سنتِ مؤکدہ نمازیں (حصہ اول)
سنتِ مؤکدہ نمازیں (حصہ اول) کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. سنتِ مؤکدہ نمازیں (حصہ اول)
سُنَّ سُنَّةً مُؤَكَّدَةً رَكْعَتَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَأَرْبَعٌ قَبْلَ الظُّهْرِ بِتَسْلِيمَةٍ وَرَكْعَتَانِ بَعْدَهُ • سنتِ مؤکدہ کا حکم: وہ نمازیں جن پر رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ مداومت اختیار فرمائی ہو اور بغیر عذر کے کبھی نہ چھوڑا ہو۔ ان کا پڑھنا شرعی تاکید رکھتا ہے۔ • فجر کی سنت: فجر کے فرض سے پہلے دو (2) رکعتیں۔ یہ تمام سنتوں میں سب سے زیادہ تاکید والی سنت ہے۔ • ظہر کی سنتیں: * ظہر کے فرض سے پہلے چار (4) رکعتیں ایک سلام کے ساتھ پکارنا سنت ہے۔ ◦ ظہر کے فرض کے بعد دو (2) رکعتیں۔
2. سنتِ مؤکدہ نمازیں (حصہ دوم)
وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَسِتُّ رَكَعَاتٍ فِي الْجُلُوسِ الْأَوَّلِ مِنَ الرُّبَاعِيَّةِ الْمُؤَكَّدَةِ • مغرب کی سنت: مغرب کے فرض کے بعد دو رکعتیں۔ • عشاء کی سنت: عشاء کے فرض کے بعد دو رکعتیں۔ • کل تعداد: اس طرح چوبیس گھنٹے میں کل بارہ رکعتیں سنتِ مؤکدہ ہیں۔ • چار رکعتی سنت کا بیٹھنا: چار رکعت سنتِ مؤکدہ (جیسے ظہر کی پہلی چار رکعتیں) کے پہلے قعدے میں صرف تشہد پڑھنا واجب ہے، اس میں درود شریف یا دعا پڑھ کر کھڑا ہونا مسنون نہیں ہے۔
3. مستحب اور مندوب نفل نمازیں
وَنُدِبَ أَرْبَعٌ قَبْلَ الْعَصْرِ، وَقَبْلَ الْعِشَاءِ، وَبَعْدَهَا، وَسِتٌّ بَعْدَ الْمَغْرِبِ • مندوب کا مفہوم: وہ نفل نمازیں جن کے پڑھنے پر اجر و ثواب ہے لیکن نہ پڑھنے پر کوئی پکڑ یا ملامت نہیں ہے۔ • مستحب رکعتیں: 1. عصر سے پہلے: عصر کے فرض سے پہلے چار (4) رکعتیں ایک سلام سے (یا دو دو کر کے) پڑھنا مستحب ہے۔ ◦ عشاء سے پہلے: عشاء کے فرض سے پہلے چار (4) رکعتیں۔ ◦ عشاء کے بعد: عشاء کی دو سننِ مؤکدہ کے بعد مزید چار (4) رکعتیں (یا دو رکعتیں) نفل پڑھنا۔ ◦ مغرب کے بعد (اوابین): مغرب کے فرض و سنت کے بعد چھ (6) رکعتیں نفل پڑھنا مستحب ہے۔
4. نفل نمازوں میں قعدہ اور تلاوت کے قوانین
وَكُلُّ شَفْعٍ مِنَ النَّفْلِ صَلَاةٌ عَلَى حِدَةٍ، وَيُلْزَمُ الْقَعْدَةُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ • قعدہ کی فرضیت: نفل اور سنت غیر مؤکدہ کی ہر دو رکعت اپنے آپ میں ایک مستقل نماز کی طرح ہوتی ہے۔ • لازمی قعدہ: نفل نماز میں ہر دو رکعت کے بعد قعدہ کرنا اور تشہد پڑھنا بالاتفاق فرض ہے۔ • تلاوت کا دائرہ: نفل اور وتر کی تمام رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانا واجب ہے۔ • سنت غیر مؤکدہ کا تیسری رکعت میں اٹھنا: جب نفل یا سنت غیر مؤکدہ کی تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو، تو ثناء (سبحانک اللہم) اور تعوذ (اعوذ باللہ) دوبارہ پڑھنا مسنون ہے، کیونکہ یہ جوڑا پچھلی دو رکعتوں سے آزاد تصور ہوتا ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
حنفی فقہ کے مطابق چوبیس گھنٹے میں کل کتنی رکعتیں سنتِ مؤکدہ ہیں؟
- دس (10) رکعتیں
- بارہ (12) رکعتیں [128]
- اٹھارہ (18) رکعتیں
- بیس (20) رکعتیں
سوال 2
ظہر کی چار رکعت سنتِ مؤکدہ کے پہلے قعدے میں تشہد کے بعد درود شریف پڑھنا مستحب ہے۔
سوال 3
مغرب کی نماز کے بعد اوابین کے طور پر کتنی رکعتیں نفل پڑھنا مستحب ہے؟
- دو (2) رکعتیں
- چار (4) رکعتیں
- چھ (6) رکعتیں [129]
- آٹھ (8) رکعتیں
سوال 4
نفل نمازوں میں ہر دو رکعت کے بعد قعدہ کرنا اور تشہد پڑھنا فرض ہے۔
سوال 5
نفل یا غیر مؤکدہ سنت نماز کی تیسری رکعت کے آغاز میں کیا پڑھنا مسنون ہے؟
- بغیر کچھ پڑھے فوراً سورہ فاتحہ شروع کرنا۔
- ثناء اور تعوذ (اعوذ باللہ) دوبارہ پڑھنا۔ [129]
- دوبارہ تکبیرِ تحریمہ کہنا۔
- کچھ بھی نہیں پکارنا۔
سوال 6
نفل نماز کی بھی صرف پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانا واجب ہے۔
سوال 7
درج ذیل نمازوں کو ان کے درست شرعی درجات سے جوڑیں:
سوال 8
ظہر کے فرض سے پہلے ادا کی جانے والی سنتوں کا کیا شرعی قاعدہ ہے؟
- ایک سلام سے دو رکعتیں پڑھنا۔
- ایک ہی سلام کے ساتھ چار رکعتیں پڑھنا۔ [128]
- یہ اختیاری ہیں اور ان کی کوئی تاکید نہیں ہے۔
- انہیں باجماعت پڑھنا فرض ہے۔
تعاملی کوئز کھولیں