تیسرا رکن: رکوع اور اس کی جسمانی حد

تیسرا رکن: رکوع اور اس کی جسمانی حد کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. تیسرا رکن: رکوع اور اس کی جسمانی حد

وَالرُّكُوعُ: وَهُوَ فَرْضٌ، وَحَدُّهُ أَنْ يَحْنِيَ ظَهْرَهُ حَتَّى تَصِلَ يَدَاهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ • رکوع کا حکم: نماز کے اندر رکوع کرنا فرض ہے۔ • رکوع کی آخری حد: رکوع کی کم از کم شرعی حد یہ ہے کہ نمازی اپنی پیٹھ کو اتنا جھکائے کہ اس کے دونوں ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں۔ • کامل طریقہ: مسنون طریقہ یہ ہے کہ سر اور پیٹھ کو بالکل ایک سیدھ میں برابر کیا جائے، اور ہاتھوں کی انگلیوں کو کشادہ کر کے گھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑا جائے۔

2. چوتھا رکن: سجدہ اور زمین کی سختی (حجم) کی شرط

وَالسُّجُودُ عَلَى مَا يَجِدُ حَجْمَهُ وَتَسْتَقِرُّ عَلَيْهِ جَبْهَتُهُ • سجدہ کا حکم: ہر رکعت میں دو بار سجدہ کرنا فرض ہے۔ • حجم کی بنیادی شرط: سجدہ ایسی چیز پر ہونا ضروری ہے جس کی سختی محسوس ہو اور جس پر پیشانی اچھی طرح جم جائے (یعنی مزید دبانے سے نہ دبے)۔ • نرم چیزوں پر سجدہ: ◦ روئی، اون یا گدے پر سجدہ کرنا جائز ہے بشرطیکہ وہ دباؤ سے اتنے دب جائیں کہ مزید دبنے کی گنجائش نہ رہے اور زمین کی سختی محسوس ہونے لگے۔ ◦ اگر روئی اتنی نرم ہو کہ پیشانی رکھنے پر وہ دبتی چلی جائے اور جمے نہیں، تو سجدہ باطل ہو جائے گا۔

3. پیشانی اور ناک پر سجدہ کرنے کے احکام

• پیشانی اور ناک: پیشانی اور ناک کا سخت حصہ رکھا جائے؛ پیشانی کے عذر کے بغیر صرف ناک پر اکتفا درست نہیں۔

4. سجدے میں ہاتھ، گھٹنے اور پاؤں رکھنے کا حکم

• پاؤں کی انگلیاں: سجدے میں پاؤں کی انگلیوں کا کچھ حصہ زمین پر رکھا جائے؛ صرف پاؤں کی پشت رکھنا کافی نہیں۔

5. دوسرے نمازی کی پیٹھ پر سجدہ کرنے کا مسئلہ

وَيَجُوزُ السُّجُودُ عَلَى ظَهْرِ مُصَلٍّ صَلَّى صَلَاتَهُ • شدید بھیڑ کا مسئلہ: اگر نمازِ جمعہ یا عیدین کے دوران مسجد میں شدید بھیڑ ہو جائے اور زمین پر سجدہ کرنے کی جگہ بالکل نہ ملے: • جائز صورت: ایک نمازی کے لیے اپنے آگے کھڑے ہوئے دوسرے نمازی کی پیٹھ پر سجدہ کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ دونوں ایک ہی نماز پڑھ رہے ہوں۔ • شرط: اگر پیٹھ پر سجدہ کرنے والا اور وہ نمازی جس کی پیٹھ پر سجدہ کیا جا رہا ہے، دونوں الگ الگ نمازیں پڑھ رہے ہوں، تو یہ سجدہ بالاتفاق باطل اور ناجائز ہو جائے گا۔

مشق کے سوالات

سوال 1

حنفی فقہ میں رکوع کی فرضیت کو پورا کرنے کے لیے کم از کم کتنا جھکنا ضروری ہے؟

  • سر کو معمولی آگے جھکا دینا۔
  • پیٹھ کو اتنا جھکانا کہ دونوں ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں۔ [78]
  • پیٹھ کو زمین کے بالکل متوازی کر دینا۔
  • اتنا جھکنا کہ سینہ رانوں کو چھونے لگے۔

سوال 2

اگر کوئی شخص انتہائی نرم گدے پر سجدہ کرے جہاں اس کی پیشانی جمنے کے بجائے لگاتار دبتی چلی جائے، تو اس کا سجدہ جائز مانا جائے گا۔

  • سچ
  • جھوٹ [78]

سوال 3

فراہم کردہ سجدے کی عبارت کے مطابق کون سی ہیئت درست ہے؟

  • پیشانی اور ناک کا سخت حصہ رکھا جائے۔
  • بلا عذر ہمیشہ صرف ناک کافی ہے۔

سوال 4

اگر نمازی سجدے کے پورے دورانیے کے دوران اپنے دونوں پاؤں زمین سے بالکل اٹھا لے، تو اس کی نماز باطل ہو جاتی ہے۔

  • سچ [78]
  • جھوٹ

سوال 5

شدید بھیڑ کی حالت میں، کس مخصوص شرط کے تحت ایک نمازی کے لیے دوسرے نمازی کی پیٹھ پر سجدہ کرنا جائز ہوتا ہے؟

  • بشرطیکہ وہ دونوں جماعت میں بالکل ایک ہی نماز پڑھ رہے ہوں۔ [78]
  • بشرطیکہ وہ دونوں ایک دوسرے کو نہ جانتے ہوں۔
  • صرف اس صورت میں جب آگے والا نمازی بیٹھا ہوا ہو۔
  • یہ ہر حال میں بلا کسی شرط کے جائز ہے۔

سوال 6

فراہم کردہ سجدے کی عبارت کے مطابق کون سا بیان درست ہے؟

  • پیشانی اور ناک کا سخت حصہ رکھا جائے اور پاؤں کی انگلیوں کا کچھ حصہ زمین کو لگے۔
  • صرف پاؤں کی پشت رکھنا کافی ہے۔

سوال 7

سجدہ کرنے کے لیے درج ذیل مقامات کو "جائز مقامِ سجدہ" اور "ناجائز مقامِ سجدہ" کے گروپوں میں تقسیم کریں:

سوال 8

امام اعظم ابو حنیفہ کے نزدیک بغیر کسی عذر کے صرف ناک پر سجدہ کرنا (پیشانی زمین پر رکھے بغیر) کراہت کے ساتھ جائز ہے۔

  • سچ [78]
  • جھوٹ

تعاملی کوئز کھولیں