ناسخ و منسوخ: پہلے اور بعد کے حکم کی پہچان
پہلے اور بعد کے عمل کی مثال سے ناسخ اور منسوخ کا فرق سمجھیں۔ ناسخ و منسوخ: پہلے اور بعد کے حکم کی پہچان کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اس سبق میں
آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے اور پھر اسے دوبارہ نہ کرنے کی مثال پڑھیں گے۔ اس میں پہلے اور بعد کے عمل کا فرق کیوں اہم ہے؟ اسی مثال سے سمجھیں گے کہ کن شرائط کے ساتھ پہلے حکم کی جگہ بعد کے حکم پر عمل کیا جاتا ہے۔
2. بعد والا عمل
كَانَ آخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْكَ الْوُضُوْءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ. (سنن نسائی: 185) مفہوم: رسول اللہ ﷺ کے دو عملوں میں بعد والا عمل آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد دوبارہ وضو نہ کرنا تھا۔ یہاں «دو عملوں میں بعد والا عمل» کے الفاظ پر توجہ دیں۔ ان سے پہلے اور بعد کا فرق معلوم ہوتا ہے۔
3. مثال کا مطلب
• پہلے عمل میں پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا جاتا تھا۔ • بعد والے عمل میں صرف اس چیز کے کھانے کی وجہ سے دوبارہ وضو نہیں کیا جاتا تھا۔ بات وضو کی ضرورت بالکل ختم ہونے کی نہیں؛ فرق کھانے کے بعد دوبارہ وضو کرنے کے بارے میں ہے۔
4. پہلے یہ شرائط سمجھیں
دو حدیثوں کے مفہوم ایک دوسرے کے خلاف ہوں تو پہلے یہ صورت دیکھی جاتی ہے: • دونوں حدیثیں صحت، یعنی ثابت ہونے کے درجے میں برابر ہوں۔ • تطبیق ممکن نہ ہو: دونوں کا مفہوم اس طرح نہ مل سکے کہ دونوں پر عمل ہو۔ • یہ ثابت ہو کہ ایک حدیث پہلے کی ہے اور دوسری بعد کی۔ صرف مختلف بات نظر آنے سے پہلے حکم کو ختم نہیں سمجھ لیتے۔
5. منسوخ اور ناسخ
یہ شرائط پوری ہوں تو: • منسوخ: پہلے والی حدیث، جس کے حکم کی جگہ بعد والا حکم آجاتا ہے۔ • ناسخ: بعد والی حدیث، جس کے حکم پر اب عمل کیا جاتا ہے۔ مثال میں دوبارہ وضو کرنے والا پہلے کا حکم منسوخ، اور اسے دوبارہ نہ کرنے والا بعد کا حکم ناسخ کی مثال ہے۔ 1. مقدم اور مؤخر: اس بحث میں مقدم کا مطلب پہلے کا، اور مؤخر کا مطلب بعد کا ہے۔
6. عمل کس پر ہوگا؟
• اگر دونوں حدیثوں میں تطبیق ممکن ہو تو دونوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔ • تطبیق ممکن نہ ہو اور پہلے اور بعد کی ترتیب ثابت ہوجائے، تو بیان کردہ شرائط کے ساتھ ناسخ پر عمل کیا جاتا ہے۔ منسوخ کہنے کا مطلب حدیث کو جھوٹا کہنا نہیں؛ یہاں اس کے پہلے حکم پر عمل باقی نہ رہنے کی بات ہے۔
7. صرف اندازہ کافی نہیں
ایک حدیث آپ نے پہلے پڑھی اور دوسری بعد میں؛ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبی ﷺ کا کون سا ارشاد یا عمل پہلے تھا۔ اسی طرح جب دونوں حدیثوں پر عمل کی صورت موجود ہو، تو محض فرق دیکھ کر ایک کو منسوخ نہیں کہتے۔ پہلے اور بعد کی ترتیب معتبر دلیل سے ثابت ہونا ضروری ہے، ذاتی اندازے سے نہیں۔
8. خلاصہ
• دونوں حدیثیں صحت میں برابر ہوں، تطبیق ممکن نہ ہو، اور پہلے اور بعد کی ترتیب ثابت ہو۔ • اس صورت میں پہلے والی حدیث منسوخ اور بعد والی ناسخ کہلاتی ہے؛ عمل ناسخ پر ہوتا ہے۔ • وضو کی مثال میں «دو عملوں میں بعد والا عمل» پہلے اور بعد کا فرق واضح کرتا ہے۔
مشق کے سوالات
سوال 1
دو حدیثیں صحت میں برابر ہیں۔ دونوں پر ایک ساتھ عمل کی صورت نہیں، اور معتبر دلیل سے پہلی کے بعد دوسری کا آنا ثابت ہے۔ کس کے حکم پر عمل ہوگا؟
- پہلی حدیث کے حکم پر، کیونکہ وہ پہلے کی ہے۔
- دوسری حدیث کے حکم پر، کیونکہ وہ بعد کی ہے۔
- کسی ایک کے حکم پر، کیونکہ دونوں برابر ہیں۔
سوال 2
وضو والی مثال میں کون سی بات پہلے اور بعد کے عمل کی ترتیب واضح کرتی ہے؟
- کھانے کا آگ پر پکایا ہوا ہونا۔
- عمل کا وضو سے متعلق ہونا۔
- دو عملوں میں بعد والا عمل بتانا۔
سوال 3
بیان کردہ شرائط پوری ہوں تو دونوں اصطلاحات کو ان کے درست مقام سے ملائیں۔
سوال 4
ایک حدیث پہلے پڑھ لینا اور دوسری بعد میں پڑھنا، ان کے پہلے اور بعد کا ہونا ثابت کردیتا ہے۔
تعاملی کوئز کھولیں