مشہور حدیث اور مستفیض کے دو استعمال
طالب علم حدیث کو نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا حال کی روایت کے طور پر پہچان سکے۔ مشہور حدیث اور مستفیض کے دو استعمال کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اس سبق میں کیا سیکھیں گے؟
اس سبق میں مشہور حدیث کی شرطیں اور اس سے متعلق مستفیض کے دو استعمال سمجھیں گے۔ راوی وہ شخص ہے جو حدیث نقل کرتا ہے۔ یہاں طبقہ سے مراد حدیث نقل کرنے والے ایک زمانے کے راوی ہیں۔ راویوں کی تعداد ہر طبقے میں الگ دیکھی جاتی ہے۔
2. مشہور حدیث کی مثال
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ (صحیح البخاری: 10) ترجمہ: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ یہ مشہور حدیث کی مثال ہے۔ مشہور ہونے کا تعلق اس کے راویوں کی تعداد سے ہے: ہر طبقے میں تین یا زیادہ راوی، مگر تعداد حدِ تواتر سے کم۔
3. مشہور حدیث کی دو شرطیں
خبرِ مشہور میں دو باتیں ساتھ ہوتی ہیں: • ہر طبقے میں تین یا زیادہ راوی ہوں۔ کسی ایک طبقے میں بھی تین سے کم ہوں تو یہ تعریف پوری نہیں ہوتی۔ • راویوں کی تعداد حدِ تواتر سے کم ہو۔ صرف «تین سے زیادہ» ہونے کا مطلب متواتر ہونا نہیں۔ یہ ہر طبقے کے راویوں کی بات ہے، پوری سند کے تمام نام جمع کر کے صرف تین گن لینا کافی نہیں۔
4. حدِ تواتر اور عام شہرت
حدِ تواتر سے مراد وہ کثرت ہے جس میں ہر زمانے کے راوی اتنے ہوں کہ ان سب کا مل کر یا اتفاقاً ایک ہی جھوٹ بیان کرنا معمول کے مطابق ممکن نہ ہو۔ روایت کی بنیاد سنی یا دیکھی ہوئی بات بھی ہو۔ مشہور حدیث میں راوی تین یا زیادہ ہوتے ہیں، مگر وہ کثرت حدِ تواتر تک نہیں پہنچتی۔ کسی حدیث کا آج لوگوں میں بہت معروف ہونا الگ بات ہے؛ صرف اس شہرت سے ہر طبقے کے راویوں کی تعداد معلوم نہیں ہوتی۔
5. مستفیض: مشہور کا دوسرا نام
مشہور حدیث کو مستفیض بھی کہتے ہیں۔ اس استعمال میں دونوں نام ایک ہی قسم کے لیے آتے ہیں۔ لہٰذا یہاں مستفیض پڑھ کر مشہور سے الگ نئی قسم نہ سمجھیں۔ مشہور کی وہی شرطیں رہتی ہیں: ہر طبقے میں تین یا زیادہ راوی، مگر حدِ تواتر سے کم۔
6. مستفیض کا ایک خاص استعمال
ایک قول کے مطابق مستفیض، مشہور حدیث کی خاص صورت ہے: مشہور کی شرطوں کے ساتھ راویوں کی تعداد ہر طبقے میں برابر بھی ہو۔ • تعداد برابر ہو: اس خاص استعمال میں مستفیض کہیں گے۔ • تعداد میں کمی بیشی ہو: مشہور کی شرطیں پوری ہوں تو مشہور رہے گی، مگر اس خاص استعمال میں مستفیض نہیں ہوگی۔ یوں اس قول میں مشہور عام اور مستفیض خاص ہے۔1 1. عام اور خاص: یہاں مراد یہ ہے کہ اس قول کے مطابق ہر مستفیض مشہور ہے، مگر ہر مشہور مستفیض نہیں۔
7. سبق کا خلاصہ
• مشہور حدیث: ہر طبقے میں تین یا زیادہ راوی، مگر حدِ تواتر سے کم۔ • مستفیض کا عام استعمال: مشہور ہی کا دوسرا نام۔ • ایک خاص استعمال: مشہور کی شرطیں پوری ہوں اور راویوں کی تعداد ہر طبقے میں برابر ہو۔ • دھیان رکھیں: راویوں کی یہ علمی تقسیم، آج لوگوں میں معروف ہونے سے الگ ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
اگر کسی ایک طبقے میں صرف دو راوی ہوں، اور باقی طبقوں میں تین سے زیادہ ہوں، تو مشہور کی بیان کردہ تعریف کے لحاظ سے کیا نتیجہ ہوگا؟
- باقی طبقوں کی زیادتی، اس طبقے کی کمی پوری کر دے گی۔
- سب راویوں کا مجموعہ تین سے زیادہ ہو تو مشہور ہوگی۔
- ایک طبقے میں دو ہونے سے مشہور کی یہ تعریف پوری نہیں ہوتی۔
سوال 2
مشہور کی شرطیں پوری ہوں، مگر راویوں کی تعداد ہر طبقے میں برابر نہ ہو۔ مستفیض کے خاص استعمال کے مطابق کون سی بات درست ہے؟
- مشہور رہے گی، مگر اس خاص معنی میں مستفیض نہیں۔
- تعداد برابر نہیں، اس لیے مشہور بھی نہیں رہے گی۔
- تعداد میں فرق، اسے اسی خاص معنی میں مستفیض بناتا ہے۔
سوال 3
ہر بات کو اس پہلو سے ملائیں جس سے اس کا تعلق ہے۔
سوال 4
جہاں مستفیض، مشہور ہی کے دوسرے نام کے طور پر آئے، وہاں بھی ہر طبقے میں تعداد برابر ہونے کی الگ شرط لگانا ضروری ہے۔
سوال 5
اگر راویوں کی کثرت حدِ تواتر تک پہنچ جائے اور تواتر کی باقی شرطیں بھی پوری ہوں، تو صرف «تین سے زیادہ راوی» کہہ کر اسے مشہور ہی کیوں نہیں کہیں گے؟
- مشہور میں ہر طبقے کے راوی بالکل تین ہونے چاہییں۔
- مشہور کی تعریف میں حدِ تواتر سے کم رہنا بھی شامل ہے۔
- متواتر میں بھی ہر طبقے کے راوی برابر ہونا ضروری ہیں۔
تعاملی کوئز کھولیں