توبہ، اصلاح، دیانت اور ذمہ داری (حدیث 23–30)

توبہ، اصلاح، دیانت اور ذمہ داری (حدیث 23–30) کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. اس سبق میں

آٹھ روایتوں میں توبہ، اپنے عمل کا جائزہ، محبت بھرا برتاؤ، دل کی حفاظت، تجارت کی دیانت، وعدے، امانت اور بڑے گناہوں کی تنبیہ پڑھیں گے۔ کچھ عبارتیں لمبی ہیں؛ پہلے پوری روایت پڑھیں، پھر اس کے حصوں کے معنی سمجھیں۔ مثالوں میں عمل کو پہچاننا سیکھیں گے۔ کسی کا عمل دیکھنا اور اس کے دل کے ایمان کا فیصلہ کرنا الگ باتیں ہیں۔ ہر روایت کی اہم شرط، تقابل یا استثنا بھی معنی کا حصہ ہے؛ استثنا کا مطلب ہے کہ بیان کردہ عمومی بات سے کسی صورت کو الگ کیا گیا ہے۔

2. توبہ کی امید

التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ (رواه ابن ماجة) ترجمہ گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس کا کوئی گناہ نہیں۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی التَّائِبُتوبہ کرنے والا مِنَ الذَّنْبِگناہ سے كَمَنْاس شخص کی مانند جو لَا ذَنْبَ لَهُجس کا کوئی گناہ نہیں توبہ گناہ سے پلٹ کر اللہ سے معافی مانگنا ہے۔ الذَّنْبِ اور ذَنْبَ دونوں یہاں گناہ بتاتے ہیں۔ كَمَنْ میں كَ «کی مانند» اور مَنْ «جو شخص» ہے۔ لَا «نہیں» اور لَهُ «اس کے لیے/اس کا» ہے؛ انہیں ملا کر لَا ذَنْبَ لَهُ کا پورا معنی بنتا ہے۔

3. کس لحاظ سے کوئی گناہ نہیں؟

اس روایت کی وضاحت میں تقابل اس بات کے لحاظ سے ہے کہ توبہ کرنے والے کو اس گناہ پر پکڑ نہ ہو۔ یہ معافی کی امید کا بیان ہے۔ سمجھانے کی مثال: کسی نے غصے میں دوسرے کا کپ توڑ دیا، پھر اپنے گناہ سے توبہ کی۔ معافی کا بیان یہ نہیں کہ کپ خود بخود جڑ گیا یا دوسرے شخص کا نقصان مٹ گیا۔ گناہ پر پکڑ نہ ہونا اور دنیا میں نقصان کا باقی رہنا دو الگ باتیں ہیں۔ ہر حالت میں دوسروں کا حق ادا کرنے کا مکمل طریقہ اس مختصر روایت میں نہیں بتایا گیا۔

4. عمل کے ساتھ اپنی اصلاح

الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ (رواه الترمذي وابن ماجه) ترجمہ عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے؛ اور غافل وہ ہے جو اپنے نفس کو اس کی خواہش کے پیچھے لگائے اور اللہ سے تمنائیں باندھے۔ نفس سے یہاں اپنا آپ مراد ہے۔ روایت میں دو راستوں کا تقابل ہے: اپنے عمل کا جائزہ لے کر اصلاح کرنا، یا خواہش کے پیچھے چلتے رہنا اور عمل کے بغیر معافی کی تمنائیں باندھنا۔ اگلے دو حصوں میں الفاظ الگ سمجھیں گے۔

5. اپنے عمل کا جائزہ

الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ عربی لفظ یا عبارتمعنی الْكَيِّسُعقل مند، سمجھ دار مَنْجو شخص دَانَ نَفْسَهُاپنے آپ کو قابو میں رکھا اور اس کا جائزہ لیا وَعَمِلَاور عمل کیا لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِموت کے بعد کے لیے الْكَيِّسُ میں ک پر زبر اور ی پر تشدید ہے۔ دَانَ یہاں قابو میں رکھنے کا مفہوم دیتا ہے؛ نَفْسَهُ «اس کا اپنا آپ» ہے۔ اس وضاحت میں اپنے اعمال کو دیکھنا اور اللہ کی اطاعت میں لانا بھی شامل ہے۔ وَ «اور» ہے۔ لِمَا میں «اس کے لیے جو»، بَعْدَ میں «بعد»، اور الْمَوْتِ میں «موت» کا معنی ہے۔ پوری عبارت عمل کا رخ موت کے بعد کی زندگی کی طرف بتاتی ہے۔

6. عمل کے بغیر تمنائیں

وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ عربی لفظ یا عبارتمعنی وَالْعَاجِزُاور یہاں عمل سے غفلت کرنے والا أَتْبَعَ نَفْسَهُاپنے آپ کو اپنی خواہش کے پیچھے لگا دیا (خواہش کا معنی اگلے لفظ هَوَاهَا سے ہے) هَوَاهَااس نفس کی خواہش وَتَمَنَّىاور تمنائیں باندھیں عَلَى اللَّهِاللہ سے؛ یہاں اللہ سے امیدیں باندھنے کا تعلق أَتْبَعَ پیچھے لگانے کو بتاتا ہے۔ نَفْسَهُ وہی اپنا آپ ہے، اور هَوَاهَا میں «اس کی» اسی نفس کی طرف لوٹتا ہے۔ پوری بات خواہش کو اپنا رہنما بنا لینے کی ہے۔ یہاں الْعَاجِزُ سے جسمانی معذوری یا بیماری مراد نہیں، بلکہ انجام سے غفلت ہے۔ تنبیہ اس شخص کو ہے جو درست عمل چھوڑ کر معافی کی تمناؤں پر تکیہ کرتا ہے؛ ہر امید یا اصلاح کی کوشش کو برا نہیں کہا گیا۔

7. امید کے ساتھ قدم اٹھائیں

سمجھانے کی مثال: ایک شخص جانتا ہے کہ وہ ساتھی سے سخت لہجے میں بات کرتا ہے۔ وہ اپنا رویہ دیکھتا، معافی مانگتا اور اگلی گفتگو میں لہجہ بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عمل کے ساتھ اصلاح ہے۔ دوسرا جان بوجھ کر وہی رویہ جاری رکھتا ہے اور کہتا ہے: «عمل بدلنے کی ضرورت نہیں، مجھے معافی کی امید ہے۔» اس کی امید کے ساتھ غفلت جڑی ہے۔ جو کوشش کر رہا ہو مگر فوراً کامیاب نہ ہو، اسے محض اس ناکامی سے اسی دوسرے شخص جیسا نہ سمجھیں۔

8. الفت کا تعلق

الْمُؤْمِنُ مَأْلَفٌ وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ (رواه البيهقي) ترجمہ مومن الفت و محبت کا مرکز ہے؛ اور اس میں بھلائی نہیں جو نہ الفت کرتا ہے اور نہ اس سے الفت کی جاتی ہے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی الْمُؤْمِنُمومن، ایمان والا مَأْلَفٌالفت و محبت کا مرکز وَلَا خَيْرَاور بھلائی نہیں الفت یعنی محبت اور دوستانہ قربت۔ مَأْلَفٌ ایسا تعلق بتاتا ہے جس میں محبت پیدا ہو۔ خَيْرَ بھلائی ہے، اور لَا اس کی نفی کرتا ہے: «بھلائی نہیں»۔ اگلے حصے میں دو ملتے جلتے افعال کے الگ معنی دیکھیں۔

9. محبت کرنا اور محبت پانا

فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ عربی لفظ یا عبارتمعنی فِيمَنْاس شخص میں جو لَا يَأْلَفُوہ الفت نہیں کرتا وَلَا يُؤْلَفُاور اس سے الفت نہیں کی جاتی فِيمَنْ میں فِي «میں» اور مَنْ «جو شخص» ہے۔ يَأْلَفُ میں آدمی خود دوسروں سے الفت کرتا ہے؛ يُؤْلَفُ میں دوسروں کی الفت اس کی طرف آتی ہے۔ لَا دونوں جگہ «نہیں» ہے۔ سمجھانے کی مثال: ایک شخص پڑوسی سے نرمی سے بات کرتا ہے؛ پڑوسی بھی اس سے اپنائیت سے ملتا ہے۔ یہ تعلق کے دو رخ ہیں۔ کم دوست ہونا، تنہا بیٹھنا یا شرمیلا ہونا اکیلا اس مذمت کا ثبوت نہیں؛ کسی کو دوسروں نے الگ کر دیا ہو تو اسے اسی بات پر الزام نہیں دیتے۔

10. دل میں نفاق اگنے کی تنبیہ

الْغِنَاءُ يُنْبِتُ النِّفَاقَ فِي الْقَلْبِ كَمَا يُنْبِتُ الْمَاءُ الزَّرْعَ (رواه البيهقي) ترجمہ گانا دل میں نفاق اگاتا ہے، جیسے پانی کھیتی اگاتا ہے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی الْغِنَاءُگانا يُنْبِتُاگاتا ہے، بڑھنے کا سبب بنتا ہے النِّفَاقَنفاق؛ منافقانہ دو رخی فِي الْقَلْبِدل میں یہاں النِّفَاقَ نفاق کا لفظ ہے۔ اس سبق کی آگے آنے والی روایت منافق کی نشانیوں میں جھوٹ، وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت بیان کرتی ہے؛ ہر ظاہری اور اندرونی فرق کو نفاق نہیں کہتے۔ یہ مختصر معنی ہے؛ کسی شخص کے دل کا حال بتانے کا طریقہ نہیں۔ فِي «میں» اور الْقَلْبِ «دل» ہے۔ اگلے حصے میں تقابل کے دونوں طرف ایک ہی فعل پہچانیں۔

11. بڑھنے کا تقابل

كَمَا يُنْبِتُ الْمَاءُ الزَّرْعَ عربی لفظ یا عبارتمعنی كَمَاجیسے، جس طرح الْمَاءُپانی الزَّرْعَکھیتی، فصل يُنْبِتُ دونوں طرف «اگاتا ہے» ہے۔ ایک طرف گانا، دل اور نفاق ہیں؛ دوسری طرف پانی اور کھیتی ہیں۔ تقابل بڑھنے کا ہے۔ سمجھانے کی مثال: طالب علم دونوں حصوں کے نیچے «اگاتا ہے» لکھ کر ان کا تعلق سمجھتا ہے۔ اس سے وہ روایت کی تنبیہ سمجھ سکتا ہے، مگر کسی سننے والے کے دل میں کتنے نفاق کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ یہ کسی کے ایمان کا حتمی فیصلہ یا جسمانی بیماری ناپنے کا بیان نہیں۔ اس سبق میں روایت کے الفاظ اور بڑھنے کے تقابل کو سمجھنا مقصود ہے۔ کسی خاص گانے، آواز یا موقع کی درجہ بندی یہاں نہیں پڑھائی گئی؛ صرف «گانا» کا لفظی معنی پڑھ کر ایسے فیصلے نہیں کیے جا سکتے۔

12. تاجروں کے لیے تنبیہ اور استثنا

التُّجَّارُ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا إِلَّا مَنِ اتَّقَى وَبَرَّ وَصَدَقَ (رواه الترمذي) ترجمہ تاجر قیامت کے دن بدکاروں کی حالت میں جمع کیے جائیں گے، سوائے ان کے جو تقویٰ اختیار کریں، نیکی کریں اور سچ بولیں۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی التُّجَّارُتاجر؛ تجارت کرنے والے لوگ يُحْشَرُونَجمع کیے جائیں گے يَوْمَ الْقِيَامَةِقیامت کے دن فُجَّارًابدکاروں کی حالت میں يُحْشَرُونَ میں تاجروں کو جمع کیا جائے گا؛ وہ دوسروں کو جمع نہیں کر رہے۔ يَوْمَ «دن» اور الْقِيَامَةِ «قیامت» ہے۔ فُجَّارًا برے عمل کرنے والوں کی حالت بتاتا ہے۔ روایت آخر میں کچھ لوگوں کو اس عمومی تنبیہ سے الگ کرتی ہے؛ اگلے حصے میں تینوں خوبیاں پڑھیں۔

13. استثنا کی تین خوبیاں

إِلَّا مَنِ اتَّقَى وَبَرَّ وَصَدَقَ عربی لفظ یا عبارتمعنی إِلَّا مَنِسوائے اس کے جو اتَّقَىاللہ کا لحاظ رکھ کر برائی سے بچا وَبَرَّاور نیکی و راست بازی کی وَصَدَقَاور سچ بولا إِلَّا «سوائے» اور مَنِ «جو شخص» ہے؛ مَنْ اور مَنِ یہاں اسی شخص کی طرف تعلق بتاتے ہیں۔ اس تشریح میں اتَّقَى کے ساتھ دھوکے اور ناپ تول میں کمی سے بچنا، بَرَّ کے ساتھ قسم میں سچائی، اور صَدَقَ کے ساتھ گفتگو میں سچ بولنا بیان ہوا ہے۔ سمجھانے کی مثال: دکاندار وزن پورا دیتا ہے، عیب نہیں چھپاتا، اور مال بیچنے کے لیے جھوٹی قسم نہیں کھاتا۔ یہ صرف ایک بار سچ بولنے سے زیادہ مکمل رویہ ہے۔ استثنا چھوڑ کر ہر تاجر کو بدکار کہنا پوری روایت کا معنی نہیں۔

14. سچا اور امانت دار تاجر

التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ (رواه الترمذي) ترجمہ بہت سچا اور امانت دار تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی التَّاجِرُتاجر؛ ایک تجارت کرنے والا الصَّدُوقُبہت سچا، سچائی پر قائم رہنے والا الْأَمِينُامانت دار، بھروسے کے قابل النَّبِيِّينَنبیوں وَالصِّدِّيقِينَاور سچائی میں نمایاں لوگوں وَالشُّهَدَاءِاور شہیدوں مَعَ وہی «ساتھ» ہے جو پہلے پڑھا ہے۔ تینوں گروہ باقی رکھیں؛ صدیقوں سے مراد سچائی میں نمایاں لوگ ہیں۔ وَالشُّهَدَاءِ کا معنی «اور شہیدوں» ہے؛ یہ نبیوں اور صدیقوں کے بعد تیسرا گروہ ہے۔ وَ «اور» سے گروہوں کو ملاتا ہے۔ «ساتھ» کو «درجہ بالکل برابر» نہ بنائیں۔ صرف تجارت کرنا یا ایک سودا درست کر لینا، مسلسل سچا اور امانت دار ہونے کی پوری بات ثابت نہیں کرتا۔

15. تین رویوں کی تنبیہ

آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ (رواه البخاري) ترجمہ منافق کی تین نشانیاں ہیں: بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور امانت دی جائے تو خیانت کرے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی آيَةُنشانی، علامت الْمُنَافِقِمنافق؛ نفاق والا شخص ثَلَاثٌتین آيَةُ یہاں نشانی ہے، قرآن کی کسی آیت کا نمبر نہیں۔ نفاق کا لفظ پہلے پڑھا ہے؛ اب روایت میں منافق کی یہ تین نشانیاں الگ سمجھیں۔ إِذَا «جب» ہے؛ ہر بار اس کے بعد ایک موقع اور پھر اس پر برا عمل آتا ہے۔ وَ «اور» تین باتوں کو ملاتا ہے۔ اگلے حصے میں ہر جوڑا الگ سمجھیں۔

16. بولنا، وعدہ اور امانت

عربی لفظ یا عبارتمعنی حَدَّثَبات کی كَذَبَجھوٹ بولا وَعَدَوعدہ کیا أَخْلَفَوعدہ توڑا اؤْتُمِنَاسے امانت دی گئی؛ اس پر بھروسہ کیا گیا خَانَامانت میں خیانت کی إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ: بات کرے تو جھوٹ بولے۔ إِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ: وعدہ کرے تو اسے توڑے۔ إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ: امانت دی جائے تو اس میں خیانت کرے۔ اؤْتُمِنَ میں امانت اس شخص کو دی گئی ہے؛ اس نے کسی اور کو امانت دینے کی بات نہیں کی۔ خَانَ یہاں اسی امانت میں بے وفائی ہے۔ شرط کے ساتھ پورا جوڑا پڑھنے سے عمل کا موقع واضح رہتا ہے۔

17. عمل پہچانیں، دل کا فیصلہ نہ کریں

سمجھانے کی مثالیں: کسی نے سچی بات جانتے ہوئے الٹ خبر دی؛ یہ جھوٹ ہے۔ کسی نے کام کرنے کا وعدہ کیا، پھر جان بوجھ کر اس سے پھر گیا؛ یہ وعدہ خلافی ہے۔ کسی کو چابی حفاظت کے لیے دی گئی، مگر اس نے اسے غلط استعمال کیا؛ یہ امانت میں خیانت ہے۔ روایت ان رویوں سے سختی سے خبردار کرتی ہے، اس لیے اپنے عمل کی اصلاح ضروری ہے۔ مگر کسی واقعے کو پہچان لینا یہ نہیں کہ اب اس شخص کے چھپے ایمان کا یقینی علم بھی ہو گیا۔ غلطی، مجبوری اور نیت کی ہر صورت کا فیصلہ اس مختصر بیان میں نہیں دیا گیا۔

18. بڑے گناہوں کی تنبیہ

الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ (رواه البخاري) ترجمہ بڑے گناہ: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی سنگین حق تلفی، ناحق کسی جان کو قتل کرنا، اور ڈبونے والی جھوٹی قسم۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی الْكَبَائِرُبڑے گناہ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِاللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِاور والدین کو اذیت دینا اور ان کی سنگین نافرمانی یہاں چار بڑے گناہ گنوائے گئے ہیں؛ یہ نہیں کہا کہ صرف یہی بڑے گناہ ہیں۔ الْإِشْرَاكُ «شریک ٹھہرانا» اور بِاللَّهِ «اللہ کے ساتھ» کا تعلق ہے۔ عُقُوقُ اذیت اور نافرمانی کا لفظ ہے، اور الْوَالِدَيْنِ دونوں والدین ہیں۔ اس تشریح میں والدین کو اذیت دینا اور ایسی بات میں ان کی نافرمانی شامل ہے جس میں دین کی طرف سے کوئی ممانعت نہ ہو۔ اس لیے ہر نقصان دہ بات مان لینا یا ہر اختلاف کو عُقُوق کہنا اس وضاحت کا صحیح مطلب نہیں۔ سمجھانے کی مثال: والد یا والدہ کو جان بوجھ کر گالی دینا اور ذلیل کرنا اذیت اور بے ادبی ہے۔ کسی معاملے پر احترام سے الگ رائے بیان کرنا اس توہین جیسا رویہ نہیں۔ اطاعت کی اوپر بیان کردہ دینی قید بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔

19. جان اور جھوٹی قسم

عربی لفظ یا عبارتمعنی وَقَتْلُ النَّفْسِاور کسی جان کو قتل کرنا؛ یہاں ناحق قتل وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُاور ڈبونے والی جھوٹی قسم قَتْلُ «قتل کرنا» اور النَّفْسِ یہاں «جان» ہے؛ یہ نَفْسَهُ کے «اپنا آپ» والے استعمال سے الگ تعلق ہے۔ الْيَمِينُ یہاں «قسم» ہے، اور الْغَمُوسُ «ڈبونے والی»۔ تشریح بتاتی ہے کہ یہ جھوٹی قسم اپنے کہنے والے کو گناہ میں، پھر آگ میں ڈبوتی ہے۔ یہ گناہ کی سنگینی کی تنبیہ ہے۔ سمجھانے کی مثال: کوئی اپنی غلطی چھپانے کے لیے جانتے ہوئے جھوٹی قسم کھاتا ہے، چاہے اس نے کسی کا مال نہ لیا ہو۔ جھوٹی قسم کو صرف مال ہڑپ کرنے تک محدود نہ کریں۔ جان بوجھ کر جھوٹ اور بے ارادہ زبان پھسلنا ایک ہی بات نہیں؛ قسموں کی ہر صورت کے تفصیلی احکام یہاں نہیں پڑھائے گئے۔

20. دہرائی

توبہ کی روایت میں گناہ پر پکڑ نہ ہونے کا تقابل ہے؛ ہر ظاہری نقصان خود بخود مٹنے کا نہیں۔ الْكَيِّسُ اپنے آپ کا جائزہ لے کر عمل کرتا ہے۔ يَأْلَفُ محبت کرنے اور يُؤْلَفُ محبت پانے کو بتاتا ہے۔ دل کی تنبیہ کسی خاص دل کا حتمی فیصلہ نہیں۔ تجارت کی تنبیہ کے ساتھ تین خوبیوں کا استثنا پڑھیں۔ سچے امانت دار تاجر کے ساتھ نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کا ذکر ہے؛ ساتھ ہونا برابر درجہ نہیں۔ تین نشانیاں بولنے، وعدے اور امانت کے ساتھ جوڑیں۔ بڑے گناہوں میں والدین کے حق اور جھوٹی قسم کی وضاحت بھی یاد رکھیں۔ اپنے الفاظ میں ایک مثال اور اس سے ملتی مگر مختلف صورت بتائیں۔

مشق کے سوالات

سوال 1: اپنی سمجھ جانچیں

کوئی توبہ کے بعد کہتا ہے: «دوسرے کا نقصان ابھی باقی ہے، اس لیے گناہ پر پکڑ نہ ہونے کا تقابل بے معنی ہے۔» کون سا فرق اس الجھن کو دور کرتا ہے؟

  • معافی تبھی معنی رکھتی ہے جب ہر ظاہری نشان مٹ جائے
  • گناہ پر پکڑ اور دنیا میں نقصان کا باقی رہنا الگ ہیں
  • گناہ پر پکڑ نہ ہونے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کا حق خود بخود ختم ہو گیا

سوال 2: اپنی سمجھ جانچیں

ایک شخص اپنی روزانہ کی غلط رپورٹیں دیکھتا، اصل اندراج درست کرتا اور اگلی رپورٹ سچی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ دَانَ نَفْسَهُ سے اس کا کیا تعلق ہے؟

  • وہ صرف اپنا دل خوش رکھنے کی خواہش کر رہا ہے
  • وہ اپنا معاملہ دوسروں کے اختیار میں دے رہا ہے
  • وہ اپنے عمل کو جانچ کر خود کو قابو میں لا رہا ہے

سوال 3: اپنی سمجھ جانچیں

بیماری کے باوجود ایک شخص اپنی استطاعت کے مطابق اچھے عمل کی کوشش کرتا ہے۔ الْعَاجِزُ کی مذمت کو صرف اس کی بیماری پر لگانا کیسا ہے؟

  • یہاں مذمت عمل سے غفلت کی ہے، بیماری اکیلی اس کا ثبوت نہیں
  • لفظ ہر قسم کی جسمانی کمزوری کو ایک ہی طرح شامل کرتا ہے
  • کوشش پوری کامیاب نہ ہو تو اسے صرف تمنا شمار کریں

سوال 4: اپنی سمجھ جانچیں

زید نئے ساتھی سے اپنائیت سے ملتا ہے۔ اس جملے میں زید خود الفت کرنے والا ہے۔ کون سا عربی لفظ اس سمت کو بتاتا ہے؟

  • يُؤْلَفُ
  • مَأْلَفٌ
  • يَأْلَفُ

سوال 5: اپنی سمجھ جانچیں

کسی نئے شہر میں آئے شخص کے ابھی دوست نہیں بنے۔ الفت والی روایت کے مطابق اس اطلاع سے کیا معلوم ہوتا ہے؟

  • دوست نہ ہونا اس کے برے اخلاق کا کافی ثبوت ہے
  • صرف اس اطلاع سے اس کا دوستانہ رویہ معلوم نہیں ہوتا
  • دوست زیادہ ہوں تو اچھا کردار لازماً ثابت ہو جاتا ہے

سوال 6: اپنی سمجھ جانچیں

پانی اور کھیتی والا حصہ دل کی تنبیہ کے ساتھ کس لفظ کے ذریعے ایک جیسے تعلق میں آیا ہے؟

  • يُنْبِتُ
  • الْقَلْبِ
  • الْمَاءُ

سوال 7: اپنی سمجھ جانچیں

آن لائن فروخت میں چیز کی حالت بتانا، مقدار پوری دینا اور قسم سچی رکھنا، استثنا کی پڑھی ہوئی تشریح سے کیسے جڑتے ہیں؟

  • صرف بیان سچا ہو؛ مقدار اور قسم الگ غیر متعلق باتیں ہیں
  • دھوکے سے بچنا، قسم میں راست بازی اور بات میں سچائی ساتھ ہیں
  • مقدار پوری ہو تو عیب چھپانے اور قسم کا فرق باقی نہیں رہتا

سوال 8: اپنی سمجھ جانچیں

التُّجَّارُ يُحْشَرُونَ میں جمع کرنے کے عمل کی سمت کیا ہے؟

  • تاجر دوسروں کو جمع کریں گے
  • تاجر خود اپنے آپ کو جمع کرنے والے ہیں
  • تاجروں کو جمع کیا جائے گا

سوال 9: اپنی سمجھ جانچیں

سچے امانت دار تاجر کے متعلق مَعَ کو «سب کا درجہ برابر ہوگا» ترجمہ کیا گیا۔ کون سا جواب درست ہے؟

  • مَعَ ساتھ ہونے کو بتاتا ہے؛ برابر درجہ اس لفظ کا معنی نہیں
  • مَعَ کے ساتھ گروہ آئیں تو ہمیشہ برابر درجہ ہوتا ہے
  • مَعَ سے سب کا اجر لازماً ایک جیسا ثابت ہوتا ہے

سوال 10: مکمل عبارت ترتیب دیں

سچے امانت دار تاجر اور تین گروہوں والی پوری عربی عبارت ترتیب دیں۔

سوال 11: صورت اور عبارت

ہر نئی صورت کو روایت کے متعلقہ حصے سے ملائیں۔

سوال 12: اپنی سمجھ جانچیں

کسی کی ایک معلوم جھوٹی بات پہچان لی گئی۔ تین نشانیوں والی روایت سے کون سا نتیجہ اس سبق کی حد میں ہے؟

  • اس کے دل کا ہر حال اب یقینی معلوم ہو گیا
  • یہ جھوٹ مذموم ہے؛ چھپے ایمان کا حتمی فیصلہ الگ ہے
  • دل معلوم نہیں، اس لیے جھوٹ کی مذمت بھی نہیں ہو سکتی

سوال 13: اپنی سمجھ جانچیں

والدین ایسی بات کہنے کو کہتے ہیں جسے اولاد جھوٹ جانتی ہے۔ والدین کی اطاعت کی پڑھی ہوئی وضاحت میں کون سی بات اہم ہے؟

  • ہر مطالبہ ماننا ہے، چاہے جھوٹ معلوم ہو
  • اختلاف ہو تو والدین کی عزت کی ضرورت ختم ہے
  • اطاعت کی بات دین میں ممانعت نہ ہونے کی قید کے ساتھ ہے

سوال 14: اپنی سمجھ جانچیں

ایک شخص جانتے ہوئے جھوٹی قسم کھاتا ہے کہ اس نے فائل نہیں بدلی، حالانکہ بدلی تھی؛ کسی کا مال نہیں لیا۔ جھوٹی قسم کے پڑھے ہوئے معنی کے مطابق کیا بات درست ہے؟

  • مال نہ لینا اسے جھوٹی قسم کے معنی سے خارج نہیں کرتا
  • مال نہ لیا ہو تو قسم لازماً صرف زبان پھسلنا ہے
  • جھوٹی قسم صرف خرید و فروخت کے معاملے میں ہوتی ہے

سوال 15: اپنی سمجھ جانچیں

دَانَ نَفْسَهُ میں نَفْسَهُ اور قَتْلُ النَّفْسِ میں النَّفْسِ کے معنی اپنے اپنے سیاق میں کیا ہیں؟

  • دونوں جگہ صرف اپنی خواہش مراد ہے
  • پہلی جگہ کسی شخص کی جان، دوسری جگہ اپنی خواہش ہے
  • پہلی جگہ اپنا آپ، دوسری جگہ کسی شخص کی جان ہے

تعاملی کوئز کھولیں