مختلف الحدیث: ظاہری تعارض میں تطبیق
دو حدیثی عبارتوں کا مفہوم ساتھ سمجھیں اور ظاہری مخالفت دور ہونے کی وجہ پہچانیں۔ مختلف الحدیث: ظاہری تعارض میں تطبیق کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اس سبق میں
بیماری اللہ کی مشیت سے الگ، خودبخود اثر نہیں کرتی؛ پھر بیماری سے بچنے کی ہدایت کیوں دی گئی ہے؟ دو مختصر حدیثی عبارتوں کو ساتھ پڑھ کر یہ بات سمجھیں گے۔ کبھی دو مقبول حدیثوں، یعنی قبول کرنے کی شرائط پوری کرنے والی حدیثوں، کے مفہوم بظاہر ایک دوسرے کے خلاف نظر آتے ہیں۔ آج ان میں موافقت سمجھنے کا طریقہ دیکھیں گے۔
2. بیماری اور بدشگونی
لَا عَدْوٰى وَلَا طِيَرَةَ. (مشکوٰۃ المصابیح: 4577) مفہوم: بیماری ازخود نہیں پھیلتی، اور بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں۔ ازخود کا مطلب ہے اللہ کی مشیت سے الگ اپنی طاقت سے۔ یہاں بیماری کے اس طرح اثر کرنے کی نفی ہے؛ بیماری منتقل ہونے کے امکان کی نفی نہیں۔ 1. بدشگونی: کسی چیز کو آنے والی مصیبت کا برا شگون سمجھنا۔
3. احتیاط کی ہدایت
فِرَّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ فِرَارَكَ مِنَ الْأَسَدِ. (مشکوٰۃ المصابیح: 4577) مفہوم: جذام کے مریض سے اس طرح بچو جیسے شیر سے بچتے ہو۔ اس عبارت میں بیماری سے بچنے کی ہدایت ہے۔ اب سوال یہ ہے: یہ احتیاط، پچھلی عبارت کے مفہوم کے ساتھ کیسے درست رہتی ہے؟ 1. مَجْذُوم: جذام نامی بیماری میں مبتلا شخص۔
4. دونوں باتیں کیسے درست ہیں؟
• پہلی بات: بیماری اللہ کی مشیت سے الگ، اپنی طاقت سے نہیں پھیلتی۔ • دوسری بات: بیماری اللہ کی مشیت سے منتقل ہوسکتی ہے، اس لیے اس سے بچنے کی ہدایت ہے۔ یوں اللہ کی مشیت کو ماننا اور احتیاط کرنا ایک دوسرے کے خلاف نہیں۔ جمع و تطبیق یہی ہے کہ دونوں عبارتوں کا مفہوم ساتھ سمجھنے سے ظاہری مخالفت دور ہوجائے۔
5. مختلف الحدیث کی تعریف
مختلف الحدیث وہ مقبول حدیث ہے جو اسی درجے کی دوسری حدیث کے بظاہر خلاف ہو، لیکن دونوں میں جمع و تطبیق ممکن ہو۔ تین باتیں ساتھ دیکھیں: • دونوں حدیثیں ایک ہی درجے کی ہوں۔ • ان کے مفہوم بظاہر مخالف ہوں۔ • درست مفہوم سمجھنے سے دونوں میں موافقت ممکن ہو۔ بیماری والی مثال میں آخری بات یوں پوری ہوئی کہ ازخود اثر کرنے کی نفی اور احتیاط کی ہدایت الگ پہلو ہیں۔
6. تطبیق ممکن ہو تو حکم
جب دونوں حدیثوں میں جمع و تطبیق ممکن ہو تو دونوں پر عمل کرنا واجب ہے، یعنی دونوں کی ہدایت ماننا ضروری ہے۔ مثال میں: • بیماری کو اللہ کی مشیت سے الگ مؤثر نہ سمجھیں۔ • بیماری سے بچنے کی ہدایت بھی برقرار رکھیں۔ صرف ظاہری مخالفت دیکھ کر فوراً ایک عبارت چھوڑ دینا، تطبیق نہیں ہے۔
7. تطبیق میں کیا غلطی نہ ہو؟
• «احتیاط منع ہے»: یہ نتیجہ درست نہیں؛ دوسری عبارت میں بچنے کی ہدایت موجود ہے۔ • «ایک حدیث فوراً چھوڑ دیں»: جمع و تطبیق ممکن ہو تو دونوں پر عمل ہوتا ہے۔ • «اپنی پسند کا مطلب بنا لیں»: یہ تطبیق نہیں؛ وضاحت حدیث کے الفاظ اور معتبر علمی شرح کے مطابق ہونی چاہیے۔ تعریف میں تطبیق کا ممکن ہونا شرط ہے؛ ہر ظاہری اختلاف کو خود سے حل کرنے کا دعویٰ نہیں۔
8. خلاصہ
• مختلف الحدیث: اسی درجے کی مقبول حدیثوں میں ظاہری مخالفت ہو، مگر تطبیق ممکن ہو۔ • جمع و تطبیق: دونوں کا مفہوم ساتھ سمجھ کر ظاہری مخالفت دور کرنا۔ • اصل مثال: بیماری ازخود مؤثر نہیں؛ اللہ کی مشیت سے منتقل ہوسکتی ہے، اس لیے احتیاط کی ہدایت بھی درست ہے۔ • حکم: تطبیق ممکن ہو تو دونوں پر عمل ضروری ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
اسی درجے کی دو مقبول حدیثوں میں بظاہر مخالفت ہے، مگر درست مفہوم سمجھنے سے دونوں پر عمل ہوسکتا ہے۔ کون سا طریقہ درست ہے؟
- ایک پسند کریں اور دوسری فوراً چھوڑ دیں۔
- دونوں کی تطبیق سمجھیں اور دونوں پر عمل کریں۔
- بظاہر مخالفت سے دونوں ناقابلِ قبول ہوجائیں گی۔
سوال 2
«لا عدوى» کا یہاں بتایا گیا مفہوم بیماری سے بچنے کی احتیاط کو منع کرتا ہے۔
سوال 3
ہر وضاحت کو اس متعلقہ بات سے ملائیں۔
سوال 4
ایک طالب علم کہتا ہے: دونوں باتیں ملانے کے لیے میں حدیث کا کوئی بھی نیا مطلب بنا سکتا ہوں۔ اس میں کیا غلطی ہے؟
- تطبیق میں الفاظ اور معتبر علمی شرح کی پابندی رہتی ہے۔
- تطبیق صرف ایک عبارت کا ترجمہ پڑھنے کا نام ہے۔
- دونوں باتیں مختلف نظر آئیں تو تطبیق ہمیشہ ناممکن ہے۔
تعاملی کوئز کھولیں