خبر اور اخبار: حدیث کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ
طالب علم حدیث کو نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا حال کی روایت کے طور پر پہچان سکے۔ خبر اور اخبار: حدیث کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اس سبق میں کیا سیکھیں گے؟
ہم حدیث، راوی، سند اور متن کے معنی پڑھ چکے ہیں۔ علمِ حدیث کی عبارت میں حدیث کے لیے کچھ دوسرے الفاظ بھی آتے ہیں۔ آج خبر اور اخبار کا استعمال سمجھیں گے۔ مقصد: جملہ پڑھ کر پہچاننا کہ یہاں خبر سے مراد حدیث ہے یا روزمرہ کی کوئی اطلاع۔
2. ایک مانوس حدیث
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (صحیح البخاری: 1) ترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ اس حدیث کو سمجھاتے ہوئے استاد کہے: «اس خبر میں نیت کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔» اس جملے میں خبر سے مراد یہی حدیث ہے۔ استاد کی وضاحت حدیث کے عربی الفاظ کا حصہ نہیں۔
3. خبر اور اس کی جمع
علمِ حدیث میں اکثر اہلِ علم خبر اور حدیث کو ایک ہی معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ • خبر: اس استعمال میں ایک حدیث۔ • اخبار: خبر کی جمع؛ اس استعمال میں احادیث۔ مثلاً ایک حدیث پر گفتگو ہو تو «اس خبر» کہا جا سکتا ہے، اور کئی احادیث پر گفتگو ہو تو «ان اخبار»۔ ہم یہاں یہی استعمال سیکھ رہے ہیں؛ اسے ہر موضوع میں خبر کا لازمی معنی نہ سمجھیں۔
4. دو احادیث کے لیے اخبار
نبی کریم ﷺ کا ایک اور فرمان ہے: الدِّينُ النَّصِيحَةُ (صحیح مسلم: 55a) ترجمہ: دین خیرخواہی ہے۔ • پہلے نیتوں والی حدیث دیکھی۔ • اب خیرخواہی والی حدیث دیکھی۔ یہ دو الگ احادیث ہیں۔ ان دونوں پر گفتگو کرتے ہوئے اخبار کہا جا سکتا ہے، کیونکہ خبر کی جمع اخبار ہے۔ یہاں مراد احادیث ہیں، انہیں نقل کرنے والے اشخاص نہیں۔
5. ہر خبر سے مراد حدیث نہیں
«مجھے خبر ملی کہ کل بارش ہوگی۔» اس روزمرہ جملے میں خبر کا مطلب اطلاع ہے، حدیث نہیں۔1 اسی طرح روزمرہ اردو میں «اخبار پڑھنا» کہا جائے تو عام طور پر مراد خبریں چھاپنے والا اخبار ہوتا ہے۔ فرق کیسے پہچانیں؟ دیکھیں گفتگو کس بارے میں ہے۔ حدیث کی علمی گفتگو میں خبر اور اخبار وہ معنی رکھتے ہیں جو ہم نے ابھی سیکھے؛ موسم کی اطلاع یا روزانہ اخبار کی بات الگ ہے۔ 1. اضافی نوٹ: عربی گرامر میں بھی خبر ایک الگ اصطلاح ہے۔ اس کی تفصیل اس سبق کا حصہ نہیں؛ یہاں ہم حدیث کے لیے خبر کا استعمال سیکھ رہے ہیں۔
6. نام سے صحت کا فیصلہ نہیں ہوتا
کسی روایت کے لیے خبر کا لفظ لکھا ہو تو اس سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے والا کس روایت کی بات کر رہا ہے۔ اس ایک لفظ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بیان کردہ بات کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف درست ثابت ہو چکی ہے۔ اس کے لیے علمی تحقیق درکار ہے۔ ہم پہلے بھی پڑھ چکے ہیں: نسبت بیان کرنا اور نسبت کا درست ثابت ہونا الگ باتیں ہیں۔ خبر کا لفظ اس فرق کو ختم نہیں کرتا۔
7. سبق کا خلاصہ
• خبر: علمِ حدیث کے اس استعمال میں حدیث۔ • اخبار: خبر کی جمع؛ اس استعمال میں احادیث۔ • اکثر اہلِ علم خبر اور حدیث کو ایک ہی معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ خبر کا معنی گفتگو سے سمجھیں؛ موسم کی خبر حدیث نہیں بن جاتی۔ اور کسی روایت کو خبر کہہ دینے سے اس کی نسبت خودبخود درست ثابت نہیں ہوتی۔
مشق کے سوالات
سوال 1
نیتوں والی حدیث پر گفتگو کرتے ہوئے استاد کہتا ہے: «اس خبر کے راویوں کا ذکر پہلے آیا ہے۔» یہاں خبر سے کیا مراد ہے؟
- وہ اشخاص جنہوں نے حدیث نقل کی۔
- روزانہ پڑھا جانے والا اخبار۔
- وہ حدیث جس پر گفتگو ہو رہی ہے۔
سوال 2
استاد نیتوں اور خیرخواہی کی دونوں احادیث پڑھا کر کہتا ہے: «ان اخبار کا مفہوم سمجھیں۔» طالب علم کو کس چیز کا مفہوم سمجھنا ہے؟
- دونوں احادیث کا۔
- انہیں نقل کرنے والے اشخاص کے ناموں کا۔
- روزمرہ کی خبروں کا۔
سوال 3
حدیث کے اس استعمال کے مطابق ہر بیان کو مناسب لفظ سے ملائیں۔
سوال 4
کسی عبارت میں ایک روایت کو خبر کہا گیا ہے۔ صرف یہی لفظ اس بات کے لیے کافی ہے کہ اس کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف درست ثابت ہو چکی ہے۔
سوال 5
کون سا جملہ روزمرہ کی اطلاع دیتا ہے، نہ کہ خبر کو حدیث کے معنی میں استعمال کرتا ہے؟
- اس خبر میں نبی کریم ﷺ کے ایک فرمان کا ذکر ہے۔
- خبر ملی ہے کہ مسجد میں آج کے درس کا وقت بدل گیا ہے۔
- نیتوں والی خبر کے متن کا ترجمہ پہلے پڑھ چکے ہیں۔
تعاملی کوئز کھولیں