معضل اور منقطع

لگاتار حذف اور الگ الگ حذف معضل اور منقطع کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں

سند سے دو راوی حذف ہوں تو صرف ان کی تعداد جاننا کافی نہیں؛ یہ بھی دیکھیں کہ وہ لگاتار حذف ہوئے ہیں یا الگ الگ جگہوں سے۔ • معضل میں کم از کم دو راوی لگاتار حذف ہوتے ہیں۔ • منقطع کی اس بحث میں ایک راوی، یا الگ الگ جگہوں سے کئی راوی حذف ہوتے ہیں۔ اصل مثالوں سے یہ فرق اور اس کا حکم سمجھیں گے۔

2. معضل کی تعریف

معضل وہ حدیث ہے جس کی سند سے دو یا دو سے زیادہ راوی لگاتار حذف ہوں۔ • «دو یا زیادہ» راویوں کی تعداد بتاتا ہے۔ • «لگاتار» بتاتا ہے کہ حذف شدہ راوی ایک دوسرے کے بعد تھے۔ اگلی مثال میں امام مالک اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان دو واسطے بیان نہیں ہوئے۔

3. معضل کی اصل مثال

عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا يُطِيقُ (موطأ امام مالک) ترجمہ: غلام کو مناسب کھانا اور لباس دیا جائے، اور اس سے اتنا ہی کام لیا جائے جتنی اس میں طاقت ہو۔ 1. مملوک: غلام؛ یہاں تاریخی غلامی کے دور کا شخص مراد ہے، عام ملازم نہیں۔

4. دو واسطے کون سے ہیں؟

امام مالک کی طرف سے أَنَّهُ بَلَغَهُ آیا ہے، یعنی «انہیں یہ بات پہنچی»۔ اس جگہ ان تک پہنچانے والے راویوں کے نام نہیں آئے۔ امام مالک اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ دو واسطے حذف ہیں: • محمد بن عجلان؛ • ان کے والد عجلان۔ دونوں لگاتار حذف ہونے کی وجہ سے یہ معضل کی مثال ہے۔

5. حذف کا علم کیسے ہوا؟

صرف «یہ بات پہنچی» سے حذف شدہ راویوں کی پوری تعداد معلوم نہیں ہوتی۔ اس مثال میں دو واسطوں کا علم دوسری سند سے ہوا ہے۔ اسی لیے: • مختصر عبارت میں نام نہ ہونا ایک بات ہے؛ • دوسری سند سے ان ناموں اور تعداد کا معلوم ہونا دوسری بات ہے۔ یہاں دونوں راویوں کی شناخت اسی دوسری سند سے متعلق ہے۔

6. معضل کا حکم

معضل سند ضعیف ہوتی ہے؛ اس نامکمل سند کو عمل کی کافی دلیل نہیں بنایا جاتا۔ اس میں دو یا زیادہ راوی لگاتار حذف ہیں، اس لیے ضعف کے اعتبار سے اسے مرسل اور منقطع سے زیادہ کمزور شمار کیا جاتا ہے۔ یہ گفتگو سند کی اس صورت کے بارے میں ہے۔

7. منقطع کی تعریف

منقطع میں سند سے ایک راوی حذف ہو، یا دو یا زیادہ راوی حذف ہوں مگر وہ لگاتار نہ ہوں، بلکہ الگ الگ جگہوں سے حذف ہوں۔ • ایک راوی کا حذف اس تعریف میں آسکتا ہے۔ • کئی راوی حذف ہوں تو ان کا الگ الگ جگہوں سے ہونا اہم ہے۔ دو راوی لگاتار حذف ہونے کی صورت معضل کی تعریف میں آتی ہے۔

8. منقطع کی اصل مثال

عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ عَنْ حُذَيْفَةَ مَرْفُوعًا إِنْ وَلَّيْتُمُوهَا فَقَوِيٌّ أَمِينٌ ترجمہ: اگر تم یہ ذمہ داری انہیں دو تو وہ باصلاحیت اور امانت دار ہیں۔ 1. مرفوعاً: روایت نبی ﷺ کی طرف منسوب کرکے بیان کی گئی ہے۔ 2. یہاں «انہیں» کا تعلق ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہے؛ اصل طویل عبارت میں ان کا نام آتا ہے۔

9. شریک کا واسطہ

اس روایت کی طویل سند میں سفیان ثوری اور ابواسحاق کے درمیان شریک کا واسطہ حذف ہے۔ • سفیان ثوری نے یہ روایت شریک سے لی۔ • شریک نے ابواسحاق سے لی۔ • اس ایک واسطے کے حذف ہونے کی وجہ سے اسے منقطع کی مثال بنایا جاتا ہے۔ 1. پچھلی سلائیڈ میں سند کا صرف ابواسحاق سے آگے کا حصہ تھا؛ حذف اس سے پہلے کے حصے میں ہے۔

10. منقطع کا حکم

حذف شدہ راوی کے حالات معلوم نہ ہونے کی وجہ سے منقطع سند ضعیف ہے اور اس نامکمل صورت کو عمل کی کافی دلیل نہیں بنایا جاتا۔ اصل وجہ: سند میں ایک واسطہ بیان نہیں ہوا، اس لیے اس راوی کے حالات اس سند سے معلوم نہیں ہوتے۔

11. صرف دو راوی کہنا کافی نہیں

دو راوی حذف ہونے کی بات سن کر فوراً معضل نہ کہیں: • دونوں لگاتار حذف ہوں تو معضل کی شرط پوری ہوتی ہے۔ • دونوں الگ الگ جگہوں سے حذف ہوں تو یہ منقطع کی بیان کردہ صورت ہے۔ تعداد کے ساتھ لگاتار یا الگ الگ ہونا بھی دیکھیں۔

12. خلاصہ

• معضل: دو یا زیادہ راوی لگاتار حذف ہوں۔ • امام مالک کی مثال میں محمد بن عجلان اور ان کے والد کے حذف کا علم دوسری سند سے ہوا۔ • منقطع: ایک راوی، یا الگ الگ جگہوں سے کئی راوی حذف ہوں۔ • دوسری مثال میں سفیان ثوری اور ابواسحاق کے درمیان شریک کا واسطہ حذف ہے۔ • دونوں نامکمل صورتیں ضعیف ہیں؛ معضل میں لگاتار حذف کی وجہ سے ضعف زیادہ شدید ہے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

معضل کی مکمل شرط کیا ہے؟

  • دو یا زیادہ راوی لگاتار حذف ہوں۔
  • صرف دو راوی کسی بھی جگہ حذف ہوں۔
  • صرف ایک راوی حذف ہو۔

سوال 2

امام مالک کی مثال میں دو حذف شدہ واسطوں کا علم کس سے ہوا؟

  • صرف متن کے مضمون سے۔
  • دوسری سند سے۔
  • صرف عبارت کی لمبائی سے۔

سوال 3

معضل کی مثال میں کون سے دو واسطے حذف ہیں؟

  • سفیان ثوری اور شریک۔
  • ابواسحاق اور حذیفہ۔
  • محمد بن عجلان اور ان کے والد عجلان۔

سوال 4

دو راوی الگ الگ جگہوں سے حذف ہوں تو اس سبق کی کون سی تعریف پوری ہوتی ہے؟

  • منقطع۔
  • معضل، کیونکہ تعداد دو ہے۔
  • متصل، کیونکہ حذف الگ الگ ہے۔

سوال 5

شریک کا واسطہ کن دو راویوں کے درمیان حذف ہے؟

  • امام مالک اور ابوہریرہ کے درمیان۔
  • سفیان ثوری اور ابواسحاق کے درمیان۔
  • زید بن یثیع اور حذیفہ کے درمیان۔

سوال 6

معضل میں لگاتار حذف کی وجہ سے ضعف مرسل اور منقطع سے زیادہ شدید شمار ہوتا ہے۔

  • درست
  • غلط

سوال 7

منقطع کے ضعف کی بیان کردہ وجہ کیا ہے؟

  • حذف شدہ راوی کے حالات معلوم نہ ہونا۔
  • متن میں مشکل لفظ ہونا۔
  • ترجمہ مختصر ہونا۔

تعاملی کوئز کھولیں