مرکبِ اضافی کے قواعد اور املائی اصول
مرکبِ اضافی کے قواعد اور املائی اصول کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. مرکبِ اضافی کا تعارف اور خصوصیات
● اس حصے میں ہم مرکبِ ناقص کی تیسری اور سب سے کثرت سے استعمال ہونے والی قسم یعنی مرکبِ اضافی (Possessive Phrase) کا مطالعہ کریں گے۔ ● ہم سیکھیں گے کہ دو اسماء کے درمیان ملکیت یا باہمی تعلق ظاہر کرنے والے مرکب کو مرکبِ اضافی کہتے ہیں (جیسے "اللہ کا رسول")۔ ● ہم مضاف اور مضاف الیہ کی گرامری تعریفیں سمجھیں گے۔ ● ہم مضاف پر لاگو ہونے والے دو اہم املائی قواعد تفصیل سے پڑھیں گے۔
2. مضاف اور مضاف الیہ کا مفہوم
● مرکبِ اضافی کے دو بنیادی اجزاء ہوتے ہیں: 1. مضاف: وہ اسم جس کی نسبت دوسری چیز کی طرف دی جائے، جیسے "کتاب"۔ 2. مضاف الیہ: وہ اسم جس کی طرف نسبت دی جائے، جیسے "زید"۔ ● ترتیب کا فرق: اردو میں مضاف الیہ پہلے آتا ہے اور مضاف بعد میں (زید کی کتاب)، لیکن عربی میں ترتیب اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے یعنی مضاف پہلے اور مضاف الیہ بعد میں آتا ہے: ○ عربی ترتیب = مضاف + مضاف الیہ ○ جیسے: كِتَابُ زَيْدٍ (زید کی کتاب)
3. مضاف کے دو بنیادی املائی قواعد
● عربی گرامر میں مضاف بننے والے اسم پر درج ذیل دو قواعد لاگو ہوتے ہیں: 1. مضاف پر ال داخل نہیں ہوتا: مضاف کے شروع میں کبھی بھی ال داخل نہیں کیا جا سکتا۔ 2. مضاف کا اعراب ہلکا ہوتا ہے: یعنی مضاف کے آخری حرف سے تنوین (دو پیش، دو زبر، دو زیر) ہمیشہ گرا دی جاتی ہے اور صرف ایک پیش، زبر یا زیر باقی رہتی ہے۔ ● آئیے واحد اور جمع مؤنث کے اسماء کا اعراب ہلکا کرنے کا چارٹ دیکھتے ہیں: حالتِ رفعحالتِ نصبحالتِ جرنوعیت كِتَابُ (اصل: كِتَابٌ)كِتَابَ (اصل: كِتَابًا)كِتَابِ (اصل: كِتَابٍ)واحد مذکر جَنَّةُ (اصل: جَنَّةٌ)جَنَّةَ (اصل: جَنَّةً)جَنَّةِ (اصل: جَنَّةٍ)گول تا مؤنث آيَاتُ (اصل: آيَاتٌ)آيَاتِ (اصل: آيَاتٍ)آيَاتِ (اصل: آيَاتٍ)جمع مؤنث سالم أَبْوَابُ (اصل: أَبْوَابٌ)أَبْوَابَ (اصل: أَبْوَابًا)أَبْوَابِ (اصل: أَبْوَابٍ)جمع مکسر
4. تثنیہ اور جمع کا نونِ اعرابی گرانے کا قاعدہ
● اگر مضاف بننے والا اسم تثنیہ (مثنیٰ) ہو یا جمع مذکر سالم ہو، تو اعراب ہلکا کرنے کے لیے ان کے آخر سے نونِ اعرابی گرانا لازمی ہوتا ہے: حالتِ رفعحالتِ نصب اور حالتِ جرنوعیت كِتَابَا (اصل: كِتَابَانِ)كِتَابَيْ (اصل: كِتَابَيْنِ)تثنیہ مذکر يَدَا (اصل: يَدَانِ)يَدَيْ (اصل: يَدَيْنِ)تثنیہ مؤنث بَنُو (اصل: بَنُونَ)بَنِي (اصل: بَنِينَ)جمع مذکر سالم ● جیسے: "لڑکے کے دو ہاتھ" -> يَدَا الْوَلَدِ (يَدَانِ کا نون گر گیا ہے)۔
5. مضاف الیہ کے اعراب کا قانون
● مضاف کے دو بنیادی قوانین کے بعد مضاف الیہ کا بھی ایک ہی قانون ہے: ○ مضاف الیہ ہمیشہ حالتِ جر (مجرور) میں ہوتا ہے۔ ● معرفہ اور نکرہ کا فیصلہ: ○ مضاف خود نکرہ یا معرفہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا فیصلہ مضاف الیہ کے معرفہ یا نکرہ ہونے سے ہوتا ہے۔ ○ اگر مضاف الیہ معرفہ ہو تو مضاف خود بخود معرفہ مانا جائے گا۔ ○ اردو میں مضاف کو نکرہ لانے کے لیے "ایک"، "کوئی" یا "کچھ" کے کلمات استعمال کیے جاتے ہیں، جیسے: "کسی راستے کا مسافر" -> عَابِرُ سَبِيلٍ (مضاف الیہ سَبِيلٍ نکرہ ہے)۔
مشق کے سوالات
سوال 1
عربی گرامر کے اصول کے مطابق مضاف پر کون سی دو پابندیاں لاگو ہوتی ہیں؟
- اس پر ال داخل نہیں ہوتا اور اس کا اعراب ہلکا (بغیر تنوین کے) ہوتا ہے
- اس پر ال داخل ہوتا ہے اور اس پر تنوین آتی ہے
- وہ ہمیشہ حالتِ نصب میں ہوتا ہے
سوال 2
جب جمع مذکر سالم اسم بَنُونَ (بیٹے) مضاف بن کر استعمال ہو، تو اعراب ہلکا کرنے کے لیے اس کا آخری نونِ اعرابی گرا کر بَنُو لکھا جائے گا۔
سوال 3
اسم جَنَّةٌ کا حالتِ رفع میں مضاف بننے کے لیے ہلکا اعراب کیا ہوگا؟
سوال 4
درج ذیل اسماء کو ان کے مضاف بننے کی درست ہلکی شکلوں کے ساتھ جوڑیں:
سوال 5
مضاف الیہ کی اعرابی حالت کے متعلق گرامر کا بنیادی قانون کیا ہے؟
- مضاف الیہ ہمیشہ حالتِ جر (مجرور) میں ہوتا ہے
- مضاف الیہ ہمیشہ حالتِ رفع میں ہوتا ہے
- مضاف الیہ ہمیشہ حالتِ نصب میں ہوتا ہے
سوال 6
مضاف کا نکرہ یا معرفہ ہونا اس کے اپنے آخری اعراب کے پیش یا زبر کی حرکت پر منحصر ہوتا ہے۔
سوال 7
مضاف بننے پر نونِ اعرابی گرنے کے اصول کے تحت درج ذیل کو ان کی درست گرامری حالتوں کے ساتھ ملائیں:
تعاملی کوئز کھولیں