلِ ماضی ہے جس کا فاعل مستتر هِيَ ہے۔
5. سورۃ الانشقاق، آیت ٥
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ جملے کی ترکیب وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا معطوف ہے اور زمین کی طرف لوٹنے والا هِيَ اس کا فاعل مستتر ہے۔ وَحُقَّتْ فعلِ ماضی مجہول معطوف ہے اور اس کا نائب فاعل مستتر هِيَ ہے۔ آیت کا خلاصہ زمین بھی اپنے رب کے حکم کی پوری فرمانبرداری کرے گی۔ وَأَذِنَتْ — اور کان لگائے گی گرامر: وَ حرفِ عطف اور أَذِنَتْ واحد مؤنث غائب فعلِ ماضی ہے جس کا فاعل مستتر هِيَ ہے۔ لِرَبِّهَا — اپنے رب کے لئے گرامر: لِ حرفِ جر، رَبِّ اسمِ مجرور اور متصل هَا مضاف الیہ ہے۔ وَحُقَّتْ — اور حق یہی ہے گرامر: وَ حرفِ عطف؛ حُقَّتْ واحد مؤنث غائب فعلِ ماضی مجہول ہے جس کا نائب فاعل مستتر هِيَ ہے۔
6. سورۃ الانشقاق، آیت ٦
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْإِنسَـٰنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًۭا فَمُلَـٰقِيهِ جملے کی ترکیب يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْإِنسَـٰنُ ندا ہے۔ متصل كَ اسمِ إن اور كَادِحٌ اس کی خبر ہے۔ إِلَىٰ رَبِّكَ اسی سے متعلق اور كَدْحًا مفعول مطلق ہے۔ فَمُلَـٰقِيهِ میں اسمِ فاعل اور متصل ضمیر ہے جس کے محل اور مرجع کی معتبر ترکیبیں مختلف ہیں۔ آیت کا خلاصہ ہر انسان بھلائی یا برائی میں محنت کرتے ہوئے آخر اپنے رب سے ملے گا اور اپنے اعمال کا نتیجہ پائے گا۔ يَـٰٓأَيُّهَا — اے گرامر: يَا حرفِ ندا، أَيُّ منادی ہے جو محلِ نصب میں ضمہ پر مبنی، اور هَا حرفِ تنبیہ ہے۔ ٱلْإِنسَـٰنُ — انسان گرامر: ٱل حرفِ تعریف اور إِنسَـٰنُ، أَيُّ کا بدل یا عطفِ بیان مرفوع ہے۔ إِنَّكَ — بیشک گرامر: إِنَّ حرفِ نصب و تاکید اور متصل كَ اس کا اسمِ منصوب ہے۔ كَادِحٌ — تو محنت کرنے والا ہے گرامر: اسمِ فاعل اور إِنَّ کی خبرِ مرفوع ہے۔ إِلَىٰ — طرف گرامر: حرفِ جر ہے جو كَادِحٌ سے متعلق ہے۔ رَبِّكَ — اپنے رب کی گرامر: رَبِّ، إِلَىٰ کی وجہ سے مجرور اور متصل كَ اس کا مضاف الیہ ہے۔ كَدْحًۭا — خوب محنت گرامر: نکرہ مصدر منصوب ہے جو كَادِحٌ کا مفعول مطلق ہے۔ فَمُلَـٰقِيهِ — پھر ملنے والا ہے اس سے گرامر: فَ نتیجہ ملاتا ہے؛ مُلَـٰقِي اسمِ فاعل اور هِ متصل ضمیر ہے۔ یہ اضافت کی وجہ سے مجرور یا اسمِ فاعل کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہو سکتی ہے، اس لیے اس کے محل یا مرجع پر سوال نہیں۔
7. سورۃ الانشقاق، آیت ٧
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ جملے کی ترکیب فَأَمَّا تفصیل شروع کرتا ہے۔ مَنْ اسمِ موصول و مبتدا ہے، اس کا صلہ فعلِ مجہول أُوتِىَ اور نائب فاعل مستتر هُوَ ہے۔ كِتَـٰبَهُۥ مفعول بہ اور بِيَمِينِهِۦ فعل سے متعلق ہے۔ جواب آیت 8 میں آتا ہے۔ آیت کا خلاصہ جس شخص کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملے گا وہ کامیاب ہوگا۔ فَأَمَّا — تو رہا گرامر: فَ استئناف اور أَمَّا تفصیلی شرط شروع کرتا ہے جس کا جواب آیت 8 میں ہے۔ مَنْ — وہ جو گرامر: اسمِ موصول اور مبتدا ہے؛ فعلِ مجہول أُوتِىَ کا جملہ اس کا صلۂ موصول ہے۔ أُوتِىَ — دیا گیا گرامر: بابِ افعال کا واحد مذکر غائب فعلِ ماضی مجہول ہے جس کا نائب فاعل مستتر هُوَ ہے۔ كِتَـٰبَهُۥ — کتاب اپنی گرامر: كِتَـٰبَ، أُوتِىَ کا مفعول بہ منصوب اور متصل هُۥ اس کا مضاف الیہ ہے۔ بِيَمِينِهِۦ — اپنے دائیں ہاتھ میں گرامر: بِ حرفِ جر، يَمِينِ اسمِ مجرور اور متصل هِۦ مضاف الیہ ہے؛ جار و مجرور أُوتِىَ سے متعلق ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنشَقَّتْ ١ ٱلسَّمَآءُ کا نحوی کردار کیا ہے؟
- ٱنشَقَّتْ کا فاعل
- مفعول بہ
- صفت
- مضاف الیہ
سوال 2
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ٢ لِرَبِّهَا میں متصل هَا کیا ہے؟
- فاعل
- مضاف الیہ مجرور
- مفعول بہ
- صفت
سوال 3
وَإِذَا ٱلْأَرْضُ مُدَّتْ ٣ فعلِ مجہول مُدَّتْ کے ساتھ ٱلْأَرْضُ کیا ہے؟
- فاعل
- مفعول بہ
- نائب فاعل مرفوع
- صفت
سوال 4
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ ٤ وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا میں مَا کیا ہے؟
- حرفِ نفی
- اسمِ استفہام
- فاعل
- اسمِ موصول بطور مفعول بہ
سوال 5
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ٥ حُقَّتْ کس صیغے میں ہے؟
- فعلِ ماضی مجہول
- فعلِ ماضی معروف
- فعلِ مضارع
- فعلِ امر
سوال 6
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْإِنسَـٰنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًۭا فَمُلَـٰقِيهِ ٦ كَدْحًا کا نحوی کردار کیا ہے؟
سوال 7
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ ٧ أُوتِىَ کے ساتھ كِتَـٰبَهُۥ کیا ہے؟
تعاملی کوئز کھولیں