فعلِ نہی: نفی، ممانعت اور جزم
فعلِ نہی: نفی، ممانعت اور جزم کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. فعلِ نہی: کسی کام سے روکنا
فعلِ نہی کے ذریعے کسی کو کوئی کام کرنے سے روکا جاتا ہے۔ لَا تَكْتُبْ — تم مت لکھو۔ فعل مضارع سے پہلے لَا آتا ہے اور اسے اخف یعنی مجزوم کرتا ہے۔ یہاں مقصد صرف یہ بتانا نہیں کہ کام نہیں ہوتا، بلکہ مخاطب کو کام سے روکنا ہے۔
2. نفی اور نہی میں فرق
ایک ہی حرف دو مختلف معنوں میں آسکتا ہے۔ معنی کے ساتھ فعل کے آخر کو بھی دیکھیں۔ تَكْتُبُ — تم لکھتے ہو یا لکھو گے۔ لَا تَكْتُبُ — تم نہیں لکھتے یا نہیں لکھو گے: یہ نفی ہے اور آخر کا ضمہ باقی ہے۔ لَا تَكْتُبْ — تم مت لکھو: یہ نہی ہے اور آخری حرف ساکن ہے۔ اردو میں ”نہیں“ عموماً کام کے نہ ہونے کی خبر دیتا ہے، جبکہ ”مت“ کسی کو کام سے روکتا ہے۔
3. جزم کی تبدیلی کیسے نظر آتی ہے؟
پچھلے اسباق میں پڑھی ہوئی آخری صورتیں یاد کریں۔ نہی کا لَا وہی جزم کی تبدیلیاں لاتا ہے۔ ● صحیح آخری حرف پر سکون آتا ہے: تَكْتُبُ ← لَا تَكْتُبْ۔ ● نونِ اعرابی والا صیغہ اپنا نون کھو دیتا ہے: تَقْتُلُونَ ← لَا تَقْتُلُوا۔ ● جمع مؤنث کا نونِ ضمیری باقی رہتا ہے: تَكْتُبْنَ ← لَا تَكْتُبْنَ۔ ہر نون حذف نہ کریں؛ نونِ اعرابی اور نونِ ضمیری الگ ہیں۔
4. تثنیہ اور جمع میں نہی
نونِ اعرابی حذف ہونے کے بعد باقی آخری علامت مخاطب کی تعداد بتاتی ہے۔ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ تم دونوں اس درخت کے قریب مت جاؤ۔ تثنیہ کا نون حذف ہوا اور آخر کا ا باقی رہا۔ لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ تم اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ جمع مذکر کا نون حذف ہوا اور آخر کا وا باقی رہا۔
5. نہی میں غائب کا صیغہ بھی آسکتا ہے
یہ نہ سمجھیں کہ ہر فعلِ نہی لازماً حاضر کی علامت تَ سے شروع ہوگا۔ نہی غائب کے صیغے کے ساتھ بھی بیان ہوسکتی ہے۔ لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے۔ یہاں يَسْخَرْ واحد مذکر غائب کا مجزوم فعل مضارع ہے۔ پورا جملہ ممانعت کا مفہوم دے رہا ہے۔
6. احترام سے متعلق ممانعت
ان دو مثالوں میں آواز بلند کرنے اور ایک خاص انداز سے اونچی آواز میں بات کرنے سے روکا گیا ہے۔ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔ لَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ ان سے اس طرح بلند آواز میں بات نہ کرو جیسے تم ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ دونوں افعال میں نونِ اعرابی حذف ہوا: تَرْفَعُونَ ← تَرْفَعُوا، تَجْهَرُونَ ← تَجْهَرُوا۔
7. سیاق سے نہی پہچانیں
فعل کی صورت اور جملے کا مطلوبہ مفہوم دونوں کو ساتھ دیکھیں۔ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ آخر کا وا نونِ اعرابی حذف ہونے کے بعد جمع مذکر کی علامت ہے۔ سیاق ایک جماعت کو کام سے روک رہا ہے، اس لیے لَا نہی کے لیے ہے، محض نفی کے لیے نہیں۔
8. مکمل جملوں میں قاعدہ لگائیں
پہلے فعلِ نہی کی درست صورت بنائیں، پھر جملہ فطری انداز سے مکمل کریں۔ لَا تَخَفْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا — تم مت ڈرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ لَا تَدْخُلُوا مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ — تم سب ایک ہی دروازے سے داخل مت ہونا۔ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ — تم سب گواہی مت چھپاؤ۔ غور کریں: واحد کا تَخَافُ جزم میں تَخَفْ بنتا ہے۔ یہاں اسے مکمل صورت کے طور پر پہچاننا ہے؛ افعالِ معتل کا نیا عمومی قاعدہ نہیں پڑھایا جارہا۔
9. قاعدہ لگائیں اور نامکمل سیاق پہچانیں
مخاطب واضح ہو تو صیغہ بھی واضح ہوتا ہے؛ نامکمل اردو ضمیر سے درست عربی صیغہ ہمیشہ متعین نہیں ہوتا۔ لَا تَأْكُلُوا بِالشِّمَالِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِالشِّمَالِ تم سب بائیں ہاتھ سے مت کھاؤ، کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے۔ یہاں ”تم سب“ سے تَأْكُلُوا صاف متعین ہے۔ اردو جملہ ”وہ ٹھنڈا پانی نہ پیئیں“ اکیلا یہ نہیں بتاتا کہ ”وہ“ احتراماً ایک شخص کے لیے ہے یا کئی لوگوں کے لیے۔ سیاق کے بغیر عربی کا شخص اور عدد اندازے سے متعین نہیں کرنا چاہیے۔
10. فعلِ نہی کی تین آسان نشانیاں
معنی، حرف اور فعل کے آخر کو ایک ساتھ جانچیں۔ 1. جملہ کسی کام سے روکتا ہے: ”مت کرو“ یا ”وہ نہ کریں“۔ 2. نہی کا لَا فعل مضارع سے پہلے آتا ہے۔ 3. فعل مضارع مجزوم ہوتا ہے: سکون، نونِ اعرابی کا حذف، یا جزم کی کوئی پہلے سے ثابت صورت۔ لَا والا ہر منفی جملہ فعلِ نہی نہیں۔ دیکھیں کہ بولنے والا کام نہ ہونے کی خبر دے رہا ہے یا کسی کو کام سے روک رہا ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
کون سا جملہ نہی بیان کرتا ہے؟
- لَا تَكْتُبْ
- لَا تَكْتُبُ
- كَتَبْتَ
- تَكْتُبُ
سوال 2
نہی کا لَا فعل مضارع میں کیا تبدیلی کرتا ہے؟
- اسے ماضی بناتا ہے۔
- اسے اخف یعنی مجزوم کرتا ہے۔
- اسے لازماً جمع بناتا ہے۔
- اسے اسم بناتا ہے۔
سوال 3
ایک جماعت سے کہیں: ”گواہی مت چھپاؤ۔“ درست فعلِ نہی منتخب کریں۔
- لَا تَكْتُمُونَ الشَّهَادَةَ
- لَا يَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ
- لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ
- لَا تَكْتُمْ الشَّهَادَةَ
سوال 4
لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ کی درست وضاحت کون سی ہے؟
- فعل ماضی کا منفی جملہ
- واحد مؤنث حاضر کا حکم
- یہ خبر کہ مذاق کبھی نہیں ہوتا
- غائب کا مجزوم فعل جو نہی بیان کرتا ہے
سوال 5
تَقْرَبَانِ ← لَا تَقْرَبَا میں کیا تبدیلی ہوئی؟
- تثنیہ کا نونِ اعرابی حذف ہوا۔
- نونِ ضمیری مؤنث کا اضافہ ہوا۔
- فعل ماضی بن گیا۔
- آخری الف حذف ہوا۔
سوال 6
کون سی صورت صرف یہ خبر دیتی ہے کہ ”تم نہیں لکھتے“، نہ کہ ”مت لکھو“؟
- لَا تَكْتُبْ
- لَا تَكْتُبُ
- لَنْ تَكْتُبَ
- اُكْتُبْ
سوال 7
ایک مرد سے کہیں: ”پانی مت پیو۔“ درست نیا فعلِ نہی منتخب کریں۔
- لَا تَشْرَبُ الْمَاءَ
- لَا شَرِبْتَ الْمَاءَ
- لَا تَشْرَبْ الْمَاءَ
- لَا يَشْرَبْ الْمَاءَ
سوال 8
ہر اصطلاح کو اس کے مفہوم سے ملائیں۔
سوال 9
ہر جملے کو اس کی نحوی وضاحت سے ملائیں۔
سوال 10
لَا سے شروع ہونے والا ہر جملہ نہی ہوتا ہے۔
سوال 11
لَا تَكْتُبْنَ میں جمع مؤنث کا نونِ ضمیری باقی رہتا ہے۔
سوال 12
ہر جملے کو الگ کریں: وہ کام نہ ہونے کی خبر دیتا ہے یا کام سے روکتا ہے؟
سوال 13
ابتدائی مضارع صیغوں کو نہی کے لَا کے بعد درکار جزم کی تبدیلی کے لحاظ سے الگ کریں۔
سوال 14
الفاظ ترتیب دے کر کہیں: ”اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔“
سوال 15
ایک طالب علم سے کہیں: ”دروازہ مت کھولو۔“
تعاملی کوئز کھولیں