متابع اور شاہد

طالب علم حدیث کو نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا حال کی روایت کے طور پر پہچان سکے۔ متابع اور شاہد کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں کیا سیکھیں گے؟

فرد نسبی میں شروع کے بجائے بعد کے کسی طبقے میں ایک راوی رہ جاتا ہے۔ کبھی کبھی ایسی روایت کے موافق دوسری روایت بھی ملتی ہے، جس سے اسے تائید، یعنی سہارا ملتا ہے۔ اس سبق میں تائیدی روایت کی دو قسمیں، متابع اور شاہد، پہچانیں گے۔ دیکھیں گے کہ دونوں روایتیں ایک ہی صحابی سے ہیں یا الگ الگ صحابیوں سے۔

2. ایک ہی صحابی کی دو روایتیں

صحابی1 حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے چاند دیکھنے کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا فرمان نقل کیا۔ دو روایتوں کے مختصر حصے دیکھیے: فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاَثِينَ (صحیح بخاری: 1907) آسان مفہوم: اگر بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو تیس دن پورے کر لو۔ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا ثَلاَثِينَ (صحیح مسلم: 1080c) آسان مفہوم: اگر بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو تیس دن شمار کر لو۔ الفاظ کچھ مختلف ہیں، مگر یہاں بات ایک ہے: تیس دن پورے کرنا۔ دونوں روایتوں کے صحابی بھی عبداللہ بن عمرؓ ہیں۔ 1. صحابی: جس نے ایمان کی حالت میں نبی کریم ﷺ سے ملاقات کی اور ایمان ہی پر وفات پائی۔

3. متابع کی تعریف

کسی حدیث کی ایسی تائیدی روایت کو متابع کہتے ہیں جس میں: • الفاظ اور معنی دونوں موافق ہوں، یا صرف معنی موافق ہوں۔ • دونوں روایتیں ایک ہی صحابی سے منقول ہوں۔ عبداللہ بن عمرؓ کی پچھلی دو روایتوں میں یہی بات ہے: مفہوم موافق ہے اور صحابی ایک ہیں۔ اس لیے دوسری روایت پہلی کی متابع ہے۔

4. دوسرے صحابی کی موافق روایت

حضرت ابو ہریرہؓ نے بھی چاند دیکھنے کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا فرمان نقل کیا۔ اس کا ایک مختصر حصہ ہے: فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلاَثِينَ (صحیح بخاری: 1909) آسان مفہوم: اگر بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو شعبان1 کے تیس دن پورے کر لو۔ عبداللہ بن عمرؓ کی روایت میں بھی تیس دن پورے کرنے کی بات تھی۔ یہاں مفہوم موافق ہے، لیکن صحابی دوسرے ہیں: ابو ہریرہؓ۔ 1. شعبان: رمضان سے پہلے آنے والا اسلامی مہینہ۔

5. شاہد کی تعریف

کسی حدیث کی ایسی تائیدی روایت کو شاہد کہتے ہیں جس میں: • الفاظ اور معنی دونوں موافق ہوں، یا صرف معنی موافق ہوں۔ • دونوں روایتیں دو الگ صحابیوں سے منقول ہوں۔ ابو ہریرہؓ کی روایت، عبداللہ بن عمرؓ کی روایت کے لیے شاہد ہے: مفہوم موافق ہے، لیکن دونوں کے صحابی الگ ہیں۔

6. صرف الفاظ کا فرق کافی نہیں

صرف الفاظ بدلنے سے کوئی تائیدی روایت شاہد نہیں بن جاتی۔ • صحابی وہی ہوں اور معنی موافق ہوں تو روایت متابع ہو سکتی ہے، چاہے الفاظ مختلف ہوں۔ • صحابی الگ ہوں تو شاہد کے لیے معنی کی موافقت بھی ضروری ہے۔ دو الگ صحابیوں کی دو بالکل مختلف باتیں صرف اس وجہ سے ایک دوسرے کی شاہد نہیں بن جاتیں۔

7. سبق کا خلاصہ

• تائید: کسی روایت کو دوسری موافق روایت سے سہارا ملنا۔ فرد نسبی میں کبھی کبھی ایسی روایت ملتی ہے۔ • متابع: معنی موافق ہوں اور صحابی ایک ہی ہوں۔ • شاہد: معنی موافق ہوں اور صحابی الگ الگ ہوں۔ دونوں میں الفاظ بھی موافق ہو سکتے ہیں، لیکن صرف معنی کی موافقت بھی ہو سکتی ہے۔ فرق پہچانتے وقت مفہوم اور صحابی، دونوں کو دیکھیے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

عبداللہ بن عمرؓ کی دو روایتوں کے الفاظ کچھ مختلف ہیں، لیکن معنی موافق ہیں۔ تائیدی روایت کو کیا کہیں گے؟

  • شاہد
  • متابع
  • تائیدی روایت نہیں

سوال 2

دو روایتوں کے صحابی الگ الگ ہوں تو معنی بالکل مختلف ہونے کے باوجود ایک روایت دوسری کی شاہد ہوگی۔

  • درست
  • غلط

سوال 3

ہر اصطلاح کو اس کے مطلب سے ملائیں۔

سوال 4

ابو ہریرہؓ کی روایت، عبداللہ بن عمرؓ کی روایت کی شاہد کیوں ہے؟

  • معنی موافق ہیں، مگر صحابی الگ ہیں۔
  • الفاظ مختلف ہیں؛ معنی دیکھنا ضروری نہیں۔
  • دونوں روایتیں ایک ہی صحابی سے ہیں۔

تعاملی کوئز کھولیں