تین ممنوعہ اوقات جن میں کوئی نماز جائز نہیں
تین ممنوعہ اوقات جن میں کوئی نماز جائز نہیں کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. تین ممنوعہ اوقات جن میں کوئی نماز جائز نہیں
ثَلَاثَةُ أَوْقَاتٍ لَا يَصِحُّ فِيهَا شَيْءٌ مِنَ الْفَرَائِضِ وَالْوَاجِبَاتِ... عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ... وَعِنْدَ اسْتِوَائِهَا... وَعِنْدَ اصْفِرَارِهَا • مطلق ممانعت: حنفی فقہ میں دن کے چوبیس گھنٹوں میں تین اوقات ایسے مخصوص کیے گئے ہیں جن میں کوئی بھی فرض یا واجب نماز پڑھنا سرے سے باطل اور ناجائز ہے: ◦ طلوعِ شمس: سورج نکلنے کے وقت سے لے کر اس کے خوب اونچا ہونے تک۔ ◦ استوائے شمس: دوپہر کے وقت جب سورج بالکل آسمان کے بیچ میں قائم ہو جائے (زوال ہونے تک)۔ ◦ اصفرارِ شمس: شام کے وقت جب سورج پیلا پڑ جائے اور اس کی تیز روشنی ختم ہو جائے (غروب ہونے تک)۔ • ممنوعہ اعمال: ان اوقات میں نہ تو کوئی قضا نماز پڑھی جا سکتی ہے، نہ ہی سجدہ تلاوت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی نذر کی نماز ادا ہو سکتی ہے۔
2. آج کی عصر کی نماز کا واحد استثنیٰ
إِلَّا عَصْرَ الْيَوْمِ عَيْنِهِ فَإِنَّهُ يَصِّحُ مَعَ الْكَرَاهَةِ • واحد استثنیٰ: ان تین سخت ممنوعہ اوقات کے حکم میں صرف ایک استثنا ہے: • حکم: اگر کسی شخص نے کسی وجہ سے آج کے دن کی عصر کی نماز اب تک نہ پڑھی ہو، تو وہ سورج کے پیلے پڑنے یعنی اصفرارِ شمس کے وقت بھی اسے ادا کر سکتا ہے اور اس کی نماز درست مانی جائے گی۔ • کراہت: لیکن یاد رہے کہ بغیر عذر کے نمازِ عصر کو اس وقت تک ٹالنا شدید ناپسندیدہ اور گناہ ہے، اس لیے مصنف نے فرمایا: "فإنه يصح مع الكراهة" (یہ کراہت کے ساتھ درست ہے)۔ • آج کی عصر کے علاوہ پچھلی کسی بھی دن کی قضا عصر اس وقت پڑھنا بالکل باطل ہے۔
3. جنازے اور سجدہ تلاوت کا وقت اور علت کا قانون
وَسَجْدَةُ آيَةٍ تُلِيَتْ فِيهَا، وَصَلَاةُ جَنَازَةٍ حَضَرَتْ فِيهَا، لَا مَا تُلِيَتْ وَحَضَرَتْ قَبْلَهَا • علت کا قانون: حنفی فقہ میں ممنوعہ اوقات میں سجدہ تلاوت اور جنازہ کی نماز کی صحت کا انحصار اس کی علت (سبب) کے وقت پر ہے: ◦ وقت کے دوران علت: اگر سجدہ کی آیت ان ممنوعہ اوقات کے دوران تلاوت کی گئی، یا جنازہ ان اوقات کے دوران تیار ہو کر حاضر ہوا، تو سجدہ کرنا اور جنازے کی نماز پڑھنا اگر سبب اسی وقت پیدا ہوا ہو تو ادائیگی درست ہے، مگر کراہت کے ساتھ۔ ◦ وقت سے پہلے علت: اگر آیت ممنوعہ وقت سے پہلے پڑھی گئی تھی یا جنازہ پہلے سے تیار تھا، اور نماز یا سجدہ ممنوعہ وقت میں کیا گیا، تو یہ مکروہ (ناپسندیدہ) اور ممنوع ہے۔ اسے تاخیر کر کے پڑھنا چاہیے۔
4. نفل نمازوں کے لیے ناپسندیدہ اوقات: فجر اور عصر کے احکام
وَيُكْرَهُ التَّنَفُّلُ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ بِأَكْثَرَ مِنْ سُنَّتِهِ، وَبَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ... وَبَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ • نفل کی کراہت کا دائرہ: نفل (رضاکارانہ) نمازوں کی ممانعت کا دائرہ فرض نمازوں سے وسیع ہے، ان کا پڑھنا درج ذیل اوقات میں ناپسندیدہ ہے: ◦ صبحِ صادق کے بعد: صبحِ صادق طلوع ہونے کے بعد فجر کی دو سنتوں کے علاوہ کوئی بھی نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ ◦ فجر کے فرض کے بعد: فجر کی فرض نماز ادا کرنے کے بعد سے لے کر سورج طلوع ہونے تک نفل پڑھنا مکروہ ہے۔ ◦ عصر کے فرض کے بعد: عصر کی فرض نماز پڑھنے کے بعد سے لے کر سورج ڈوبنے تک نفل پڑھنا مکروہ ہے۔ • یاد رکھیں: ان اوقات میں قضا نمازیں پڑھی جا سکتی ہیں، صرف نفل پڑھنا مکروہ ہے۔
5. نفل کے مکروہ اوقات: خطبے اور اقامت کا ممانعت
وَعِنْدَ خُرُوجِ الْخَطِيبِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلَاةِ، وَعِنْدَ الْإِقَامَةِ إِلَّا سُنَّةَ الْفَجْرِ • خطبے کے دوران ممانعت: جب امام (خطیب) جمعہ یا عیدین کے خطبے کے لیے اپنے حجرے سے باہر نکل آئے (خروج الخطيب)، اس لمحے سے لے کر نماز مکمل ہونے تک نفل نماز شروع کرنا شدید مکروہ ہے۔ • اقامت کے دوران کا استثنیٰ: ◦ جب فرض نماز کی اقامت شروع ہو جائے، تو نفل یا سنت پڑھنا مکروہ ہوتا ہے، سوائے فجر کی سنت کے۔ ◦ فجر کی سنت کا مخصوص قاعدہ: اگر فجر کی جماعت کھڑی ہو جائے، اور نماز پڑھنے والے کو یقین ہو کہ وہ سنت پڑھ کر بھی جماعت کا کوئی حصہ، حتیٰ کہ آخری تشہد، پا لے گا، تو اس کے لیے مسجد کے دروازے کے پاس یا ہال سے باہر فجر کی سنتیں پڑھنا جائز ہے، کیونکہ فجر کی سنتوں کی تاکید بہت زیادہ ہے۔
6. نفل کے مکروہ اوقات: عیدین اور حج کے دوران کے مسائل
وَقَبْلَ صَلَاةِ الْعِيدِ، وَبَعْدَهُ فِي الْمُصَلَّى، وَبَيْنَ الْجَمْعَيْنِ فِي عَرَفَةَ • عیدین کی نفلیں: عید کی نماز کے دن نفل پڑھنے کے مخصوص احکام ہیں: ◦ عید کی نماز سے پہلے: عید کی نماز شروع ہونے سے پہلے نفل پڑھنا مکروہ ہے، خواہ وہ گھر پر پڑھے یا عید گاہ (مصلیٰ) میں۔ ◦ عید کی نماز کے بعد: عید گاہ کے اندر نفل پڑھنا مکروہ ہے، البتہ گھر آ کر پڑھنے کی ممانعت نہیں ہے۔ • حج کا اجتماع: میدانِ عرفات میں ظہر کے وقت جب ظہر اور عصر کو ملا کر پڑھا جائے، تو ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی بھی نفل یا سنت پڑھنا مکروہ ہے تاکہ دونوں فرائض کا باہمی تسلسل ٹوٹنے نہ پائے۔
7. نفل کے مکروہ اوقات: تنگ وقت اور پریشان کن حالتیں
وَعِنْدَ ضِيقِ وَقْتِ الْمَكْتُوبَةِ، وَمُدَافَعَةِ الْأَخْبَثَيْنِ، وَحُضُورِ طَعَامٍ تَتَوقُهُ نَفْسُهُ • تنگ وقت کا قاعدہ: جب فرض نماز کا وقت اتنا تنگ ہو جائے کہ نفل شروع کرنے کی صورت میں فرض نماز قضا ہونے کا اندیشہ ہو، تو نفل پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔ فرض کو بچانا اولین ترجیح ہے۔ • پریشان کن حالتیں: ایسی حالتیں جو انسان کے ذہنی سکون اور نماز میں توجہ کو خراب کریں، ان کے دوران نفل شروع کرنا مکروہ ہے: ◦ مدافعة الأخبثين: جب پیشاب یا پاخانے کا شدید تقاضا ہو اور انسان اسے زبردستی روکے ہوئے ہو۔ ◦ حضورِ طعام: جب پسندیدہ کھانا سامنے پیش کر دیا گیا ہو اور دل اس کی طرف کھنچ رہا ہو۔ ◦ ہر وہ حالت جو دل کو مشغول کرے اور خشوع کو ختم کر دے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
حنفی فقہ کے مطابق درج ذیل میں سے کس وقت میں کسی بھی فرض یا واجب نماز کو پڑھنا سرے سے باطل اور غیر معتبر ہے؟
- عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد سے لے کر سورج پیلا پڑنے تک۔
- سورج طلوع ہونے کے وقت سے لے کر اس کے خوب اونچا ہونے تک۔ [67]
- مغرب کی اذان اور فرض نماز کے درمیانی وقت میں۔
- آدھی رات کے فوراً بعد۔
سوال 2
اگر سجدہ تلاوت کی آیت سورج طلوع ہونے کے وقت ہی تلاوت کی جائے، تو اسی وقت سجدہ تلاوت ادا کرنا درست ہے، مگر کراہت کے ساتھ۔
سوال 3
شام کے وقت سورج پیلا پڑنے (اصفرار) کے دوران شریعت نے کس واحد فرض نماز کو پڑھنے کا استثنیٰ دیا ہے؟
- گذشتہ کل کی قضا فجر۔
- صرف آج کے دن کی عصر کی نماز۔ [68]
- گذشتہ رات کے وتر۔
- کوئی بھی استثنیٰ موجود نہیں ہے۔
سوال 4
جنازے کی نماز ان تین ممنوعہ اوقات میں ہمیشہ مکروہ ہے، قطع نظر اس کے کہ میت کب حاضر کی گئی ہو۔
سوال 5
فجرِ صادق طلوع ہونے کے بعد کس وقت نفل نماز پڑھنا ناپسندیدہ ہے؟
- صرف سورج نکلنے کے بعد۔
- ہر حال میں مکروہ ہے، سوائے فجر کی دو رکعت سنت کے۔ [68]
- صبح کے وقت نفل پڑھنا کبھی مکروہ نہیں ہوتا۔
- صرف ابر آلود دن میں۔
سوال 6
فجر کی جماعت کھڑی ہونے کے باوجود کس شرط کے تحت انسان کے لیے فجر کی سنتیں پڑھنا جائز ہے؟
- صرف اس صورت میں جب وہ امام کے ساتھ اسی صف میں کھڑے ہو کر پڑھے۔
- جب جماعت کا کوئی حصہ، حتیٰ کہ آخری تشہد، ملنے کی امید ہو اور سنت صفوں سے الگ پڑھی جائے۔ [69]
- اگر امام بہت چھوٹی سورت پڑھ رہا ہو۔
- اس کا کوئی استثنیٰ نہیں ہے اور جماعت شروع ہوتے ہی شامل ہونا فرض ہے۔
سوال 7
سلائیڈ ۳.۱ اور ۳.۴ کے مطابق درج ذیل اوقات کو "تمام نمازوں کے لیے ممنوع" اور "صرف نفل کے لیے مکروہ" کے خانوں میں تقسیم کریں:
سوال 8
جب کھانا تیار ہو کر سامنے حاضر ہو اور دل اس کی طرف کھنچ رہا ہو، تو نفل نماز شروع کرنا کیوں ناپسندیدہ ہے؟
- کیونکہ کھانا ٹھنڈا ہو جائے گا۔
- کیونکہ یہ دل کو مشغول کرتا ہے اور نماز میں مطلوبہ عاجزی اور توجہ (خشوع) کو متاثر کرتا ہے۔ [69]
- کیونکہ کھانا کھانا نماز کی شرط ہے۔
- کیونکہ امام پہلے کھانا کھائے گا۔
تعاملی کوئز کھولیں