اخلاق، اعتماد اور باہمی خیال (حدیث 31–36) کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اس سبق میں
چھ روایتوں میں اچھے اخلاق، مخلوق کے ساتھ بھلائی، نقصان سے بچانے، اعتماد، اپنے عمل کی اصلاح اور باہمی مدد کی بات پڑھیں گے۔ ایک لمبی روایت میں چار الگ عمل ہیں؛ پہلے پوری عبارت، پھر ہر حصہ سمجھیں۔ الفاظ ملتے جلتے ہوں تب بھی معنی بدل سکتا ہے: الْخُلُقِ اخلاق ہے، الْخَلْقُ مخلوق۔ اسی طرح «جو شخص» اور «سے» کا فرق معنی میں ضروری ہے۔ مثالوں میں عمل اور تعلق پہچانیں گے؛ دل کے ایمان یا کسی حقیقی مقدمے کا فیصلہ نہیں کریں گے۔
2. نیکی اور دل کی کھٹک
الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ، وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ (رواه مسلم) ترجمہ نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے؛ گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم ناپسند کرو کہ لوگوں کو اس کی خبر ہو۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی الْبِرُّنیکی، بھلائی حُسْنُ الْخُلُقِاچھے اخلاق، کردار کی اچھائی وَالْإِثْمُاور گناہ مَاوہ بات جو؛ یہاں جس چیز کا بیان ہو حُسْنُ اچھائی اور الْخُلُقِ اخلاق ہے؛ دونوں مل کر اچھے کردار کو بتاتے ہیں۔ وَ «اور» ہے۔ روایت کی دل اور اطلاع والی بات کو اس کی وضاحت کے ساتھ پڑھیں؛ ہر گھبراہٹ یا ہر نجی بات کو گناہ بتانا اس کا مقصد نہیں۔
3. کھٹک اور خبر ہونے کے الفاظ
عربی لفظ یا عبارتمعنی حَاكَکھٹکا، دل میں بے اطمینانی پیدا کی فِي صَدْرِكَتمہارے سینے میں؛ یہاں تمہارے دل میں وَكَرِهْتَاور تم نے ناپسند کیا أَنْ يَطَّلِعَکہ خبر ہو، کہ واقف ہوں عَلَيْهِاس بات سے، اس کی النَّاسُلوگ فِي «میں» ہے۔ صَدْرِكَ میں صَدْرِ سینہ اور آخر کا كَ «تمہارا» ہے۔ یہاں اندرونی بے اطمینانی کا بیان ہے، جسمانی بیماری کی پہچان نہیں۔ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ کا مطلب ہے کہ لوگوں کو اس بات کی خبر ہو۔ خبر پانے والے لوگ ہیں؛ كَرِهْتَ میں ناپسند کرنے والے «تم» ہو۔ أَنْ یہاں اگلے کام کو «کہ» سے ملاتا ہے؛ اسے آگے آنے والے إِنِ «اگر» سے الگ رکھیں۔
4. احساس کی تنبیہ کی حدود
یہ تنبیہ اس دل کے بارے میں ہے جسے اللہ نے خیر کی طرف کھولا اور روشن کیا ہو۔ ہر احساس کو درست فیصلہ نہیں مان لیتے۔ اس احساس کی یہ رہنمائی ان باتوں کے لیے ہے جن پر دین کی واضح ہدایت یا علماء کا اتفاق موجود نہ ہو۔ جس بات پر دین کی واضح ہدایت یا اہلِ علم کا اتفاق موجود ہو، اسے صرف اپنے اطمینان یا لوگوں کی پسند سے نہیں بدلا جا سکتا۔ اہلِ علم کے اتفاق سے مراد دینی علم رکھنے والے علماء کا اتفاق ہے، صرف اکثریت کی رائے نہیں۔ خبر ہونے پر ناپسندیدگی میں بھی نیک اور پرہیزگار لوگوں کا لحاظ ہے جو اچھے برے عمل کا فرق پہچانتے ہیں۔ برائی میں شریک ساتھیوں کے سامنے شرم نہ آنا، برائی کو اچھا نہیں بنا دیتا۔ سمجھانے کی مثال: کسی کو اپنی نجی بات سب کے سامنے کہنا پسند نہیں؛ صرف یہ ناپسندیدگی گناہ کا ثبوت نہیں۔ اگر کسی معاملے میں یہ شرطیں سمجھ نہ آئیں تو صرف اپنے احساس یا ساتھیوں کی پسند سے گناہ کا فیصلہ نہ کریں۔ کسی قابلِ اعتماد، دینی علم رکھنے والے عالم کو معاملہ بتا کر رہنمائی لیں۔
5. مخلوق کی محتاجی اور بھلائی
الْخَلْقُ عِيَالُ اللَّهِ، فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ مَنْ أَحْسَنَ إِلَى عِيَالِهِ (رواه البيهقي) ترجمہ مخلوق اللہ کی پرورش اور رزق کی محتاج ہے؛ پس اللہ کے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اس کی مخلوق سے اچھا سلوک کرے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی الْخَلْقُمخلوق عِيَالُ اللَّهِیہاں اللہ کی پرورش اور رزق کے محتاج فَأَحَبُّپس سب سے زیادہ محبوب إِلَى اللَّهِاللہ کے نزدیک أَحْسَنَاچھا سلوک کیا إِلَى عِيَالِهِاس کی پرورش کے محتاجوں کے ساتھ عِيَالُ میں ابتدا پر زیر ہے۔ عیال ان کو کہتے ہیں جن کی پرورش اور رزق کا انتظام کیا جائے۔ یہاں اس لفظ سے اللہ پر محتاجی سمجھائی گئی ہے، خاندانی رشتہ نہیں۔ فَ «پس» اور أَحَبُّ «سب سے زیادہ محبوب» ہے۔ مَنْ «جو شخص» ہے۔ عِيَالِهِ کے آخر میں «اس کی» اللہ کی طرف لوٹتا ہے، اور إِلَى یہاں برتاؤ کا تعلق بتاتا ہے۔
6. اخلاق اور مخلوق الگ لفظ ہیں
حُسْنُ الْخُلُقِ میں الْخُلُقِ «اخلاق» ہے؛ الْخَلْقُ عِيَالُ اللَّهِ میں الْخَلْقُ «مخلوق» ہے۔ صرف بغیر اعراب کی شکل دیکھ کر دونوں کو ایک معنی نہ دیں۔ سمجھانے کی مثال: کوئی شخص جانور کے لیے پانی رکھتا ہے۔ یہ مخلوق کی ضرورت کا خیال رکھنے کی مثال ہے۔ مخلوق اللہ سے رزق پاتی ہے؛ اس تعلق کو خاندانی رشتہ نہ سمجھیں۔ روایت بھلائی کی ترغیب دیتی ہے؛ اس مثال سے کسی خاص شخص کا اللہ کے نزدیک حتمی مقام طے نہیں کرتے۔
7. چار عملی ذمہ داریاں
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ. وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ. وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ. وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ ماخذ: زاد الطالبين ترجمہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔ مومن وہ ہے جس پر لوگ اپنی جانوں اور مال کے بارے میں بھروسہ کریں۔ جدوجہد کرنے والا وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے آپ سے جدوجہد کرے۔ چھوڑنے والا وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں کو چھوڑ دے۔ یہ چار جملے عمل کی ذمہ داریاں واضح کرتے ہیں۔ ہر نام کے بعد مَنْ «جو شخص» اس کے عمل کو بتاتا ہے۔ اگلے چار حصوں میں زبان و ہاتھ، اعتماد، اپنے آپ کی اصلاح، اور گناہ چھوڑنے کو الگ سمجھیں۔ یہاں کسی غلط عمل سے خود بخود کسی کو ایمان سے خارج کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جا رہا۔
8. زبان اور ہاتھ سے حفاظت
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ. عربی لفظ یا عبارتمعنی الْمُسْلِمُمسلمان مَنْجو شخص سَلِمَمحفوظ رہا الْمُسْلِمُونَمسلمان لوگ مِنْ لِسَانِهِاس کی زبان سے وَيَدِهِاور اس کے ہاتھ سے مَنْ «جو شخص» ہے، مگر مِنْ «سے» ہے۔ لِسَانِهِ میں لِسَانِ «زبان» اور آخر میں «اس کی» ہے؛ يَدِهِ میں يَدِ «ہاتھ» ہے۔ دونوں اسی شخص کی طرف لوٹتے ہیں جس کا رویہ بیان ہوا ہے۔ سمجھانے کی مثال: کوئی ساتھی کو تکلیف دینے کے لیے گالی دینے سے خود کو روکتا ہے۔ زبان سے نقصان نہ پہنچانا اس ذمہ داری کی مثال ہے۔ ہاتھ اور زبان کا ذکر یہ اجازت نہیں کہ کسی اور طریقے سے نقصان پہنچایا جائے؛ وضاحت میں کسی کو بھی نقصان نہ دینے کی ذمہ داری بتائی گئی ہے۔ یہاں نقصان سے بچانے کی ذمہ داری سمجھائی جا رہی ہے۔ کسی خاص صورت میں کیا کرنا درست ہے، اس کا فیصلہ صرف اس ایک جملے سے نہ کریں؛ ہر صورت کی تفصیل اس سبق میں نہیں پڑھائی گئی۔
9. جان اور مال کا اعتماد
وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ. عربی لفظ یا عبارتمعنی وَالْمُؤْمِنُاور مومن، ایمان والا أَمِنَهُلوگ اس سے امن میں رہے، اس پر بھروسہ کیا عَلَى دِمَائِهِمْاپنی جانوں کے بارے میں وَأَمْوَالِهِمْاور اپنے مال کے بارے میں النَّاسُ پہلے پڑھے ہوئے «لوگ» ہیں؛ بھروسہ کرنے والے یہی لوگ ہیں۔ أَمِنَهُ کا آخر «اس شخص» کو بتاتا ہے، مگر دِمَائِهِمْ اور أَمْوَالِهِمْ میں «ان کے» لوگوں کی طرف لوٹتا ہے۔ دِمَائِهِمْ میں خونوں سے جانوں کا تحفظ مراد ہے؛ أَمْوَالِهِمْ ان کے اموال ہیں۔ عَلَى یہاں «کے بارے میں» ہے۔ سمجھانے کی مثال: لوگ اپنا سامان کسی کے پاس رکھتے ہیں کیونکہ وہ اسے نقصان نہیں پہنچاتا۔ صرف خوش مزاج ہونا کافی بیان نہیں؛ یہاں جان اور مال کے معاملے میں اطمینان ہے۔
10. اطاعت کے لیے اپنے آپ سے جدوجہد
وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ. عربی لفظ یا عبارتمعنی وَالْمُجَاهِدُاور جدوجہد کرنے والا؛ یہاں اپنی اصلاح میں جَاهَدَ نَفْسَهُاپنے آپ سے جدوجہد کی فِي طَاعَةِ اللَّهِاللہ کی اطاعت میں جَاهَدَ جدوجہد کا فعل ہے۔ نَفْسَهُ وہی «اپنا آپ» ہے جو پہلے پڑھا ہے۔ فِي «میں»، طَاعَةِ «اطاعت»، یعنی فرمانبرداری، اور اللَّهِ «اللہ» ہے۔ پوری عبارت جدوجہد کا مقصد واضح کرتی ہے۔ سمجھانے کی مثال: کسی کو سچ بولنے سے اپنا فائدہ کم ہوتا نظر آئے، مگر وہ خواہش روک کر سچ بولے۔ یہ محض زیادہ کمائی کے لیے مشقت کرنے سے الگ مقصد ہے۔ یہ وضاحت اس جدوجہد کی اہمیت سمجھاتی ہے؛ اس مختصر بیان سے ہر قسم کی جدوجہد کا باہمی درجہ متعین نہ کریں۔
11. گناہوں کو چھوڑنا
وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ عربی لفظ یا عبارتمعنی وَالْمُهَاجِرُاور چھوڑنے والا؛ یہاں گناہ چھوڑنے والا هَجَرَچھوڑ دیا الْخَطَايَاخطائیں وَالذُّنُوبَاور گناہ هَجَرَ چھوڑنے کا فعل ہے۔ الْخَطَايَا اور الذُّنُوبَ غلط کاموں اور گناہوں کو بتاتے ہیں؛ وَ «اور» ہے۔ اس وضاحت میں چھوٹے بڑے گناہ چھوڑنے کا مقصد سامنے ہے، صرف گھر بدلنا نہیں۔ سمجھانے کی مثال: کوئی شخص محلہ بدل لیتا ہے مگر جان بوجھ کر وہی غلط کام جاری رکھتا ہے۔ جگہ بدلنے سے گناہ چھوڑنا ثابت نہیں ہوا۔ دوسری طرف، ایک جگہ رہتے ہوئے غلط کام ترک کرنا اس عمل کی مثال ہے۔ اس سے ہر دنیاوی نقل مکانی کو برا نہیں کہتے۔
12. دعویٰ اور دونوں کردار
الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ (الترمذي) ترجمہ ثبوت پیش کرنا دعویٰ کرنے والے کے ذمہ ہے، اور قسم اس شخص سے متعلق ہے جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی الْبَيِّنَةُدلیل، ثبوت الْمُدَّعِيدعویٰ کرنے والا وَالْيَمِينُاور قسم؛ یہاں بیان کی سچائی پر قسم الْمُدَّعَى عَلَيْهِجس کے خلاف دعویٰ کیا گیا دعویٰ کسی دوسرے کے بارے میں اپنا حق یا مطالبہ بیان کرنا ہے۔ عَلَى یہاں ذمہ داری کا تعلق بتاتا ہے۔ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ میں عَلَيْهِ «اس کے خلاف/اس پر» ہے۔ الْيَمِينُ یہاں قسم ہے، دایاں ہاتھ نہیں۔ یہ مختصر اصول کردار اور ان کا تعلق بتاتا ہے؛ ہر مقدمے کا مکمل طریقہ نہیں۔ یہ نہیں سکھایا گیا کہ ہر الزام میں قسم لازماً آتی ہے یا قسم سے ہر شخص خود بخود بری ہو جاتا ہے۔
13. نام سے پہلے کردار پہچانیں
سمجھانے کی مثال: حامد کہتا ہے کہ اس کی کتاب بلال کے پاس ہے اور اسے واپس ملنی چاہیے۔ اس بیان میں حامد دعویٰ کرنے والا ہے، اور بلال وہ شخص ہے جس کے خلاف دعویٰ ہے۔ ثبوت کا بیان حامد والے کردار سے، قسم کا بیان بلال والے کردار سے جڑا ہے۔ یہ مشق صرف کردار پہچانتی ہے۔ کس کا بیان سچا ہے یا اصل معاملہ کیسے نمٹایا جائے، ان کے لیے مزید معلومات اور متعلقہ طریقہ درکار ہوتا ہے؛ یہاں ان کا فیصلہ نہیں دیا گیا۔
14. آئینہ، بھائی اور حفاظت
الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ، وَالْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ، يَكُفُّ عَنْهُ ضَيْعَتَهُ وَيَحُوطُهُ مِنْ وَرَائِهِ (رواه الترمذي وأبو داود) ترجمہ مومن مومن کا آئینہ اور بھائی ہے؛ وہ اسے نقصان سے بچاتا اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی حفاظت کرتا ہے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی مِرْآةُآئینہ أَخُو الْمُؤْمِنِمومن کا بھائی يَكُفُّروکتا ہے، دور رکھتا ہے الْمُؤْمِنُ اور الْمُؤْمِنِ میں وہی مومن کا معنی ہے۔ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ «مومن کا آئینہ» ہے؛ أَخُو بھائی کا تعلق بتاتا ہے۔ آئینہ یہاں اپنی غلطی دیکھ کر اصلاح کی مثال ہے۔ آئینہ بننے کا مطلب غلطی چھپا کر خوش کرنا بھی نہیں اور عیب بتا کر حملہ کرنا بھی نہیں۔ وضاحت میں مقصد اطلاع دے کر اصلاح ہے۔ اگلے حصے میں نقصان اور غیر موجودگی والی ذمہ داری بھی پڑھیں۔
15. نقصان سے بچانا اور غیر موجودگی
عربی لفظ یا عبارتمعنی عَنْهُاس سے ضَيْعَتَهُاس کا نقصان، ضائع ہونا وَيَحُوطُهُاور اس کی حفاظت کرتا ہے مِنْ وَرَائِهِلفظاً اس کے پیچھے سے؛ یہاں اس کی غیر موجودگی میں يَكُفُّ عَنْهُ ضَيْعَتَهُ میں نقصان اس ساتھی سے روکا جاتا ہے۔ ضَيْعَتَهُ کے لیے مال یا چیزوں کا ضائع ہونا مثال ہے؛ اسے صرف غربت کا نام نہ سمجھیں۔ يَحُوطُهُ کے آخر میں «اس کی» بھی اسی ساتھی کی طرف ہے۔ مِنْ «سے» اور وَرَائِهِ «اس کے پیچھے» ہے؛ پوری عبارت یہاں اس کی غیر موجودگی کا مفہوم دیتی ہے۔ سمجھانے کی مثال: ساتھی موجود نہیں اور اس کی چیز بارش میں خراب ہونے والی ہے۔ آپ اسے محفوظ جگہ رکھ دیتے ہیں۔ اس کی ضرورت کا خیال رکھا گیا؛ صرف جسمانی طور پر اس کے پیچھے کھڑے ہونا مراد نہیں۔
16. اصلاح اور حمایت کا مقصد
سمجھانے کی مثال: ساتھی نے غلط رقم لکھ دی۔ آپ اسے دکھا کر درست کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ صرف خوش کرنے کے لیے غلط رقم کی تعریف کرنا آئینہ نہیں بنتا؛ اس کی غلطی کا مذاق بنا کر پھیلانا بھی اصلاح کا طریقہ نہیں۔ غیر موجود ساتھی کی حفاظت میں اس کی چیزوں اور مفاد کا خیال شامل ہے۔ اگر اس نے کسی کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا ہو تو «بھائی کی مدد» کے نام پر اسے چھپانا اس مثال کا مقصد نہیں۔ نقصان روکنا اور درست بات میں مدد دینا ساتھ ساتھ ہو سکتے ہیں۔
17. ایک شخص کی مانند
الْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ. إِنِ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ، وَإِنِ اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ (رواه مسلم) ترجمہ مومن ایک شخص کی مانند ہیں۔ اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو پورا شخص تکلیف محسوس کرتا ہے، اور اس کے سر میں تکلیف ہو تو پورا شخص تکلیف محسوس کرتا ہے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی الْمُؤْمِنُونَمومن لوگ كَرَجُلٍایک شخص کی مانند وَاحِدٍایک إِنِاگر كَرَجُلٍ میں كَ «کی مانند» اور رَجُلٍ «شخص/مرد» ہے؛ وَاحِدٍ سے ایک ہونا واضح ہوتا ہے۔ یہاں اصل لفظ شخص ہے؛ پھر اس شخص کے جسم کی آنکھ اور سر کا تعلق دکھایا گیا ہے۔ إِنِ «اگر» شرط لاتا ہے؛ اسے پہلے والے أَنْ «کہ» سے نہ ملائیں۔
18. آنکھ، سر اور پورا شخص
عربی لفظ یا عبارتمعنی اشْتَكَىتکلیف محسوس کی عَيْنُهُاس کی آنکھ رَأْسُهُاس کا سر كُلُّهُپورا شخص، اس کا پورا وجود عَيْنُهُ میں عَيْنُ آنکھ، رَأْسُهُ میں رَأْسُ سر، اور كُلُّهُ میں كُلُّ پورا ہے۔ آخر کا «اس کا» ہر جگہ اسی ایک شخص کی طرف ہے۔ آنکھ کی تکلیف اور سر کی تکلیف دونوں کے بعد پورے شخص کی تکلیف آئی ہے۔ وَإِنِ میں وَ «اور» اور إِنِ «اگر» ہے۔ اس مثال میں ایک دوسرے کی تکلیف کا خیال رکھنے کی ترغیب ہے۔ سمجھانے کی مثال: ساتھی مشکل میں ہو تو اس کی بات سننا اور ممکن مدد کرنا باہمی خیال کی صورت ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ سب کو ایک جیسا جسمانی درد یا یکساں شدت کا احساس ہو؛ کسی کے چہرے سے ایمان ناپنا اس کا مقصد نہیں۔
19. دہرائی
الْخُلُقِ اخلاق ہے اور الْخَلْقُ مخلوق۔ دل کی کھٹک اور اطلاع کی ناپسندیدگی کو بیان کردہ حدود کے ساتھ سمجھیں؛ واضح دینی ہدایت یا علماء کے اتفاق کو ذاتی احساس نہیں بدلتا۔ مخلوق اللہ کے رزق کی محتاج ہے، اس کی رشتہ دار نہیں۔ چار اعمال الگ یاد کریں: نقصان سے محفوظ رکھنا، جان و مال کے بارے میں اعتماد، اطاعت میں اپنے آپ سے جدوجہد، اور گناہ چھوڑنا۔ دعویٰ کرنے والے اور جس کے خلاف دعویٰ ہو ان کے کردار الگ ہیں۔ آئینہ اصلاح کے لیے ہے، حفاظت غیر موجودگی میں بھی ہے۔ ایک شخص کی مثال باہمی خیال کی ترغیب ہے۔ اپنے الفاظ میں ہر تعلق سمجھائیں اور ایک نئی مثال دیں۔
مشق کے سوالات
سوال 1: اپنی سمجھ جانچیں
حُسْنُ الْخُلُقِ اور الْخَلْقُ عِيَالُ اللَّهِ میں ملتے جلتے لفظوں کا درست فرق کیا ہے؟
- دونوں میں مخلوق ہی کا معنی ہے
- پہلے میں مخلوق، دوسرے میں اخلاق ہے
- پہلے میں اخلاق، دوسرے میں مخلوق ہے
سوال 2: اپنی سمجھ جانچیں
کسی کو اپنی ذاتی روزمرہ کی معلومات سب کے سامنے بتانا پسند نہیں۔ دل اور اطلاع والی تنبیہ کے مطابق صرف اس بات سے کیا معلوم ہوتا ہے؟
- ناپسندیدگی اکیلی گناہ کا فیصلہ نہیں کرتی
- ہر چھپی ہوئی بات اسی لیے گناہ ہوتی ہے
- جو بات نجی ہو وہ ہمیشہ درست بھی ہوتی ہے
سوال 3: اپنی سمجھ جانچیں
ایک گروہ جان بوجھ کر غلط بات کو پسند کرتا ہے اور اس پر شرمندہ نہیں ہوتا۔ کیا اس کی پسند واضح دینی ہدایت کا بدل بن سکتی ہے؟
- گروہ زیادہ ہو تو اس کی پسند ہی علماء کا اتفاق ہے
- غلطی میں شریک لوگوں کی پسند اس کا بدل نہیں
- شرمندگی نہ ہو تو واضح ہدایت کا مفہوم بدل جاتا ہے
سوال 4: اپنی سمجھ جانچیں
عِيَالُ اللَّهِ کی اس روایت میں کون سا تعلق سمجھایا گیا ہے؟
- اللہ کے ساتھ خاندانی رشتہ
- اللہ کی پرورش اور رزق پر محتاجی
- صرف انسانوں کے اپنے گھر والوں کی پرورش
سوال 5: عمل اور متعلقہ حصہ
ہر صورت کو چار عملی جملوں کے متعلقہ حصے سے ملائیں۔
سوال 6: اپنی سمجھ جانچیں
أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ میں کون کس پر بھروسہ کرتا ہے؟
- بیان کردہ شخص لوگوں پر صرف اپنی جان کے بارے میں بھروسہ کرتا ہے
- لوگ صرف اپنے آپ پر بھروسے کا بیان کر رہے ہیں
- لوگ بیان کردہ شخص پر اپنی جانوں کے بارے میں بھروسہ کرتے ہیں
سوال 7: اپنی سمجھ جانچیں
کوئی مشکل کام زیادہ منافع کے لیے کرتا ہے۔ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ کی مثال ثابت کرنے کے لیے کون سی بات ابھی واضح نہیں؟
- مقصد اللہ کی اطاعت میں خود کو روکنا تھا یا نہیں
- کام سے زیادہ نفع حاصل ہوا تھا یا نہیں
- کام میں دوسروں سے زیادہ وقت دیا تھا یا نہیں
سوال 8: اپنی سمجھ جانچیں
ایک شخص دوسری جگہ جا کر بھی وہی غلط کام جاری رکھتا ہے۔ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ کے مطابق کون سا نتیجہ درست ہے؟
- جگہ بدلنے سے گناہ چھوڑنا لازماً ثابت ہے
- اس سے ہر مقصد کے لیے جگہ بدلنا برا ثابت ہے
- عمل چھوڑنا ثابت نہیں؛ جگہ بدلنا الگ بات ہے
سوال 9: اپنی سمجھ جانچیں
سارہ کہتی ہے کہ عائشہ کے پاس اس کی امانت ہے جو واپس ملنی چاہیے۔ اس بیان میں الْمُدَّعِي والے کردار کی شناخت کیا ہے؟
- عائشہ، کیونکہ مطالبہ اس کے خلاف ہے
- سارہ، کیونکہ وہ مطالبہ بیان کر رہی ہے
- جو زیادہ یقین سے بات کرے وہی مدعی ہے
سوال 10: کرداروں والی عبارت ترتیب دیں
ثبوت، دعویٰ کرنے والے اور قسم سے متعلق پوری پڑھی ہوئی عربی عبارت ترتیب دیں۔
سوال 11: اپنی سمجھ جانچیں
ساتھی کی تحریر میں غلط حوالہ ملا۔ مومن کے آئینہ ہونے کی تعلیم کے مطابق کون سا ردعمل مناسب ہے؟
- غلطی بتا کر اسے درست کرنے میں مدد دیں
- حوصلہ رکھنے کے لیے غلطی کو درست کہہ دیں
- لوگوں کو ہنسانے کے لیے غلطی نمایاں کریں
سوال 12: اپنی سمجھ جانچیں
ساتھی غیر موجود ہے اور اس کی فائلیں غلط جگہ پڑی ہیں جہاں گم ہو سکتی ہیں۔ وَيَحُوطُهُ مِنْ وَرَائِهِ کا مفہوم کس عمل سے متعلق ہے؟
- فائلیں محفوظ کر کے اس کے مفاد کا خیال رکھنا
- صرف اس جگہ کے پیچھے کھڑے رہنا
- اس کی موجودگی تک ہر مدد کو مؤخر کرنا
سوال 13: اپنی سمجھ جانچیں
أَنْ يَطَّلِعَ اور إِنِ اشْتَكَى میں أَنْ اور إِنِ کا فرق کیا ہے؟
- دونوں جگہ صرف ایک ہی شرط اگر ہے
- أَنْ اگر ہے؛ إِنِ پہلے ہوئے کام کی خبر ہے
- أَنْ اگلا کام جوڑتا ہے؛ إِنِ اگر کی شرط لاتا ہے
سوال 14: اپنی سمجھ جانچیں
عَيْنُهُ، رَأْسُهُ اور كُلُّهُ میں آخر کا «اس کا» کس کی طرف لوٹتا ہے؟
- ہر لفظ میں الگ الگ شخص کی طرف
- مثال کے اسی ایک شخص کی طرف
- صرف خبر سننے والے شخص کی طرف
سوال 15: اپنی سمجھ جانچیں
ایک شخص مشکل میں پڑے ساتھی کے لیے ضروری انتظام کرتا ہے، مگر اس کے چہرے پر وہی شدت کا دکھ نظر نہیں آتا۔ ایک شخص والی مثال سے کیا سمجھیں؟
- خیال اور مدد اہم ہیں؛ چہرے سے ایمان کا فیصلہ نہیں
- یکساں چہرے کا تاثر نہ ہو تو مدد بھی بے معنی ہے
- یہاں صرف دکھ محسوس کرنا ہے، مدد اس مثال کا مقصد نہیں
تعاملی کوئز کھولیں