صحیح لذاتہ: راوی کی دو صفات
عادل اور تام الضبط کا مطلب سمجھیں اور دونوں صفات میں فرق پہچانیں۔ صحیح لذاتہ: راوی کی دو صفات کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. تعارف
صحیح لذاتہ مقبول حدیث کی ایک قسم ہے۔ مقبول یعنی قبول کی جانے والی حدیث۔ اس کی پانچ شرطیں ہیں۔ یہاں راوی کی دو صفات سمجھیں گے: • راوی معتبر ہو۔ • حدیث کو سند سمیت خوب اچھی طرح محفوظ رکھتا ہو۔ راوی اس شخص کو کہتے ہیں جو حدیث نقل کرے۔
2. حدیث کو اچھی طرح محفوظ رکھنا
حدیث نقل کرنے میں اس کے الفاظ کے ساتھ یہ بھی محفوظ رکھا جاتا ہے کہ وہ کن راویوں کے ذریعے پہنچی ہے۔ یہی راویوں کا سلسلہ سند ہے۔ راوی حدیث کو سند سمیت: • خوب اچھی طرح یاد رکھتا ہو؛ یا • خوب اچھی طرح لکھ لیتا ہو۔ ایسے راوی کو تام الضبط کہتے ہیں۔ یہاں صرف یادداشت نہیں، اچھی طرح لکھ کر محفوظ رکھنا بھی بیان ہوا ہے۔
3. عادل راوی
حدیث محفوظ رکھنے کی صلاحیت کے ساتھ راوی کا معتبر ہونا بھی ضروری ہے۔ عادل راوی سے یہاں ثقہ اور معتبر راوی مراد ہے، یعنی ایسا راوی جس کی روایت پر اعتماد کیا جائے۔ عادل کا تعلق راوی کے معتبر ہونے سے ہے؛ تام الضبط کا تعلق حدیث کو اچھی طرح محفوظ رکھنے سے۔
4. دونوں صفات الگ ہیں
حدیث کو بہت اچھی طرح یاد رکھنا ایک صفت ہے، اور روایت میں معتبر ہونا دوسری صفت۔ صرف اچھی یادداشت کا ذکر ہو تو اس سے راوی کے معتبر ہونے کی بات بھی خود بخود ثابت نہیں ہوجاتی۔ اسی طرح معتبر ہونے کا ذکر، حدیث کو خوب اچھی طرح محفوظ رکھنے کی الگ شرط کی جگہ نہیں لیتا۔ دونوں باتوں کو الگ سمجھیں۔
5. تمام راویوں میں یہ صفات
صحیح لذاتہ کی ان دو شرطوں میں تمام راوی مراد ہیں: • تمام راوی عادل ہوں۔ • تمام راوی تام الضبط ہوں۔ صرف ایک راوی میں یہ صفات ہونا کافی نہیں؛ سند کے ہر راوی کے لیے یہ شرطیں ہیں۔1 1. سند: ان راویوں کا سلسلہ جن کے ذریعے حدیث پہنچی۔
6. خلاصہ
• عادل: ثقہ اور معتبر راوی۔ • تام الضبط: حدیث کو سند سمیت خوب اچھی طرح یاد رکھنے یا لکھ لینے والا راوی۔ • یہ دونوں صفات تمام راویوں میں مطلوب ہیں۔ صحیح لذاتہ کی پانچ میں سے دو شرطیں یہاں سمجھی ہیں۔ صرف ان دو شرطوں کی بنا پر کسی حدیث کو صحیح لذاتہ نہیں کہیں گے؛ باقی تین شرطیں بھی ضروری ہیں۔
مشق کے سوالات
سوال 1
حدیث کو سند سمیت بہت احتیاط سے لکھ کر محفوظ رکھنے کی بات کس صفت کی وضاحت ہے؟
- عادل ہونے کی۔
- تام الضبط ہونے کی۔
- دونوں صفات ثابت ہونے کی۔
سوال 2
صحیح لذاتہ کی ان دو شرطوں کے لیے سند میں صرف ایک راوی کا عادل اور تام الضبط ہونا کافی ہے۔
سوال 3
ہر بات کو متعلقہ صفت سے ملائیں۔
سوال 4
تمام راویوں میں یہ دو صفات موجود ہوں تو صحیح لذاتہ کے بارے میں کون سی بات درست ہے؟
- باقی تین شرطوں کا پورا ہونا بھی ضروری ہے۔
- دو شرطیں پوری ہوں تو باقی ضروری نہیں رہتیں۔
- اچھی یادداشت ہو تو صرف ایک صفت کافی ہے۔
تعاملی کوئز کھولیں