سورۃ الشمس — حصہ ٣
آیات ١١–١٥ لفظی معنی کے ساتھ۔ سورۃ الشمس — حصہ ٣ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سورۃ الشمس — حصہ ٣
سورۃ الشمس کی آیات ١١–١٥ کا لفظی مطالعہ جاری رکھیں۔
2. كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَىٰهَآ ﴿١١﴾
(قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کے سبب (پیغمبر کو) جھٹلایا
3. إِذِ ٱنۢبَعَثَ أَشْقَىٰهَا ﴿١٢﴾
جب ان میں سے ایک نہایت بدبخت اٹھا
4. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ ٱللَّهِ نَاقَةَ ٱللَّهِ وَسُقْيَـٰهَا ﴿١٣﴾
تو خدا کے پیغمبر (صالح) نے ان سے کہا کہ خدا کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے عذر کرو
5. فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنۢبِهِمْ فَسَوَّىٰهَا ﴿١٤﴾
مگر انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو خدا نے ان کےگناہ کے سبب ان پر عذاب نازل کیا اور سب کو (ہلاک کر کے) برابر کر دیا
6. وَلَا يَخَافُ عُقْبَـٰهَا ﴿١٥﴾
اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں
7. خلاصہ
سورۃ الشمس کی آیات ١١–١٥ کے لفظی معنی دہرائیں۔
مشق کے سوالات
سوال 1
لفظی ترجمہ مکمل کریں۔
سوال 2
لفظی ترجمہ مکمل کریں۔
سوال 3
لفظی ترجمہ مکمل کریں۔
سوال 4
لفظی ترجمہ مکمل کریں۔
سوال 5
لفظی ترجمہ مکمل کریں۔
تعاملی کوئز کھولیں