حدیث کیا ہے؟

طالب علم حدیث کو نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا حال کی روایت کے طور پر پہچان سکے۔ حدیث کیا ہے؟ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. آج کیا سیکھیں گے؟

ہم اکثر سنتے ہیں: ”ایک حدیث میں آیا ہے…“ اس سبق میں ہم سمجھیں گے کہ کسی بات کو حدیث کیوں کہا جاتا ہے۔ آخر میں آپ: • حدیث کی سادہ تعریف بتا سکیں گے؛ • تعریف کے مطابق ایک مثال پہچان سکیں گے؛ • ایسی دینی بات الگ کر سکیں گے جو اپنے آپ حدیث نہیں۔

2. ایک حدیث کی مثال

إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى (صحیح البخاری: 1) ترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ حضرت عمر بن خطابؓ نے یہ فرمان رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا۔ ابھی صرف یہ دیکھیے کہ یہاں نبی کریم ﷺ کا فرمان ہم تک پہنچایا گیا ہے۔

3. حدیث کسے کہتے ہیں؟

نبی کریم ﷺ سے منقول فرمان، عمل، کسی کام پر رضامندی، یا آپ ﷺ کی صفت و کیفیت کے بیان کو حدیث کہتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں: حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا، کیا کیا، کس کام پر آپ ﷺ کی رضامندی یا منظوری ظاہر ہوئی، یا آپ ﷺ کی کوئی صفت اور کیفیت کیا تھی۔

4. تعریف کے چار حصے

• قول: نبی کریم ﷺ کا منقول فرمان۔ • فعل: نبی کریم ﷺ کا منقول عمل۔ • تقریر: کسی کام پر نبی کریم ﷺ کی منقول رضامندی یا منظوری۔ • حال: نبی کریم ﷺ کی منقول صفت یا کیفیت۔ اس سبق میں اتنا پہچاننا کافی ہے کہ حدیث ان چاروں میں سے کسی صورت کے بارے میں ہو سکتی ہے۔

5. یہ مثال حدیث کیوں ہے؟

اوپر کی حدیث میں: • حضرت عمرؓ نے نبی کریم ﷺ کا فرمان نقل کیا؛ • فرمان نقل ہونے والی صورت کو قول کہتے ہیں؛ • اس لیے یہ مثال حدیث کی تعریف پر پوری اترتی ہے۔ اس کا عربی میں ہونا یا نیت کے بارے میں ہونا اصل وجہ نہیں۔ اصل وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان نقل ہوا ہے۔

6. حدیث صرف قول نہیں

حدیث میں براہِ راست فرمان کے الفاظ نہ بھی ہوں، پھر بھی وہ تعریف میں آ سکتی ہے: • نبی کریم ﷺ کا عمل بیان ہو → فعل • کسی کام پر آپ ﷺ کی منظوری بیان ہو → تقریر • آپ ﷺ کی صفت یا کیفیت بیان ہو → حال اس لیے حدیث کو صرف آپ ﷺ کے فرمان تک محدود نہ سمجھیں۔

7. ہر دینی بات حدیث نہیں

ایک استاد اپنے الفاظ میں کہے: ”نیت اچھی ہونی چاہیے۔“ • یہ مفید دینی نصیحت ہو سکتی ہے؛ • مگر استاد نے اسے نبی کریم ﷺ سے نقل نہیں کیا؛ • اس لیے یہ جملہ اپنے آپ حدیث نہیں۔ بات کا دینی ہونا کافی نہیں؛ نبی کریم ﷺ سے منقول ہونا تعریف کا بنیادی حصہ ہے۔

8. ایک ضروری احتیاط

اگر کوئی پیغام کسی جملے کو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کر دے تو فوراً یہ فیصلہ نہ کریں کہ وہ لازماً درست ثابت بھی ہے۔ • پہلے یہ پہچانا جاتا ہے کہ اسے حدیث کے طور پر نقل کیا گیا ہے؛ • اس کے درست ثابت ہونے کی تحقیق الگ علمی کام ہے؛ • یہ کام اہلِ علم متعلقہ اصول اور شواہد دیکھ کر کرتے ہیں۔ اس سبق کا مقصد صرف حدیث کی بنیادی تعریف سمجھنا ہے۔

9. آج کا خلاصہ

• حدیث نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا حال کا منقول بیان ہے۔ • قول فرمان، فعل عمل، تقریر منظوری، اور حال صفت یا کیفیت کو کہتے ہیں۔ • ہر دینی بات حدیث نہیں؛ دیکھیے کہ کیا وہ نبی کریم ﷺ سے نقل کی گئی ہے۔ • نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب ہونا اور اس کا درست ثابت ہونا دو الگ سوال ہیں۔

مشق کے سوالات

سوال 1

ان میں سے کون سا بیان حدیث کی بنیادی تعریف میں آتا ہے؟

  • ایک شخص نبی کریم ﷺ کا فرمان نقل کرتا ہے۔
  • ایک استاد نبی کریم ﷺ کی سیرت پر اپنی رائے بیان کرتا ہے۔
  • ایک طالب علم کہتا ہے کہ اسے دینی مطالعہ پسند ہے۔
  • ایک شاعر اچھے اخلاق پر شعر کہتا ہے۔

سوال 2

«إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ» کو اس سبق میں حدیث کی مثال کیوں کہا گیا؟

  • کیونکہ حضرت عمرؓ نے اسے نبی کریم ﷺ کے فرمان کے طور پر نقل کیا۔
  • کیونکہ عبارت عربی زبان میں ہے۔
  • کیونکہ اس میں نیت کا ذکر ہے۔
  • کیونکہ عبارت مختصر ہے۔

سوال 3

ایک بیان میں نبی کریم ﷺ کا عمل نقل ہوا ہے، مگر آپ ﷺ کا کوئی فرمان نقل نہیں ہوا۔ بنیادی تعریف کے مطابق درست بات کون سی ہے؟

  • یہ حدیث ہو سکتی ہے، کیونکہ فعل بھی تعریف میں شامل ہے۔
  • یہ حدیث نہیں ہو سکتی، کیونکہ حدیث میں فرمان ہونا ضروری ہے۔
  • یہ صرف اس وقت حدیث ہوگی جب بیان عربی میں ہو۔
  • یہ استاد کی ذاتی وضاحت ہے۔

سوال 4

نبی کریم ﷺ کے منقول عمل کو تعریف میں کیا کہتے ہیں؟

  • قول
  • فعل
  • تقریر
  • حال

سوال 5

اگر کسی منقول بیان میں نبی کریم ﷺ کی صفت یا کیفیت ہو، مگر کوئی فرمان نہ ہو، تب بھی وہ حدیث کی بنیادی تعریف میں آ سکتا ہے۔

  • درست
  • غلط

سوال 6

ایک پیغام میں کسی جملے کو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اس سبق کے مطابق سب سے درست بات کون سی ہے؟

  • اسے حدیث کے طور پر نقل کیا گیا ہے، مگر اس کے درست ثابت ہونے کی تحقیق الگ ہے۔
  • وہ لازماً درست ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ کا نام لکھا ہے۔
  • وہ لازماً غلط ہے، کیونکہ پیغام میں تفصیلی حوالہ نہیں دیا گیا۔
  • اگر جملہ اچھا لگے تو تحقیق کی ضرورت نہیں۔

تعاملی کوئز کھولیں