نماز کے ارکان اور شرائط میں فرق

نماز کے ارکان اور شرائط میں فرق کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. نماز کے ارکان اور شرائط میں فرق

• ارکان کی تعریف: ارکان وہ لازمی فرائض ہیں جو نماز کی حقیقت کا اندرونی حصہ ہیں (جیسے رکوع یا سجدہ)۔ ان کے بغیر نماز سرے سے باطل ہو جاتی ہے۔ • شرائط کی تعریف: شرائط وہ لازمی فرائض ہیں جو نماز شروع ہونے سے پہلے ضروری ہیں اور نماز کے باہر کی حقیقت ہیں (جیسے وضو یا قبلہ رخ ہونا)۔ • اس لیول میں ہم نماز کے پہلے دو بڑے ارکان: قیام اور قرأت کا تفصیلی فقہی مطالعہ کریں گے۔

2. پہلا رکن: قادر شخص کے لیے قیام کی فرضیت

فَرْضِيَّةُ الْقِيَامِ لِلْقَادِرِ عَلَيْهِ فِي الْفَرْضِ وَالْوَاجِبِ • قیام کا حکم: فرض اور واجب نمازوں (جیسے عیدین یا وتر) میں قیام کرنا یعنی سیدھا کھڑا ہونا فرض ہے، بشرطیکہ نمازی اس پر قادر ہو۔ • قادر کی تعریف: وہ شخص جو بغیر کسی شدید تکلیف، بیماری یا معذوری کے کھڑا ہو سکتا ہو۔ اگر کوئی شدید بیماری یا درد کی وجہ سے کھڑا ہونے سے عاجز ہو، تو اس سے قیام کا فرض ساقط ہو جاتا ہے۔ • نوافل کا استثنیٰ: نفلی نمازیں قادر ہونے کے باوجود بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے، البتہ کھڑے ہو کر پڑھنے والے کو دگنا ثواب ملتا ہے۔

3. قیام کی شرعی اور جسمانی حد

حَدُّ الْقِيَامِ أَنْ لَا تَصِلَ يَدَاهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ لَوْ مَدَّهُمَا • قیام کی حد: قیام کی آخری حد یہ ہے کہ نمازی اتنا سیدھا کھڑا ہو کہ اگر وہ اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں کی طرف بڑھائے، تو اس کے ہاتھ گھٹنوں تک نہ پہنچیں۔ • جھکنے کا قانون: اگر نمازی کھڑے ہونے کی حالت میں اتنا زیادہ جھک جائے کہ اس کے ہاتھ گھٹنوں کو چھونے لگیں، تو وہ شرعاً قیام (کھڑا ہونا) نہیں کہلائے گا بلکہ وہ رکوع کے قریب شمار ہوگا اور اس کا قیام باطل ہو جائے گا۔ • سہارے کا حکم: اگر کوئی شخص معمولی کمزوری کی وجہ سے بغیر سہارے کھڑا نہ ہو سکے، تو اس پر کسی دیوار یا لاٹھی کا سہارا لے کر کھڑا ہونا فرض ہے؛ وہ براہِ راست بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا۔

4. دوسرا رکن: قرأت اور اس کی کم از کم مقدار

وَالْقِرَاءَةُ: وَهِيَ فَرْضٌ، وَأَقَلُّهَا آيَةٌ كَامِلَةٌ فِي الصَّحِيحِ • قرأت کا حکم: نماز کے اندر قرآن مجید کی تلاوت کرنا فرض ہے۔ • کم از کم مقدار (أقل القراءة): حنفی مذہب کے صحیح ترین اور معتمد قول کے مطابق، قرأت کی کم از کم فرض مقدار ایک مکمل لمبی آیت یا تین چھوٹی آیتیں پڑھنا ہے۔ • حاشیے کی وضاحت: صرف ایک یا دو حرف پکارنا (جیسے "ن" یا "ق") فرض قرأت کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ ایسی واضح آیت ہونی چاہیے جو مکمل معنی فراہم کرے۔

5. قرأت کی زبان کا شرعی قانون

وَلَا يَصِحُّ بِغَيْرِ الْعَرَبِيَّةِ إِلَّا عِنْدَ الْعَجْزِ عَنْهَا • قرأت کی زبان: نماز میں قرآنی قرأت عربی زبان میں کی جاتی ہے۔ یہاں کسی اجماع یا سیکھنے والے کے لیے الگ استثنا کا اضافہ نہیں کیا گیا۔

مشق کے سوالات

سوال 1

قیام (کھڑے ہونے) کی حالت میں نمازی کے جھکنے کی آخری حد کیا ہے جس سے قیام باطل ہو جاتا ہے؟

  • اگر سر ۵ انچ جھک جائے۔
  • اگر ہاتھ بڑھانے پر گھٹنوں تک پہنچنے لگیں۔ [77]
  • صرف اس صورت میں جب پیٹھ بالکل سیدھی رکوع کی طرح ہو جائے۔
  • کھڑے ہونے کے دوران جھکنے کی کوئی حد نہیں ہے۔

سوال 2

پانچ وقت کی فرض نمازوں کی تمام چاروں رکعتوں میں تلاوت (قرأت) کرنا فرض ہے۔

  • سچ
  • جھوٹ [77]

سوال 3

حنفی فقہ کے مطابق فرض قرأت کو پورا کرنے کے لیے قرآن مجید کی کم از کم کتنی مقدار پڑھنا لازم ہے؟

  • پوری سورہ فاتحہ پڑھنا۔
  • ایک مکمل لمبی آیت یا تین چھوٹی آیتیں۔ [77]
  • صرف ایک لفظ جیسے "ن" پکارنا۔
  • کسی بھی سورت کا آدھا حصہ۔

سوال 4

نماز میں قرآنی قرأت کس زبان میں کی جاتی ہے؟

  • کوئی بھی پسندیدہ ترجمہ
  • عربی
  • صرف نمازی کی مادری زبان
  • نفل نماز میں کوئی بھی زبان

سوال 5

درج ذیل نمازوں کو ان کی تلاوت (قرأت) کے درست شرعی احکام سے جوڑیں:

سوال 6

فرض نمازوں کے لیے درج ذیل جسمانی حالتوں کو "جائز قیام" اور "ناجائز قیام" کے گروپوں میں تقسیم کریں:

سوال 7

اگر ایک کمزور نمازی لاٹھی یا دیوار کے سہارے کھڑا ہو سکتا ہو، تو اس پر سہارا لے کر کھڑا ہونا فرض ہے اور وہ بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا۔

  • سچ [77]
  • جھوٹ

تعاملی کوئز کھولیں