راوی اور رواۃ: حدیث نقل کرنے والے
طالب علم حدیث کو نبی کریم ﷺ کے قول، فعل، تقریر یا حال کی روایت کے طور پر پہچان سکے۔ راوی اور رواۃ: حدیث نقل کرنے والے کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اس سبق میں کیا سیکھیں گے؟
ہم سند اور متن کا فرق پڑھ چکے ہیں۔ اب حدیث نقل کرنے والوں کو پہچانیں گے۔ • حدیث کس شخص نے بیان کی؟ • اس نے یہ حدیث کس سے سنی؟ • اس شخص اور سند کے پورے سلسلے میں کیا فرق ہے؟ مقصد: دی گئی مثال میں بتانا کہ حدیث کس نے کس سے نقل کی۔
2. فرمان اور اسے بیان کرنے والے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (صحیح البخاری: 1) ترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ حضرت عمرؓ نے یہ فرمان نبی کریم ﷺ سے سنا اور آگے بیان کیا۔ • فرمان نبی کریم ﷺ کا ہے۔ • اسے سن کر بیان کرنے والے حضرت عمرؓ ہیں۔
3. راوی کسے کہتے ہیں؟
حدیث نقل کرنے والے شخص کو راوی کہتے ہیں۔ نقل کرنے کا مطلب یہاں حدیث کو آگے بیان کرنا ہے۔ پچھلی مثال میں حضرت عمرؓ راوی ہیں، کیونکہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کا فرمان سن کر بیان کیا۔ راوی حدیث کو نقل کرتا ہے؛ وہ اس فرمان کو اپنی طرف سے نہیں بناتا۔
4. کس نے کس سے سنا؟
اسی حدیث میں علقمہ بن وقاص1 نے حضرت عمرؓ سے سنا اور اسے بیان کیا۔ • حضرت عمرؓ نے نبی کریم ﷺ سے سنا۔ • علقمہ نے حضرت عمرؓ سے سنا۔ علقمہ بھی راوی ہیں۔ اس حدیث کو انہوں نے حضرت عمرؓ سے سنا، براہِ راست نبی کریم ﷺ سے نہیں۔ یہ صحیح البخاری کی اس حدیث کی سند کا ایک حصہ ہے۔ (صحیح البخاری: 1) 1. بن: عربی نام میں «بن» کا مطلب «بیٹا» ہے؛ علقمہ بن وقاص یعنی وقاص کے بیٹے علقمہ۔
5. رواۃ کسے کہتے ہیں؟
رواۃ، راوی کی جمع ہے؛ یعنی حدیث نقل کرنے والے اشخاص۔ ہم نے مثال میں حضرت عمرؓ اور علقمہ کا ذکر پڑھا۔ دونوں اس حدیث کے رواۃ میں شامل ہیں، کیونکہ دونوں نے اسے آگے بیان کیا۔ • ایک شخص کے لیے: راوی۔ • حدیث نقل کرنے والے اشخاص کے لیے: رواۃ۔
6. راوی، سند اور متن
راویوں کا سلسلہ سند کہلاتا ہے۔ اس میں یہ بیان ہوتا ہے کہ حدیث کس نے کس سے نقل کی۔ اسی مثال میں: • راوی: حضرت عمرؓ یا علقمہ جیسے حدیث نقل کرنے والے شخص۔ • سند کا حصہ: علقمہ نے حضرت عمرؓ سے اور حضرت عمرؓ نے نبی کریم ﷺ سے سنا۔ • متن کا حصہ: نیتوں کے بارے میں نبی کریم ﷺ کے وہ الفاظ جو ہم نے پڑھے۔ صرف نام گنوا دینا کافی نہیں؛ یہ بھی سمجھنا ہے کہ کس نے کس سے نقل کیا۔
7. نقل اور اپنی وضاحت میں فرق
حضرت عمرؓ نے نبی کریم ﷺ کا فرمان نقل کیا؛ اس لیے وہ اس حدیث کے راوی ہیں۔ اس کے برعکس، جب کوئی استاد حدیث سمجھانے کے لیے اپنے الفاظ میں وضاحت کرتا ہے تو وہ وضاحت نبی کریم ﷺ کے اصل الفاظ نہیں بن جاتی۔ حدیث کے نقل کیے گئے الفاظ اور سمجھانے والے کی اپنی وضاحت الگ رکھیں۔
8. سبق کا خلاصہ
• راوی: حدیث نقل کرنے والا شخص۔ • رواۃ: راوی کی جمع؛ حدیث نقل کرنے والے اشخاص۔ • سند: ان راویوں کا سلسلہ؛ کس نے کس سے نقل کیا۔ • متن: سند کے بعد آنے والا کلام۔ اب دی گئی مثال میں شخص، نقل کرنے کا سلسلہ اور حدیث کے الفاظ الگ پہچان سکتے ہیں۔
مشق کے سوالات
سوال 1
حضرت عمرؓ نے نبی کریم ﷺ سے نیتوں والا فرمان سنا اور آگے بیان کیا۔ یہاں ان کے لیے «راوی» کیوں کہا جاتا ہے؟
- کیونکہ انہوں نے اس فرمان کا مطلب اپنے الفاظ میں سمجھایا۔
- کیونکہ انہوں نے سنا ہوا فرمان دوسروں تک پہنچایا۔
- کیونکہ نیتوں کے بارے میں یہ فرمان انہی کے اپنے الفاظ ہیں۔
سوال 2
علقمہ نے حضرت عمرؓ سے یہ حدیث سنی اور آگے بیان کی۔ اس سے علقمہ کے بارے میں کون سی بات معلوم ہوتی ہے؟
- وہ راوی ہیں، لیکن اس حدیث کو انہوں نے حضرت عمرؓ سے سنا۔
- وہ راوی ہیں، اس لیے اس حدیث کو انہوں نے براہِ راست نبی کریم ﷺ سے سنا۔
- وہ اس حدیث کے راوی نہیں، کیونکہ انہوں نے اسے حضرت عمرؓ سے سنا۔
سوال 3
ہر بیان کو اس کی مناسب اصطلاح سے ملائیں۔
سوال 4
اگر کسی حدیث کے دو راویوں کے نام معلوم ہوں تو، صرف ان ناموں سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ کس نے کس سے سنا۔
سوال 5
ایک طالب علم نے مثال سے صرف «عمر، علقمہ» لکھ لیا۔ اسے سند کا یہ حصہ سمجھانے کے لیے کون سا اضافہ سب سے ضروری ہے؟
- نیتوں والے فرمان کا آسان اردو ترجمہ بھی لکھنا۔
- دونوں اشخاص کے نام پورے اور واضح طور پر لکھنا۔
- یہ لکھنا کہ علقمہ نے حضرت عمرؓ سے یہ حدیث سنی۔
سوال 6
ایک استاد نیتوں والی حدیث پڑھنے کے بعد اپنی وضاحت بھی کرتا ہے۔ طالب علم حدیث کا متن الگ لکھنا چاہتا ہے۔ وہ کیا کرے؟
- حدیث کے الفاظ کے ساتھ استاد کی اپنی وضاحت بھی متن میں لکھ دے۔
- حدیث کے نقل کیے گئے الفاظ الگ اور استاد کی اپنی وضاحت الگ لکھے۔
- استاد کی اپنی وضاحت کو متن اور حدیث کے الفاظ کو اس کی تشریح لکھے۔
تعاملی کوئز کھولیں