مقلوب اور سند میں زائد راوی

ترتیب کا بدلنا اور غلطی سے اضافہ مقلوب اور سند میں زائد راوی کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں

روایت میں کبھی الفاظ یا ناموں کی ترتیب بدل جاتی ہے، اور کبھی سند میں غلطی سے ایک راوی بڑھ جاتا ہے۔ • چھپا کر صدقہ کرنے والی حدیث سے ترتیب بدلنے کی مثال سمجھیں گے۔ • ابن مبارک کی روایت سے سند میں اضافے کی مثال دیکھیں گے۔ • دونوں صورتوں کی تعریف اور متعلقہ شرطیں ساتھ پڑھیں گے۔

2. صدقے والی حدیث میں لفظوں کی جگہ

چھپا کر صدقہ کرنے والے کے بارے میں دو لفظی ترتیبیں دیکھیے: حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ بایاں ہاتھ نہ جانے کہ دایاں ہاتھ کیا خرچ کرتا ہے۔ حَتَّى لَا تَعْلَمَ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ دایاں ہاتھ نہ جانے کہ بایاں ہاتھ کیا خرچ کرتا ہے۔ دوسری ترتیب میں شمال اور یمین کی جگہ بدل گئی ہے۔ یہاں مقلوب کی مثال یہی تبدیلی ہے۔ 1. شمال: بایاں ہاتھ۔ یمین: دایاں ہاتھ۔

3. مقلوب کی تعریف

مقلوب وہ حدیث ہے جس کی سند یا متن میں کسی چیز کو آگے یا پیچھے کرنے سے ردوبدل ہوجائے۔ • سند میں: ناموں کی ترتیب بدل سکتی ہے۔ • متن میں: لفظوں کی جگہ بدل سکتی ہے، جیسے صدقے والی مثال میں دائیں اور بائیں کا بدل جانا۔ 1. تقدیم و تاخیر: آگے اور پیچھے کرنا۔ اسی الٹ پھیر کو یہاں قلب کہتے ہیں۔

4. قلب کا حکم

حدیث کے راوی کا امتحان لینے کے لیے قلب کی اجازت اس شرط کے ساتھ ہے کہ مجلس ختم ہونے سے پہلے اصل صورت واضح کردی جائے۔ • مقصد امتحان ہو۔ • درست صورت اسی مجلس کے ختم ہونے سے پہلے بتادی جائے۔ • کسی اور غرض سے قلب ہو تو روایت ضعیف اور مردود ہوتی ہے۔ یہ راوی کے علمی امتحان کی بحث ہے، حدیث کے الفاظ بدل کر عام طور پر بیان کرنے کی اجازت نہیں۔

5. ابن مبارک کی روایت کی مثال

اس مثال میں نقل کی گئی سند کا مختصر حصہ ہے: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي بُسْرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ وَاثِلَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَرْثَدٍ اس میں سفیان کے بعد عبدالرحمن، پھر بسر، ابو ادریس، واثلہ اور ابو مرثد کے نام آتے ہیں۔ ابھی توجہ سفیان کے نام پر رکھیے؛ اگلی وضاحت میں اسی اضافے کا سبب سمجھیں گے۔ 1. حدثنا: ہمیں بیان کیا۔ حدثني: مجھے بیان کیا۔ سمعت: میں نے سنا۔ یہ سند کا حصہ ہے، حدیث کا متن نہیں۔

6. سفیان کا نام کیسے بڑھا؟

ابن مبارک سے روایت نقل کرنے والوں میں سے کسی کی غلطی سے سفیان کا نام بڑھ گیا۔ • اضافے والی روایت میں ابن مبارک اور عبدالرحمن کے درمیان سفیان آتے ہیں۔ • ثقہ راویوں نے ابن مبارک سے یہ روایت عبدالرحمن کے واسطے سے، سفیان کا نام لائے بغیر، نقل کی ہے۔ • اس مثال میں غلطی ابن مبارک سے نقل کرنے والے کی ہے؛ اسے ابن مبارک کی اپنی غلطی نہیں کہا جارہا۔ 1. وہم: یہاں روایت نقل کرنے میں غلطی مراد ہے۔

7. المزید فی متصل الاسانید

وہ حدیث جس کی سند بظاہر متصل ہو، مگر غلطی سے کسی راوی کا اضافہ ہوگیا ہو، المزید فی متصل الاسانید کی بحث میں آتی ہے۔ • سند بظاہر ملی ہوئی نظر آتی ہے۔ • ایک راوی کا نام غلطی سے بڑھا ہوتا ہے۔ • ابن مبارک والی مثال میں زیرِ بحث زائد نام سفیان ہے۔ محض زیادہ نام ہونا کافی نہیں؛ اضافے کا غلطی ہونا بھی ثابت ہونا چاہیے۔

8. پہلی شرط: سننے کی صراحت

اضافے کے مقام پر براہِ راست سننے کی بات واضح ہونی چاہیے۔ مثلاً راوی کہے: حدثنا، ہمیں بیان کیا، یا سمعت، میں نے سنا۔ جس روایت میں زائد نام نہیں ہے، اس مقام پر واضح سماع سے معلوم ہوتا ہے کہ دو راویوں کا براہِ راست تعلق بیان ہوا ہے۔ 1. سماع کی صراحت: صاف لفظوں میں بتانا کہ راوی نے خود سنا ہے۔ صرف سند کا مختصر ہونا اس شرط کا بدل نہیں۔

9. دوسری شرط: غلطی کا ثابت ہونا

اضافہ کسی کی غلطی سے ہوا ہو، اور تحقیق سے اس غلطی کا ہونا ثابت ہوجائے۔ • صرف ایک سند میں زائد نام دیکھ لینا کافی نہیں۔ • یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ نام غلطی سے بڑھا ہے۔ • واضح سماع اور ثابت شدہ غلطی، دونوں شرطوں کے ساتھ یہ اضافہ مردود اور روایت ضعیف قرار پاتی ہے۔ اس لیے ہر اضافی راوی کو خود بخود غلط نہیں کہتے۔

10. دونوں میں فرق

• مقلوب: کسی چیز کی جگہ بدلتی ہے؛ صدقے والی مثال میں شمال اور یمین کی ترتیب بدلی۔ • المزید: متصل نظر آنے والی سند میں غلطی سے راوی بڑھتا ہے؛ اصل مثال میں سفیان کا نام زیرِ بحث ہے۔ دونوں میں صرف ظاہری فرق دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتے۔ مقلوب کے امتحانی استعمال کی شرط الگ ہے، اور زائد راوی کے رد کی دونوں شرطیں الگ ہیں۔

11. خلاصہ

• مقلوب: سند یا متن میں آگے پیچھے ہونے سے تبدیلی۔ • امتحان کے لیے قلب: مجلس ختم ہونے سے پہلے اصل صورت واضح کرنا لازم ہے۔ • المزید فی متصل الاسانید: بظاہر متصل سند میں غلطی سے راوی کا اضافہ۔ • اصل مثال: ابن مبارک سے نقل کرنے والے کی غلطی سے سفیان کا نام بڑھا۔ • رد کی دو شرطیں: متعلقہ مقام پر سماع کی صراحت اور اضافے میں غلطی کا ثابت ہونا۔

مشق کے سوالات

سوال 1

صدقے والی مثال میں کون سے لفظوں کی جگہ بدلی؟

  • شمال اور یمین
  • سفیان اور عبدالرحمن
  • حدثنا اور سمعت

سوال 2

مقلوب میں تبدیلی کہاں ہوسکتی ہے؟

  • صرف ترجمے میں
  • سند یا متن میں
  • صرف حوالہ نمبر میں

سوال 3

راوی کے امتحان کے لیے قلب ہو تو اصل صورت کب بتانا ضروری ہے؟

  • کبھی بتانا ضروری نہیں۔
  • کئی دن بعد۔
  • مجلس ختم ہونے سے پہلے۔

سوال 4

ابن مبارک والی مثال میں کون سا نام زائد بتایا گیا ہے؟

  • سفیان
  • ابن مبارک
  • ابو مرثد

سوال 5

سفیان کے اضافے کی غلطی یہاں کس کی طرف منسوب ہے؟

  • لازماً ابن مبارک کی طرف۔
  • ابن مبارک سے نقل کرنے والے کی طرف۔
  • صدقہ کرنے والے کی طرف۔

سوال 6

سمعت کا مطلب کیا ہے؟

  • کسی نے شاید کہا۔
  • صرف نام لکھا۔
  • میں نے سنا۔

سوال 7

صرف سند میں زیادہ نام ہوں تو کیا ہر اضافہ رد ہوجاتا ہے؟

  • نہیں؛ متعلقہ سماع اور غلطی کا ثابت ہونا بھی ضروری ہے۔
  • ہاں؛ ہر لمبی سند غلط ہے۔
  • ہاں؛ تحقیق کی ضرورت نہیں۔

تعاملی کوئز کھولیں