معلّق اور مرسل

راوی کہاں سے حذف ہوا؟ معلّق اور مرسل کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں

سند میں راوی کا نام رہ جائے تو یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ کس جگہ سے رہ گیا ہے۔ • معلّق میں سند کے شروع سے راوی حذف ہوتے ہیں۔ • مرسل میں تابعی کے بعد کا واسطہ بیان نہیں ہوتا۔ دو اصل مثالوں سے یہ فرق اور ان کے حکم کی ضروری شرطیں سمجھیں گے۔

2. معلّق کی تعریف اور مثال

معلّق وہ حدیث ہے جس کی سند کے شروع سے ایک، چند یا سب راوی لگاتار حذف ہوں۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غَطَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُكْبَتَيْهِ حِينَ دَخَلَ عُثْمَانُ (صحیح بخاری، باب ما يذكر في الفخذ) ترجمہ: جب عثمان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو نبی ﷺ نے اپنے دونوں گھٹنے ڈھانپ لیے۔

3. یہ مثال معلّق کیوں ہے؟

• عبارت قَالَ أَبُو مُوسَى، یعنی «ابوموسیٰ نے کہا»، سے شروع ہوتی ہے۔ • امام بخاری سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ تک کے راوی یہاں بیان نہیں کیے گئے۔ • اسی ابتدائی حصے کے حذف ہونے کی وجہ سے یہ معلّق کی مثال ہے۔ 1. سند کا شروع: یہاں حدیث جمع کرنے والے مصنف کی طرف کا حصہ مراد ہے۔ 2. محذوف: وہ نام یا واسطہ جو بیان میں چھوڑ دیا گیا ہو۔

4. معلّق میں سند کی کمی

• ایک راوی رہ جائے یا کئی، معلّق میں حذف سند کے شروع سے ہوتا ہے۔ • کئی راوی حذف ہوں تو وہ لگاتار ہوتے ہیں۔ • اس نامکمل سند میں اتصال ثابت نہیں؛ صرف اسی صورت کو عمل کی کافی دلیل نہیں بنایا جاتا۔ حکم کی وجہ سند کا متصل نہ ہونا ہے، متن کا مختصر ہونا نہیں۔

5. مرسل کی تعریف

مرسل وہ حدیث ہے جس میں تابعی کے بعد کا واسطہ حذف ہو، اور وہ بات براہِ راست رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کردے۔ مثلاً اگلی روایت میں سعید بن مسیب رسول اللہ ﷺ کی ممانعت بیان کرتے ہیں، مگر اپنے اور آپ ﷺ کے درمیان کا راوی ذکر نہیں کرتے۔ 1. تابعی: وہ مسلمان جس نے کسی صحابی سے ملاقات کی ہو اور اسلام پر وفات پائی ہو۔ 2. واسطہ: وہ راوی جس کے ذریعے حدیث آگے پہنچی۔

6. مرسل کی اصل مثال

عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ ترجمہ: ابن شہاب، سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ 1. مزابنہ: اس کی ایک صورت درخت پر لگی کھجوروں کو خشک کھجوروں کے بدلے بیچنا ہے۔

7. مثال میں کون سا واسطہ نہیں آیا؟

• ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے روایت کی۔ • سعید بن مسیب تابعی ہیں؛ یہاں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بات بیان کی ہے۔ • ان کے بعد کا واسطہ مذکور نہیں، اس لیے یہ سند مرسل ہے۔ صرف «رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا» کہنا درمیان کے راوی کا نام بیان کرنا نہیں ہے۔

8. مرسل میں حذف کی دو صورتیں

تابعی اپنے بعد کے واسطے بیان نہ کرے تو: • صرف صحابی کا واسطہ حذف ہوسکتا ہے۔ • یا ایک تابعی اور صحابی، دونوں کا واسطہ حذف ہوسکتا ہے۔ سعید بن مسیب کی مثال میں بھی یہی دونوں صورتیں بیان کی جاتی ہیں۔ حذف شدہ راوی کا نام اس مختصر سند میں موجود نہیں۔

9. مرسل کا حکم اور احناف کی شرطیں

مرسل میں واسطہ حذف ہونے کی وجہ سے سند ضعیف شمار ہوتی ہے۔ البتہ احناف کے نزدیک ایسے تابعی کی مرسل روایت معتبر ہے جو: 1. خود ثقہ ہو؛ 2. اور صرف ثقہ راوی سے روایت کرنے کی پابندی کرتا ہو۔ 1. احناف: حنفی فقہی مسلک کے اہلِ علم۔ 2. ثقہ: ایسا قابلِ اعتماد راوی جس کی دیانت اور روایت محفوظ رکھنے کی صلاحیت معتبر ہو۔

10. شرط کو نظرانداز نہ کریں

«ہر تابعی کی ہر مرسل روایت احناف کے نزدیک معتبر ہے» درست بات نہیں۔ • تابعی کا خود ثقہ ہونا ضروری ہے۔ • صرف ثقہ راویوں سے روایت کرنے کی پابندی بھی ضروری ہے۔ اس لیے صرف تابعی ہونا ان دونوں شرطوں کی جگہ نہیں لے سکتا۔

11. خلاصہ

• معلّق: سند کے شروع سے ایک، چند یا سب راوی لگاتار حذف ہوں؛ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی مثال میں شروع کے راوی بیان نہیں ہوئے۔ • مرسل: تابعی کے بعد کا واسطہ حذف ہو؛ سعید بن مسیب کی مثال میں یہی صورت ہے۔ • حذف شدہ واسطہ صرف صحابی، یا تابعی اور صحابی دونوں ہوسکتے ہیں۔ • نامکمل سند کے حکم میں حذف اہم ہے؛ مرسل کی قبولیت کے لیے احناف کی بیان کردہ دونوں شرطیں یاد رکھیں۔

مشق کے سوالات

سوال 1

معلّق میں راوی کہاں سے حذف ہوتے ہیں؟

  • سند کے شروع سے۔
  • صرف متن کے آخر سے۔
  • صرف صحابی کے بعد سے۔

سوال 2

ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی مثال معلّق کیوں ہے؟

  • اس کا متن مختصر ہے۔
  • امام بخاری سے ابوموسیٰ تک کے راوی یہاں مذکور نہیں۔
  • اس میں دو گھٹنوں کا ذکر ہے۔

سوال 3

سعید بن مسیب کی مثال میں مرسل ہونے کی وجہ کیا ہے؟

  • مزابنہ کا ذکر ہے۔
  • ابن شہاب کا نام موجود ہے۔
  • تابعی نے اپنے بعد کا واسطہ بتائے بغیر رسول اللہ ﷺ کی بات بیان کی۔

سوال 4

مرسل میں حذف شدہ واسطہ ہمیشہ صرف ایک صحابی ہی ہوتا ہے۔

  • درست
  • غلط

سوال 5

احناف کے نزدیک بیان کردہ مرسل روایت کی قبولیت کے لیے کیا ضروری ہے؟

  • تابعی خود ثقہ ہو اور صرف ثقہ راوی سے روایت کرنے کی پابندی کرے۔
  • صرف تابعی ہونا کافی ہے۔
  • صرف روایت مختصر ہونا کافی ہے۔

سوال 6

متن مختصر ہو تو صرف اسی وجہ سے حدیث معلّق کہلائے گی۔

  • درست
  • غلط

تعاملی کوئز کھولیں