نجس اور مشکوک پانی
نجس اور مشکوک پانی کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. چوتھی قسم: ناپاک پانی (الماء النجس) کے احکام
اصل متن وَالرَّابِعُ: مَاءٌ نَجِسٌ وَهُوَ الَّذِي حَلَّتْ فِيهِ نَجَاسَةٌ وَكَانَ رَاكِدًا قَلِيلًا • ناپاک پانی کی تعریف: وہ پانی جس میں کوئی حقیقی نجاست (جیسے خون، پیشاب، یا شراب کا قطرہ) گر جائے اور وہ پانی تھوڑا اور ٹھہرا ہوا (قلیل اور راکد) ہو۔ • قلیل پانی کی تعریف: حنفی فقہ میں وہ ٹھہرا ہوا پانی جو دہ درد دہ سے کم رقبے پر پھیلا ہوا ہو۔ • نجس ہونے کا شرعی حکم: اگر ایسے تھوڑے پانی میں نجاست کا ایک قطرہ بھی گر جائے، تو وہ پانی فوراً ناپاک ہو جائے گا، چاہے اس کا رنگ، بو یا ذائقہ تبدیل نہ بھی ہوا ہو!
2. جاری پانی اور بڑے تالاب کے نجس ہونے کا معیار
اصل متن أَوْ جَارِيًا وَظَهَرَ فِيهِ أَثَرُهَا، وَالْأَثَرُ: طَعْمٌ أَوْ لَوْنٌ أَوْ رِيحٌ • بڑا تالاب یا جاری پانی: وہ پانی جو جاری ہو (بہتا ہوا، جیسے نہر) یا بڑا ٹھہرا ہوا تالاب ہو (جو دہ درد دہ یعنی 10 × 10 ہاتھ یا اس سے بڑا ہو)۔ • نجس ہونے کا معیار: یہ پانی محض گندگی گرنے سے ناپاک نہیں ہوتا۔ یہ تبھی ناپاک مانا جائے گا جب اس میں نجاست کا اثر ظاہر ہو جائے۔ • نجاست کے اوصاف (اثر): گندگی کا اثر تین چیزوں سے معلوم کیا جاتا ہے: ◦ طعم: ذائقہ بدل جانا۔ ◦ لون: رنگ بدل جانا۔ ◦ ريح: بو بدل جانا۔
3. ناپاکی کا یقین اور مشکوک پانی کا تعارف
اصل متن وَالْخَامِسُ: مَاءٌ مَشْكُوكٌ فِي طَهُورِيَّتِهِ وَهُوَ مَا شَرِبَتْ مِنْهُ الْهِرَّةُ... (شَرِبَ مِنْهُ حِمَارٌ أَوْ بَغْلٌ) • ناپاکی کا یقین: حاشیہ کے مطابق پانی کو صرف اسی وقت ناپاک کہا جائے گا جب گندگی گرنے کا یقین ہو یا غالب گمان ہو۔ محض شک، وہم یا وسوسے کی بنیاد پر پانی کو ناپاک قرار دینا منع ہے۔ • پانچویں قسم (مشکوک پانی): وہ پانی جس میں سے گدھے یا خچر نے پی لیا ہو۔ • یہ پانی بذاتِ خود پاک ہے (نجس نہیں ہے) لیکن اس سے پاکیزگی حاصل ہونے کے بارے میں شرعی طور پر شک و تردد پایا جاتا ہے، اس لیے اسے "ماءِ مشکوک" کہتے ہیں۔
4. مشکوک پانی موجود ہونے کی صورت میں عمل کا طریقہ
• عمل کا طریقہ: اگر کسی شخص کو نماز کا وقت ہونے پر مشکوک پانی (گدھے یا خچر کا جھوٹا) کے علاوہ کوئی اور پانی نہ ملے، تو وہ درج ذیل طریقہ کار اختیار کرے گا: ◦ اس پانی سے وضو بھی کرے گا۔ ◦ اور مٹی سے تیمم بھی کرے گا۔ • نماز کی ادائیگی: ان دونوں کاموں کو ملا کر کرنے کے بعد وہ نماز ادا کرے گا۔ • ترتیب کا مسئلہ: حاشیہ کے مطابق وضو پہلے کرنا اور تیمم بعد میں کرنا زیادہ مستحب اور افضل ہے تا کہ پانی کی ترجیح برقرار رہے: "والأفضل تقديم الماء..."۔
5. مشکوک کی فقہی بحث اور خچر کی ماں کا شرعی اعتبار
• خچر کی ماں کا اعتبار: حاشیہ کے مطابق، خچر کا جھوٹا پانی صرف اسی وقت مشکوک مانا جائے گا جب اس کی ماں مادہ گدھی (أتان) ہو، گھوڑی نہ ہو۔ • حاشیہ ابو طاہر الدباس کا لفظِ مشکوک پر اعتراض نقل کرتا ہے اور یہاں اس خچر کو مراد لیتا ہے جس کی ماں گدھی ہو۔
مشق کے سوالات
سوال 1
حنفی فقہ میں ٹھہرے ہوئے چھوٹے پانی (قلیل پانی) کی حد کیا مقرر کی گئی ہے؟
- دہ درد دہ (۱۰ ہاتھ چوڑے اور ۱۰ ہاتھ لمبے) رقبے سے کم۔
- ۱۰۰ میٹر سے کم۔
- وہ پانی جو ندی میں بہہ رہا ہو۔
- ۲ رطل سے کم۔
سوال 2
اگر ٹھہرے ہوئے چھوٹے تالاب (دہ درد دہ سے کم) میں خون کا ایک قطرہ گر جائے، تو جب تک اس کا رنگ، بو یا ذائقہ نہ بدلے تب تک اس سے وضو کرنا جائز ہے۔
سوال 3
پانی کے درج ذیل ذخائر کو ان کے نجس (ناپاک) ہونے کے شرعی معیار سے جوڑیں:
سوال 4
بہتے ہوئے جاری پانی میں نجاست کے اثر (اثرِ نجاست) سے مراد کون سے تین مادی اوصاف ہیں؟
- درجہ حرارت، مقدار اور وزن
- ذائقہ، رنگ اور بو
- گہرائی، چوڑائی اور بہنے کی رفتار
- زعفران، دودھ اور سرکہ
سوال 5
اگر کسی کے پاس صرف مشکوک پانی موجود ہو، تو نماز پڑھنے کے لیے اس پانی سے وضو کرنا اور پاک مٹی سے تیمم کرنا دونوں فرض ہیں۔
سوال 6
صفحہ ۱۲ کے حواشی کے مطابق، کس شرط کے تحت خچر کا جھوٹا پانی مشکوک مانا جاتا ہے؟
- صرف اس صورت میں جب خچر بھیڑ سے بڑا ہو۔
- صرف اس صورت میں جب خچر کی ماں مادہ گدھی ہو، گھوڑی نہ ہو۔
- صرف اس صورت میں جب خچر نے جاری نہر سے پانی پیا ہو۔
- خچر کا پانی کبھی مشکوک نہیں ہوتا۔
سوال 7
درج ذیل پانیوں کو ان کی درست شرعی حنفی اقسام سے جوڑیں:
سوال 8
مشکوک پانی کے استعمال میں وضو پہلے کرنا اور تیمم بعد میں کرنا زیادہ مستحب اور افضل ہے۔
تعاملی کوئز کھولیں