سورۃ اللیل — حصہ ٣

آیات ١٥–٢١ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ اللیل — حصہ ٣ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. سورۃ اللیل، آیت ١٥

لَا يَصْلَىٰهَآ إِلَّا ٱلْأَشْقَى جملے کی ترکیب لَا، يَصْلَىٰهَآ کی نفی کرتا ہے اور متصل هَا مفعول ہے۔ إِلَّا حصر کرتا ہے اور ٱلْأَشْقَى فاعل ہے۔ آیت کا خلاصہ اس میں وہی بڑا بدبخت داخل ہوگا۔ لَا — نہیں گرامر: فعلِ مضارع مرفوع سے پہلے غیر عامل حرفِ نفی ہے۔ يَصْلَىٰهَآ — اس میں داخل ہوگا گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ مضارع ہے؛ متصل هَا واحد مؤنث مفعول بہ ہے۔ إِلَّا — مگر گرامر: منفی ترکیب میں حرفِ حصر و استثنا ہے۔ ٱلْأَشْقَى — سب سے بدبخت گرامر: معرفہ مذکر اسمِ تفضیل ہے جو يَصْلَىٰ کا فاعلِ مرفوع ہے۔

2. سورۃ اللیل، آیت ١٦

ٱلَّذِى كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ جملے کی ترکیب ٱلَّذِى، ٱلْأَشْقَى کی صفت ہے۔ كَذَّبَ اور معطوف وَتَوَلَّىٰ فاعلِ مستتر کے ساتھ صلۂ موصول بناتے ہیں۔ آیت کا خلاصہ جس نے حق کو جھٹلایا اور منہ موڑا۔ ٱلَّذِى — وہ جس نے گرامر: واحد مذکر اسمِ موصول ہے جو ٱلْأَشْقَى کی صفت ہے؛ اس کا صلہ آگے ہے۔ كَذَّبَ — جھٹلایا گرامر: صلۂ موصول میں بابِ تفعیل کا واحد مذکر فعلِ ماضی ہے؛ فاعل هُوَ مستتر ہے۔ وَتَوَلَّىٰ — اور منہ موڑا گرامر: وَ حرفِ عطف؛ تَوَلَّىٰ بابِ تفعّل کا فعلِ ماضی اور فاعل هُوَ مستتر ہے۔

3. سورۃ اللیل، آیت ١٧

وَسَيُجَنَّبُهَا ٱلْأَتْقَى جملے کی ترکیب وَسَيُجَنَّبُهَا میں عطف، سَ استقبال اور بابِ تفعیل کا مضارع مجہول ہے؛ هَا مفعول ہے۔ ٱلْأَتْقَى نائب فاعل ہے۔ آیت کا خلاصہ اور بہت پرہیزگار شخص اس آگ سے بچا لیا جائے گا۔ وَسَيُجَنَّبُهَا — اور اسے اس سے دور رکھا جائے گا گرامر: وَ عطف، سَ استقبال؛ يُجَنَّبُ بابِ تفعیل کا مضارع مجہول اور هَا مفعول ہے۔ ٱلْأَتْقَى — سب سے زیادہ متقی گرامر: معرفہ مذکر اسمِ تفضیل ہے جو نائب فاعلِ مرفوع ہے۔

4. سورۃ اللیل، آیت ١٨

ٱلَّذِى يُؤْتِى مَالَهُۥ يَتَزَكَّىٰ جملے کی ترکیب ٱلَّذِى، ٱلْأَتْقَى کی صفت ہے۔ يُؤْتِى کا فاعل مستتر اور مَالَهُۥ مفعول ہے؛ يَتَزَكَّىٰ جملۂ حالیہ ہے۔ آیت کا خلاصہ جو اپنا مال نفس کو پاک کرنے کے لیے دیتا ہے۔ ٱلَّذِى — وہ جو گرامر: واحد مذکر اسمِ موصول ہے جو ٱلْأَتْقَى کی صفت ہے؛ اس کا صلہ آگے ہے۔ يُؤْتِى — دیتا ہے گرامر: بابِ افعال کا واحد مذکر غائب فعلِ مضارع ہے؛ فاعل هُوَ مستتر ہے۔ مَالَهُۥ — اپنا مال گرامر: مذکر مفعول بہ منصوب ہے جو يُؤْتِى کا مفعول ہے؛ هُۥ مضاف الیہ ہے۔ يَتَزَكَّىٰ — پاکیزگی چاہتا ہوا گرامر: بابِ تفعّل کا واحد مذکر غائب فعلِ مضارع اور فاعل مستتر ہے؛ اس کا جملہ حالیہ ہے۔

5. سورۃ اللیل، آیت ١٩

وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰٓ جملے کی ترکیب وَمَا منفی اسمیہ ترکیب شروع کرتا ہے۔ لِأَحَدٍ اور عِندَهُۥ جار و مجرور/ظرفی ترکیبیں ہیں؛ مِن نِّعْمَةٍ نفی کے تحت ہے اور مضارع مجہول تُجْزَىٰٓ، نِّعْمَةٍ کی صفت ہے۔ آیت کا خلاصہ اور اس پر کسی کا ایسا احسان نہیں جس کا وہ بدلہ چکا رہا ہو۔ وَمَا — اور نہیں گرامر: وَ حرفِ عطف اور مَا غیر عامل حرفِ نفی ہے۔ لِأَحَدٍ — کسی کے لیے گرامر: لِ حرفِ جر اور أَحَدٍ نکرہ مذکر اسمِ مجرور ہے۔ یہ ترکیب ایک جزِ محذوف کے ذریعے متعلق ہے۔ عِندَهُۥ — اس کے پاس گرامر: ظرفِ مکان ہے جو متصل واحد مذکر ضمیر هُۥ کی طرف مضاف ہے۔ یہ ترکیب «نِعْمَةٍ» سے متعلق ہے۔ مِن — کوئی گرامر: حرفِ جر ہے جو نفی کے بعد نکرہ اسم نِّعْمَةٍ سے پہلے آیا ہے۔ «نِعْمَةٍ» کے ساتھ خبر محذوف مانی گئی ہے۔ نِّعْمَةٍۢ — نعمت گرامر: مِن کے بعد نکرہ مؤنث اسمِ مجرور ہے؛ اگلا جملہ اس کی صفت ہے۔ تُجْزَىٰٓ — جس کا بدلہ دیا جائے گرامر: واحد مؤنث غائب مضارع مجہول اور نائب فاعل هِيَ مستتر ہے؛ جملہ نِّعْمَةٍ کی صفت ہے۔

6. سورۃ اللیل، آیت ٢٠

إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ ٱلْأَعْلَىٰ جملے کی ترکیب إِلَّا استثنا شروع کرتا ہے۔ ٱبْتِغَآءَ بابِ افتعال کا مصدر منصوب ہے؛ وَجْهِ رَبِّهِ مسلسل اضافت اور ٱلْأَعْلَىٰ، رَبِّهِ کی صفت ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ صرف اپنے سب سے بلند رب کی رضا چاہتا ہے۔ إِلَّا — مگر گرامر: پچھلی منفی ترکیب سے استثنا شروع کرنے والا حرف ہے۔ ٱبْتِغَآءَ — طلب کرتے ہوئے گرامر: بابِ افتعال کا مصدر منصوب ہے جو استثنائی ترکیب میں آیا ہے۔ وَجْهِ — رضا گرامر: مذکر مضاف الیہ مجرور ہے جو ٱبْتِغَآءَ سے متعلق اور رَبِّ کی طرف مضاف ہے۔ رَبِّهِ — اپنے رب کی گرامر: مذکر مضاف الیہ مجرور ہے جو وَجْهِ کا مضاف الیہ ہے؛ متصل هِ بھی مضاف الیہ ہے۔ ٱلْأَعْلَىٰ — سب سے بلند گرامر: معرفہ مذکر اسمِ تفضیل مجرور ہے جو رَبِّهِ کی صفت ہے۔

7. سورۃ اللیل، آیت ٢١

وَلَسَوْفَ يَرْضَىٰ جملے کی ترکیب وَ عطف، لَ تاکید اور سَوْفَ استقبال کے لیے ہے۔ يَرْضَىٰ فعلِ مضارع اور اس کا فاعل هُوَ مستتر ہے۔ آیت کا خلاصہ اور عنقریب وہ خوش ہوجائے گا۔ وَلَسَوْفَ — اور یقیناً عنقریب گرامر: وَ حرفِ عطف، لَ لامِ تاکید اور سَوْفَ حرفِ استقبال ہے۔ يَرْضَىٰ — وہ راضی ہو جائے گا گرامر: واحد مذکر غائب فعلِ مضارع ہے؛ فاعل هُوَ مستتر ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

لَا يَصْلَىٰهَآ إِلَّا ٱلْأَشْقَى ۝١٥ يَصْلَىٰ کے ساتھ ٱلْأَشْقَى کیا ہے؟

  • مفعول
  • خبر
  • فاعلِ مرفوع
  • مضاف الیہ

سوال 2

ٱلَّذِى كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ۝١٦ تَوَلَّىٰ کس باب سے ہے؟

  • بابِ تفعیل
  • بابِ افعال
  • بابِ افتعال
  • بابِ تفعّل

سوال 3

وَسَيُجَنَّبُهَا ٱلْأَتْقَى ۝١٧ فعلِ مجہول کے بعد ٱلْأَتْقَى کیا ہے؟

  • نائب فاعل
  • مفعول
  • خبر
  • صفتِ مجرور

سوال 4

ٱلَّذِى يُؤْتِى مَالَهُۥ يَتَزَكَّىٰ ۝١٨ یہاں يَتَزَكَّىٰ کا جملہ کیا ہے؟

  • جملۂ صفت
  • جملۂ حالیہ
  • جملۂ مفعول
  • جملۂ قسم

سوال 5

وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰٓ ۝١٩ تُجْزَىٰٓ کس صیغے میں ہے؟

  • ماضی معروف
  • فعلِ امر
  • مضارع مجہول
  • اسمِ فاعل

سوال 6

إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ ٱلْأَعْلَىٰ ۝٢٠ رَبِّهِ کے ساتھ ٱلْأَعْلَىٰ کیا ہے؟

  • فاعل
  • مفعول
  • خبر
  • صفتِ مجرور

سوال 7

وَلَسَوْفَ يَرْضَىٰ ۝٢١ سَوْفَ کیا بتاتا ہے؟

  • استقبال
  • نفی
  • استفہام
  • جزم

تعاملی کوئز کھولیں