مرکبِ جاری کا تعارف اور حروفِ جار (بـ، تـ، و، کـ، فی)

مرکبِ جاری کا تعارف اور حروفِ جار (بـ، تـ، و، کـ، فی) کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس حصے میں ہم کیا سیکھیں گے؟

● اس حصے میں ہم اسم کے اعرابی احوال کا دوسرا بڑا سبب یعنی مرکبِ جاری (Prepositional Phrases) کا مطالعہ شروع کریں گے۔ ● ہم عربی کے ان حروف یعنی حروفِ جارّہ (Prepositions) کا تعارف حاصل کریں گے جو اپنے بعد آنے والے اسم کو حالتِ جر (مجرور) میں لے جاتے ہیں۔ ● ہم قرآن مجید میں بکثرت استعمال ہونے والے پہلے پانچ حروفِ جار: بـ، تـ، و، كـ، اور فِي کے معنی اور قواعد پڑھیں گے۔ ● ہم ان حروفِ جار کے ساتھ بننے والی روزمرہ مثالوں کا تفصیلی مطالعہ کریں گے۔

2. مرکبِ جاری کی تعریف اور حروفِ جار کا تعارف

● مرکبِ جاری کی تعریف: ○ حرفِ جار اور مجرور اسم کے مجموعے کو مرکبِ جاری کہتے ہیں۔ ● عربی زبان میں کچھ ایسے حروف ہیں جو اپنے بعد آنے والے اسم کو حالتِ جر (زیر کی حالت) میں لے جاتے ہیں، ان حروف کو حروفِ جارّہ کہتے ہیں، اور ان کے بعد آنے والے اسم کو مجرور کہا جاتا ہے: ○ عربی ترتیب = حرفِ جار + اسمِ مجرور ● عربی میں حروفِ جار کی کل تعداد 17 ہے، لیکن قرآن مجید میں زیادہ تر استعمال ہونے والے حروفِ جار کی تعداد کم ہے جن کا ہم درجہ بہ درجہ مطالعہ کریں گے۔

3. حروفِ جار: بـ (ساتھ) اور تـ (قسم)

● 1۔ حرفِ جار بـ (ساتھ / کے ذریعے / سے): ○ یہ حرف اسم کے شروع میں جڑ کر آتا ہے اور اسے مجرور کرتا ہے، جیسے: ■ حق کے ساتھ: -> بِالْحَقِّ (حرفِ جار بـ نے اَلْحَقُّ کو مجرور کر کے بِالْحَقِّ کر دیا)۔ ■ قلم کے ذریعے: -> بِالْقَلَمِ | کامیابی کے ساتھ: -> بِالْفَوْزِ۔ ■ اللہ کے نام کے ساتھ: -> بِسْمِ اللهِ (بِـ + اِسْمِ جڑ کر بِسْمِ بنا ہے، اور اِسْمِ مضاف ہے)۔ ● 2۔ حرفِ جار تـ (قسم): ○ یہ حرفِ جار صرف اللہ کے ذاتی نام کے ساتھ مخصوص ہے اور قسم کے لیے آتا ہے: ■ اللہ کی قسم: -> تَاللّٰهِ (یہاں لفظِ جلالہ تـ کی وجہ سے زیر کے ساتھ مجرور ہے)۔

4. حروفِ جار: و (قسم) اور كـ (کی مانند / طرح)

● 3۔ حرفِ جار و (قسم): ○ یہ حرف بھی قسم کھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کلامِ الہی میں بہت کثرت سے آیا ہے: ■ اللہ کی قسم: -> وَاللّٰهِ۔ ■ سورج کی قسم: -> وَالشَّمْسِ | چاند کی قسم: -> وَالْقَمَرِ | زمانہ کی قسم: -> وَالْعَصْرِ۔ ● 4۔ حرفِ جار كـ (کی مانند / کی طرح): ○ یہ تشبیہ دینے کے لیے اسم کے شروع میں جڑ کر آتا ہے: ■ چاند کی مانند: -> كَالْقَمَرِ | گدھے کی مانند: -> كَالْحِمَارِ | پہاڑوں کی مانند: -> كَالْجِبَالِ۔ ■ کھائے ہوئے بھسے کی مانند: -> كَعَصْفٍ مَّأْكُوْلٍ (عَصْفٍ مجرور موصوف ہے)۔

5. حرفِ جار: فِي (میں / In)

● 5۔ حرفِ جار فِي (میں / In): ○ یہ حرفِ جار اسم کے اندر کے مفہوم (In) کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے: ■ گھر میں: -> فِي الْبَيْتِ (الْبَيْتِ حرفِ جار فِي کی وجہ سے زیر کے ساتھ مجرور ہے)۔ ■ مسجد میں: -> فِي الْمَسْجِدِ | کتاب میں: -> فِي الْكِتَابِ۔ ■ اللہ کی راہ میں: -> فِي سَبِيلِ اللهِ (سَبِيلِ مضاف اور اَللهِ مضاف الیہ ہے)۔ ■ لوگوں کے سینوں میں: -> فِي صُدُورِ النَّاسِ۔ ■ تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں: -> فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ۔

مشق کے سوالات

سوال 1

عربی گرامر کی رو سے حروفِ جار اپنے بعد آنے والے اسم پر کیا گرامری اثر ڈالتے ہیں؟

  • اسم کو حالتِ جر (مجرور) میں لے جاتے ہیں
  • اسم کو حالتِ نصب (منصوب) میں لے جاتے ہیں
  • اسم کو ہمیشہ تنوین دیتے ہیں

سوال 2

حرفِ جار تـ (قسم) کے استعمال کے متعلق گرامر کا کون سا قاعدہ ہے؟

  • یہ صرف اللہ تعالی کے ذاتی نام (تَاللّٰهِ) کے ساتھ مخصوص ہے
  • یہ ہر قسم کے اسم کے ساتھ آ سکتا ہے
  • یہ تثنیہ کو جمع بنا دیتا ہے

سوال 3

عربی جملے "بِسْمِ اللهِ" میں اِسْمِ کے شروع کا الف (ہمزہ) حرفِ جار بـ کے جڑنے کی وجہ سے املائی طور پر حذف کر دیا جاتا ہے۔

  • درست
  • غلط

سوال 4

اللہ کے نام کے ساتھ

سوال 5

اللہ کی راہ میں

سوال 6

درج ذیل عربی مرکباتِ جاری کو ان کے درست اردو معانی کے ساتھ جوڑیں:

سوال 7

درج ذیل حروفِ جار کو ان کے معانی کے درست زمروں میں تقسیم کریں:

تعاملی کوئز کھولیں