طعنِ راوی اور حدیثِ موضوع
عدالت، ضبط اور جھوٹی نسبت طعنِ راوی اور حدیثِ موضوع کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اس سبق میں
سند میں واسطہ حذف ہونے کے علاوہ، راوی کے حالات بھی روایت کے قبول یا رد ہونے پر اثر ڈالتے ہیں۔ اس سبق میں اسی دوسرے سبب، طعنِ راوی، کو سمجھیں گے۔ • اس کے اسباب دو حصوں میں آتے ہیں۔ • دونوں حصوں میں پانچ پانچ اسباب ہیں۔ • آخر میں حدیثِ موضوع کی تعریف، اصل مثال اور اسے بیان کرنے کا حکم پڑھیں گے۔
2. طعنِ راوی کا مطلب
یہاں طعن سے مراد راوی میں ایسا عیب یا خرابی ہے جس کی وجہ سے روایت مردود ہوتی ہے۔ اس بحث کے دو حصے ہیں: • عدالت سے متعلق: راوی کی دیانت اور دینی حالت کی طرف توجہ۔ • ضبط سے متعلق: روایت کو درست محفوظ رکھنے اور بیان کرنے کی طرف توجہ۔
3. عدالت سے متعلق پانچ اسباب
عدالت سے متعلق اسباب یہ ہیں: 1. کذب: جھوٹ۔ 2. تہمتِ کذب: جھوٹ کی تہمت۔ 3. فسق: دینی نافرمانی۔ 4. بدعت: دین میں نئی بات پیدا کرنے سے متعلق خرابی۔ 5. جہالت: راوی یا اس کے حالات کا معلوم نہ ہونا۔ یہ پانچ عنوانات ہیں؛ ان کی تفصیلی صورتیں آگے الگ سمجھیں گے۔
4. جھوٹ اور تہمت الگ ہیں
کذب اور تہمتِ کذب دو الگ عنوان ہیں۔ دونوں کو ایک ہی بات نہ سمجھیں۔ اسی طرح جہالت میں مسئلہ راوی یا اس کے حالات کا معلوم نہ ہونا ہے؛ یہاں اس لفظ سے صرف کم پڑھا لکھا ہونا مراد نہیں۔ اس فرق سے اگلے اسباق میں روایتوں کے الگ نام سمجھنے میں مدد ملے گی۔
5. ضبط سے متعلق پانچ اسباب
ضبط سے متعلق اسباب یہ ہیں: 1. فحشِ غلط: غلطیوں کی کثرت۔ 2. کثرتِ غفلت: بار بار بے توجہی۔ 3. وہم: روایت میں غلط فہمی یا اشتباہ۔ 4. مخالفتِ ثقات: معتبر راویوں کی روایت کے خلاف بیان کرنا۔ 5. سوءِ حفظ: یاد رکھنے کی کمزوری۔ 1. ثقات: ثقہ کی جمع؛ قابلِ اعتماد راوی۔
6. دونوں حصوں میں فرق
• عدالت کے عنوانات راوی کی دیانت، دینی حالت یا اس کے بارے میں ضروری معلومات سے متعلق ہیں۔ • ضبط کے عنوانات روایت کو درست یاد رکھنے، توجہ سے لینے اور صحیح بیان کرنے سے متعلق ہیں۔ اس لیے سوءِ حفظ اور کذب کو ایک ہی سبب نہیں کہتے: ایک یادداشت کی کمزوری ہے، دوسرا جھوٹ۔
7. ضعف اور خاص اصطلاحی نام
ان دس عیوب میں سے کوئی عیب راوی میں پایا جائے تو روایت کو مجموعی طور پر ضعیف کہا جاتا ہے۔ البتہ مختلف عیوب کے لحاظ سے اکثر روایت کو ایک خاص اصطلاحی نام بھی دیا جاتا ہے۔ لہٰذا «ضعیف» کہنا عمومی بات ہے؛ خاص نام سے ضعف کی نوعیت مزید واضح ہوتی ہے۔ اب جھوٹی نسبت والی روایت کو دیکھیں گے۔
8. حدیثِ موضوع
حدیثِ موضوع وہ روایت ہے جس کی جھوٹی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کی گئی ہو۔ اس میں مسئلہ صرف یادداشت کی کمزوری نہیں، بلکہ بات کو جھوٹا آپ ﷺ کی طرف منسوب کرنا ہے۔ 1. موضوع: یہاں «گھڑی ہوئی روایت» مراد ہے، گفتگو کا عنوان نہیں۔
9. موضوع روایت کی مثال
موضوع روایت — نبی ﷺ کی ثابت شدہ حدیث نہیں عَلِيٌّ خَيْرُ الْبَشَرِ مَنْ شَكَّ فِيهِ كَفَرَ عبارت کا ترجمہ: «علی تمام انسانوں سے بہتر ہیں؛ جس نے اس میں شک کیا، اس نے کفر کیا۔» یہ عبارت جھوٹی نسبت کی مثال کے طور پر پڑھی جارہی ہے، اس کے دعوے کو درست عقیدہ یا کسی شخص پر حکم نہیں بنایا جارہا۔
10. موضوع روایت بیان کرنے کا حکم
موضوع روایت بیان کرتے وقت اس کا موضوع ہونا صاف بتانا ضروری ہے۔ اس وضاحت کے بغیر اسے بیان کرنا جائز نہیں۔ • «یہ موضوع روایت ہے» کہہ کر اس کی شناخت واضح کی جائے۔ • اسے نبی ﷺ کی ثابت شدہ بات کے طور پر پیش نہ کیا جائے۔ اسی لیے پچھلی مثال کے ساتھ موضوع ہونے کی وضاحت موجود تھی۔
11. مطعون بالکذب کی وضاحت
یہاں مطعون بالکذب سے مراد وہ راوی ہے جس کے بارے میں حدیث گھڑنا ثابت ہوچکا ہو۔ ایسے راوی کی روایت توبہ کے بعد بھی مقبول نہیں ہوتی۔ یہ راوی کی روایت قبول کرنے کا حکم ہے۔ اسے توبہ کی قبولیت کا فیصلہ نہ سمجھیں۔ 1. اس مقام پر صرف تہمت نہیں، حدیث گھڑنے کا ثابت ہونا مراد ہے۔
12. خلاصہ
• طعنِ راوی کے دس اسباب ہیں: پانچ عدالت اور پانچ ضبط سے متعلق۔ • جھوٹ، تہمت اور یادداشت کی کمزوری الگ اسباب ہیں۔ • موضوع روایت میں نبی ﷺ کی طرف جھوٹی نسبت ہوتی ہے۔ • اسے بیان کرتے وقت موضوع ہونا واضح کرنا ضروری ہے۔ • جس راوی کا حدیث گھڑنا ثابت ہو، اس کی روایت توبہ کے بعد بھی قبول نہیں کی جاتی۔
مشق کے سوالات
سوال 1
طعنِ راوی کے اسباب کن دو حصوں میں آتے ہیں؟
- عدالت اور ضبط۔
- طویل اور مختصر متن۔
- اردو اور عربی۔
سوال 2
کذب اور تہمتِ کذب کے بارے میں درست بات کیا ہے؟
- دونوں ہر حال میں ایک بات ہیں۔
- یہ الگ عنوانات ہیں۔
- دونوں صرف کمزور یادداشت ہیں۔
سوال 3
سوءِ حفظ کس حصے سے متعلق ہے؟
- راوی کا نام۔
- متن کی لمبائی۔
- ضبط۔
سوال 4
یہاں جہالت سے کیا مراد ہے؟
- راوی یا اس کے حالات کا معلوم نہ ہونا۔
- صرف کم پڑھا لکھا ہونا۔
- ہر حال میں جھوٹ بولنا۔
سوال 5
حدیثِ موضوع کی تعریف کیا ہے؟
- صرف مشکل عربی عبارت۔
- نبی ﷺ کی طرف جھوٹی نسبت۔
- صرف مختصر سند۔
سوال 6
موضوع روایت بیان کرتے وقت کیا ضروری ہے؟
- اسے ثابت شدہ حدیث کہنا۔
- اس کا درجہ چھپانا۔
- اس کا موضوع ہونا واضح کرنا۔
سوال 7
اس مقام پر مطعون بالکذب سے کون مراد ہے؟
- جس کا حدیث گھڑنا ثابت ہو۔
- جس پر صرف غیر ثابت بات کہی گئی ہو۔
- جو کوئی بات بھول جائے۔
سوال 8
ہر ضعیف روایت لازماً موضوع ہوتی ہے۔
تعاملی کوئز کھولیں