سفر، ادائیگی، خدمت اور کفایت (حدیث 37–43) کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔
سبق
1. اس سبق میں
سات روایتوں میں سفر کی مشقت، واپسی، قرض کی ادائیگی، خدمت، محبت میں عیب پہچاننے، علم حاصل کرنے اور کافی ہونے والی چیز کا تقابل پڑھیں گے۔ پہلے پوری عبارت، پھر اس کے الفاظ اور مثال سمجھیں۔ کسی شرط کو چھوڑ دینے سے معنی بدل جاتا ہے: سفر کا مقصد پورا ہونا، قرض ادا کرنے کی استطاعت، اور تھوڑے کا کافی ہونا اہم ہیں۔ مثالیں ان تعلقات کو سمجھانے کے لیے ہیں؛ ہر صورت کا نیا حکم یا کسی شخص کا آخری درجہ مقرر کرنے کے لیے نہیں۔
2. سفر کی مشقت اور واپسی
السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ، وَطَعَامَهُ، وَشَرَابَهُ. فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ، فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ (رواه البخاري ومسلم) ترجمہ سفر مشقت کا ایک حصہ ہے؛ وہ تم میں سے کسی کی نیند، کھانے اور پینے میں خلل ڈالتا ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی اپنے سفر کی ضرورت پوری کر لے تو اپنے گھر والوں کی طرف جلد لوٹے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی السَّفَرُسفر قِطْعَةٌایک حصہ مِنَ الْعَذَابِمشقت کا؛ یہاں تکلیف و دشواری میں سے الْعَذَابِ یہاں سفر کی تکلیف اور دشواری سمجھاتا ہے؛ یہ ہر سفر کو گناہ یا اللہ کی سزا قرار دینا نہیں۔ مِنَ یہاں «میں سے/کا» تعلق ہے؛ پہلے پڑھا ہوا مَنْ «جو شخص» الگ معنی رکھتا ہے۔ اگلے حصوں میں تین ضروریات اور واپسی کی شرط سمجھیں۔
3. نیند، کھانا اور پینا
يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ، وَطَعَامَهُ، وَشَرَابَهُ عربی لفظ یا عبارتمعنی يَمْنَعُروکتا ہے، خلل ڈالتا ہے أَحَدَكُمْتم میں سے کسی ایک کو نَوْمَهُاس کی نیند وَطَعَامَهُاور اس کا کھانا وَشَرَابَهُاور اس کا پینا يَمْنَعُ کا تعلق سفر سے ہے: سفر ان ضروریات میں خلل ڈالتا ہے، اور متاثر ہونے والا تم میں سے کوئی مسافر ہے۔ أَحَدَكُمْ اور آگے أَحَدُكُمْ دونوں «تم میں سے ایک» ہیں۔ نَوْمَهُ میں نَوْمَ نیند، طَعَامَهُ میں طَعَامَ کھانا، اور شَرَابَهُ میں شَرَابَ پینا ہے۔ آخر کا «اس کا» ہر بار اسی مسافر کی طرف ہے؛ وَ «اور» ہے۔ تینوں کو الگ یاد رکھیں، صرف نیند کا ذکر پوری بات نہیں۔
4. مقصد پورا ہو تو واپسی
فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ، فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ عربی لفظ یا عبارتمعنی قَضَىپورا کر لیا نَهْمَتَهُاپنی ضرورت، اپنے سفر کا مقصد مِنْ وَجْهِهِاس سمت کے سفر کا؛ یہاں جس مقصد کے لیے گیا فَلْيُعَجِّلْپس جلد لوٹے، جلدی کرے إِلَى أَهْلِهِاپنے گھر والوں کی طرف فَ «پس» اور إِذَا «جب» ہے۔ قَضَى یہاں ضرورت پوری کرنے کا فعل ہے، مقدمے کا فیصلہ کرنے کا نہیں۔ نَهْمَتَهُ میں ضرورت اور آخر میں «اس کی» ہے۔ مِنْ «سے» ہے، اور وَجْهِهِ یہاں سفر کی سمت یا منزل ہے، چہرہ نہیں۔ پوری بات اس ضرورت کی ہے جس کے لیے وہ گیا تھا۔ إِلَى «کی طرف» اور أَهْلِهِ «اس کے گھر والے» ہے۔ جب مقصد پورا ہو، تب جلد واپسی کی ترغیب ہے۔ عبارت میں «جلد» سے خطرناک انداز میں سفر کرنے کی ہدایت نہیں ملتی۔
5. شرط کو مثال سے سمجھیں
سمجھانے کی مثال: کسی کو ضروری کام کے لیے دوسرے شہر جانا پڑا۔ کام مکمل ہوا تو وہ واپسی کا انتظام کرتا ہے۔ یہ مکمل ضرورت کے بعد گھر والوں کی طرف لوٹنے کی مثال ہے۔ اگر ضروری کام ابھی باقی ہے تو صرف یہ کہنا کہ «سفر مشکل ہے» کام پورا ہونے کے برابر نہیں۔ سفر کی مشقت اور مقصد کی تکمیل دو الگ باتیں ہیں۔ اس مختصر بیان سے ہر اضافی دن، ہر سفر یا گھر والوں کے احساس کے بارے میں اپنی طرف سے حکم نہیں نکالتے۔
6. واپسی کا تقابل
قَفْلَةٌ كَغَزْوَةٍ (أبو داود) ترجمہ واپسی ایک غزوے کی مانند ہے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی قَفْلَةٌایک واپسی؛ یہاں مہم سے واپسی كَغَزْوَةٍایک غزوے کی مانند قَفْلَةٌ کا لفظ واپسی بتاتا ہے۔ كَغَزْوَةٍ میں كَ «کی مانند» اور غَزْوَةٍ ایک غزوہ، یعنی اس تاریخی جنگی مہم کا لفظ ہے۔ اس روایت کی تشریح میں اسی مہم میں جانے اور اس سے گھر والوں کی طرف لوٹنے کا تقابل آیا ہے۔ ہر عام واپسی کو غزوہ نہیں کہتے۔
7. جانے اور لوٹنے کے اجر کا تعلق
تشریح میں مہم میں شریک شخص کے گھر والوں کی طرف لوٹنے کے اجر کو اس مہم کے لیے روانہ ہونے کے اجر سے ملایا گیا ہے۔ دونوں سروں کو یاد رکھیں: مہم کے لیے جانا، اور وہاں سے گھر لوٹنا۔ سمجھانے کی مثال: ایک طالب علم صرف «واپسی» سن کر اسے روزانہ بازار سے آنے پر بھی لگا دیتا ہے۔ اس نے تشریح کا خاص مہم والا تعلق چھوڑ دیا۔ یہاں اجر کا عددی حساب، کسی خاص فرد کے اجر کا فیصلہ یا موجودہ جنگوں کی درجہ بندی نہیں دی گئی۔
8. ادائیگی کی استطاعت اور تاخیر
مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ (رواه الشيخان) ترجمہ ادائیگی کی استطاعت رکھنے والے کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی مَطْلُادائیگی میں ٹال مٹول الْغَنِيِّیہاں ادائیگی کی استطاعت رکھنے والا مقروض ظُلْمٌظلم، حق مارنا مقروض وہ ہے جس نے قرض لیا اور واپس کرنا ہے؛ قرض خواہ وہ ہے جسے قرض واپس ملنا ہے۔ اس وضاحت میں ادائیگی کر سکنے والے مقروض کی ٹال مٹول قرض خواہ کے حق میں ظلم ہے۔ الْغَنِيِّ کو صرف کسی مشہور مالدار کا نام نہیں سمجھتے؛ یہاں ادا کرنے کی استطاعت ضروری ہے۔
9. کس کی تاخیر بیان ہوئی؟
سمجھانے کی مثال: قرض واپس کرنے والے کے پاس ادائیگی کے لیے رقم ہے، مگر وہ جان بوجھ کر لینے والے کو بار بار ٹالتا ہے۔ یہاں استطاعت بھی معلوم ہے اور ٹال مٹول بھی۔ اگر صرف اتنا معلوم ہو کہ ادائیگی دیر سے ہوئی ہے، تو اس اطلاع سے ادا کرنے کی استطاعت ثابت نہیں ہوتی۔ کسی کی تنگ دستی کو اکیلا اس روایت والا ظلم نہیں کہتے۔ یہ مثال کردار اور شرط سمجھاتی ہے؛ سزا یا قرض کے ہر مقدمے کا فیصلہ نہیں دیتی۔
10. سفر میں خدمت
سَيِّدُ الْقَوْمِ فِي السَّفَرِ خَادِمُهُمْ (البيهقي) ترجمہ سفر میں گروہ کا رہنما ان کی خدمت کرنے والا ہے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی سَيِّدُسردار، رہنما الْقَوْمِگروہ، ساتھ کے لوگ فِي السَّفَرِسفر میں خَادِمُهُمْان کی خدمت کرنے والا فِي «میں» اور السَّفَرِ وہی سفر ہے۔ خَادِمُهُمْ میں خدمت کرنے والا اور آخر کا «ان کا» ہے؛ اس سے اسی گروہ کے لوگ مراد ہیں۔ خدمت یہاں ضروری نہیں کہ ملازمت کا عہدہ ہو۔ اگلی وضاحت اس بیان کے دو معنی الگ کرتی ہے۔
11. خدمت کی دو وضاحتیں
ایک وضاحت یہ ہے کہ گروہ کے رہنما کو ساتھیوں کی ضرورتوں اور مفاد کا خیال رکھنا چاہیے۔ دوسری یہ ہے کہ جو ان کی خدمت کرتا ہے، وہ خدمت کے اس پہلو سے ان کا سردار ہے، چاہے دوسرے لحاظ سے اس کا مقام کم ہو۔ یہ دوسرے معنی کی بات بعض امور کے لحاظ سے ہے، ہر لحاظ سے نہیں۔ سمجھانے کی مثال: سفر میں ایک کم عمر ساتھی دوسروں کے سامان کا انتظام کرتا ہے۔ اس خدمت کی قدر ہے، مگر اس ایک عمل سے وہ خود بخود سب کا مقرر رہنما نہیں بن گیا۔ ہر اضافی خدمت کے بدلے سرداری کا عددی درجہ مقرر نہیں کیا گیا۔
12. محبت میں عیب پہچاننا
حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمِي وَيُصِمُّ (رواه أبو داود) ترجمہ تمہارا کسی چیز سے محبت کرنا تمہیں اندھا اور بہرا کر دیتا ہے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی حُبُّكَتمہاری محبت، تمہارا لگاؤ الشَّيْءَکسی چیز کو؛ یہاں محبت کا تعلق اس چیز سے يُعْمِياندھا کرتا ہے؛ یہاں عیب دیکھنے سے وَيُصِمُّاور بہرا کرتا ہے؛ یہاں عیب کی بات سننے سے حُبُّكَ میں حُبُّ محبت اور آخر کا كَ «تمہاری» ہے؛ بات یہ نہیں کہ وہ چیز تم سے محبت کرتی ہے۔ وَ «اور» ہے۔ تشریح میں پسندیدہ چیز کے عیب نہ دیکھنا اور اس کی خرابی کی بات نہ سننا مراد ہے۔ یہ جسمانی بینائی یا سماعت ختم ہونے کا دعویٰ نہیں۔
13. پسند کے ساتھ درست بات سننا
سمجھانے کی مثال: کسی کو اپنی پسندیدہ کتاب اچھی لگتی ہے۔ ایک واضح غلطی دکھائی جائے تو وہ اسے دیکھ کر درست بات مان لیتا ہے۔ دوسرے شخص کو اسی کتاب سے لگاؤ ہے، مگر وہ ثبوت دیکھنے یا بات سننے سے انکار کرتا ہے۔ عیب سے آنکھ بند کرنا دوسرے رویے میں ہے۔ تنبیہ کا مطلب ہر محبت کو گناہ کہنا نہیں۔ پسند برقرار رکھتے ہوئے حقیقی غلطی ماننا ممکن ہے۔ اندھا اور بہرا کرنے کے الفاظ یہاں عیب سے غفلت کی تصویر ہیں؛ جسمانی معذوری والے لوگوں کے کردار کا فیصلہ نہیں۔
14. علم حاصل کرنے کی ذمہ داری
طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ (البيهقي وابن ماجة) ترجمہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی طَلَبُ الْعِلْمِعلم حاصل کرنے کی کوشش فَرِيضَةٌفرض، لازمی ذمہ داری عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍہر مسلمان پر طَلَبُ حاصل کرنے کی کوشش اور الْعِلْمِ علم ہے۔ عَلَى «پر»، كُلِّ «ہر» اور مُسْلِمٍ «مسلمان» ہے؛ پوری عبارت ذمہ داری کا تعلق بتاتی ہے۔ فَرِيضَةٌ صرف فائدہ مند مشغلہ نہیں، ذمہ داری کا لفظ ہے۔ روایت فرضیت بیان کرتی ہے؛ ہر شخص کے لیے علم کی تمام شاخوں کی تفصیلی فہرست یہاں نہیں دی گئی۔
15. سیکھنے کے لیے اگلا قدم
سمجھانے کی مثال: کسی کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا طریقہ معلوم نہیں۔ وہ سوال واضح کر کے قابلِ اعتماد اہلِ علم سے سیکھتا ہے، تاکہ سمجھ کر عمل کرے۔ یہ علم حاصل کرنے کی کوشش کی ایک مثال ہے۔ اگر یہ واضح نہ ہو کہ اپنے حالات میں کیا سیکھنا ضروری ہے تو خود سے پوری فہرست بنا لینے یا ذمہ داری چھوڑ دینے کے بجائے معتبر رہنمائی حاصل کریں۔ یہ مختصر روایت نہ ہر اعلیٰ تخصص کو ہر فرد پر لازم کرتی ہے، نہ علم کی فرضیت کو محض پسند کا معاملہ بناتی ہے۔
16. کم مگر کافی، زیادہ مگر غافل کرنے والا
مَا قَلَّ وَكَفَى، خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى (رواه أبو نعيم) ترجمہ جو تھوڑا ہو اور کافی ہو، وہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور اللہ کی یاد سے غافل کرے۔ عربی لفظ یا عبارتمعنی قَلَّتھوڑا ہوا وَكَفَىاور کافی ہوا خَيْرٌبہتر كَثُرَزیادہ ہوا وَأَلْهَىاور اللہ کی یاد سے غافل کیا مَا «وہ چیز جو» ہے؛ یہاں دنیا کی چیز یا رزق کا ذکر ہے۔ وَ دونوں طرف «اور» ہے: تھوڑا اور کافی؛ زیادہ اور غافل کرنے والا۔ مِمَّا یہاں «اس سے جو» کا تقابل دیتا ہے، مَنْ «جو شخص» نہیں۔ كَفَى کافی ہونے اور أَلْهَى غافل کرنے کا فعل ہے۔ تشریح میں غفلت خاص طور پر اللہ کی یاد سے ہے۔
17. دونوں شرطیں ساتھ رکھیں
سمجھانے کی مثال: کسی کے پاس ضرورت پوری کرنے کے لیے مناسب سامان ہے اور وہ اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔ دوسرے کے پاس زیادہ ہے، مگر اسی میں ایسا الجھتا ہے کہ اللہ کی یاد سے غفلت ہوتی ہے۔ اس تقابل میں صرف مقدار نہیں، کافی ہونا اور غافل کرنا بھی اہم ہیں۔ اگر تھوڑی چیز ضرورت پوری ہی نہ کرے تو صرف کم ہونے کو فضیلت نہیں کہتے۔ اگر زیادہ چیز کے ساتھ بیان کردہ غفلت نہ ہو تو صرف زیادتی کو اسی مثال کا برا رخ نہیں بنا دیتے۔ یہاں کسی کے لیے رقم کی حد یا ہر خوش حالی کی مذمت مقرر نہیں کی گئی۔
18. دہرائی
سفر میں نیند، کھانا اور پینا متاثر ہوتے ہیں؛ مقصد پورا ہونے کے بعد واپسی کا تعلق یاد رکھیں۔ قَفْلَةٌ کی مہم والی تشریح کو ہر واپسی پر نہ لگائیں۔ قرض کی تنبیہ میں ادائیگی کی استطاعت، اور خدمت کی تشریح میں اس کا خاص پہلو اہم ہے۔ محبت کے باوجود عیب کی درست بات سنی جا سکتی ہے۔ علم حاصل کرنا ذمہ داری ہے؛ اپنی ضرورت کے لیے معتبر رہنمائی لیں۔ آخری تقابل میں تھوڑے کے ساتھ کافی ہونا، اور زیادہ کے ساتھ اللہ کی یاد سے غفلت دونوں باقی رکھیں۔ ہر روایت کا معنی اپنے الفاظ میں کہیں، پھر ایک نئی مثال اور قریب کی مختلف صورت بتائیں۔
مشق کے سوالات
سوال 1: ضرورت اور لفظ
ہر صورت کو سفر والی روایت کے متعلقہ لفظ سے ملائیں۔
سوال 2: اپنی سمجھ آزمائیں
کسی کا کام منزل پر مکمل ہو گیا، مگر وہ کہتا ہے: «جب تک سفر کی ہر تکلیف ختم نہ ہو، واپسی والی شرط پوری نہیں۔» روایت میں شرط کیا ہے؟
- سفر کا مقصد پورا ہو جانا
- سفر کی ہر تکلیف ختم ہو جانا
- صرف گھر لوٹنے کا ارادہ کر لینا
سوال 3: اپنی سمجھ آزمائیں
مِنَ الْعَذَابِ کو سفر کے اس بیان میں کس معنی سے جوڑیں گے؟
- ہر مسافر کے گناہ کا یقینی فیصلہ
- سفر میں نیند، کھانا اور پینا جان بوجھ کر روکنے کی ہدایت
- سفر کی مشقت اور ضروریات میں خلل
سوال 4: اپنی سمجھ آزمائیں
قَفْلَةٌ كَغَزْوَةٍ کی تشریح میں اجر کا تقابل کن دو سروں کے درمیان ہے؟
- ہر عام سفر پر جانا اور اس سے واپس آنا
- مہم سے لوٹنا اور گھر میں معمول کا آرام کرنا
- مہم کے لیے روانہ ہونا اور اس سے گھر والوں کی طرف لوٹنا
سوال 5: اپنی سمجھ آزمائیں
صرف اطلاع ملی ہے کہ قرض دیر سے واپس ہوا۔ مَطْلُ الْغَنِيِّ کی خاص مثال سمجھنے کے لیے کون سی بات مزید اہم ہے؟
- اس کی آمدن دوسروں سے زیادہ تھی یا نہیں
- اس کے پاس ادائیگی کی استطاعت تھی یا نہیں
- قرض خواہ کو اپنی رقم کتنی جلدی چاہیے تھی
سوال 6: اپنی سمجھ آزمائیں
زید نے حامد سے رقم ادھار لی، اب حامد اپنی رقم واپس مانگتا ہے۔ اس مثال میں مقروض اور قرض خواہ کون ہیں؟
- زید مقروض، حامد قرض خواہ
- حامد مقروض، زید قرض خواہ
- دونوں صرف مطالبہ کرنے سے مقروض ہیں
سوال 7: اپنی سمجھ آزمائیں
سفر میں ایک غیر مقرر ساتھی سب کے لیے ضروری نشستوں کا انتظام کر دیتا ہے۔ خدمت والی روایت کی دونوں وضاحتوں کے ساتھ کون سی بات درست ہے؟
- خدمت خود بخود باقاعدہ قیادت دے دیتی ہے
- صرف مقرر رہنما کی خدمت قابلِ قدر ہے
- رہنما خدمت کرے؛ خدمت کا اس پہلو سے مقام ہے
سوال 8: اپنی سمجھ آزمائیں
کسی کو ایک پسندیدہ استاد کی بات اچھی لگتی ہے، مگر واضح غلطی سامنے آئے تو وہ اسے مان لیتا ہے۔ عیب سے اندھا ہونے کی مثال سے کیا فرق ہے؟
- پسند کے باوجود غلطی پہچاننے سے انکار نہیں ہوا
- غلطی مان لینے سے ہر محبت خود بخود ختم ہو گئی
- پسندیدہ کی بات ہو تو غلطی پر غور ضروری نہیں
سوال 9: اپنی سمجھ آزمائیں
حُبُّكَ الشَّيْءَ میں محبت کا تعلق کس سمت ہے؟
- وہ چیز تم سے محبت کرتی ہے
- تم اس چیز سے محبت کرتے ہو
- تمہاری محبت صرف اپنے آپ سے ہے
سوال 10: علم والی عبارت ترتیب دیں
علم حاصل کرنے کی ذمہ داری والی پوری پڑھی ہوئی عربی عبارت ترتیب دیں۔
سوال 11: اپنی سمجھ آزمائیں
کسی کو واضح نہیں کہ اپنے حالات میں کیا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس سبق کے مطابق اگلا مناسب قدم کیا ہے؟
- ہر اعلیٰ علمی شاخ کی پوری فہرست خود لازم کر لے
- معتبر رہنمائی سے اپنی سیکھنے کی ضرورت سمجھے
- وضاحت نہ ہونے تک علم کی ذمہ داری کو صرف مشغلہ سمجھے
سوال 12: اپنی سمجھ آزمائیں
مَا قَلَّ وَكَفَى، خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى میں تقابل کی کون سی پوری بات برقرار رہنی چاہیے؟
- کم مقدار بہتر ہے، چاہے ضرورت پوری نہ ہو
- زیادہ مقدار بری ہے، چاہے غفلت نہ ہو
- تھوڑا مگر کافی؛ زیادہ مگر اللہ کی یاد سے غافل
سوال 13: اپنی سمجھ آزمائیں
دو چیزوں میں سے کم مقدار ضرورت پوری نہیں کرتی، جبکہ زیادہ مقدار کے ساتھ بیان کردہ غفلت بھی معلوم نہیں۔ صرف مقدار سے کیا فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟
- اس سے روایت کی دونوں شرطیں پوری ثابت نہیں ہوتیں
- کم ہونا کافی ہے؛ کفایت کی بات چھوڑ سکتے ہیں
- زیادہ ہونا کافی ہے؛ غفلت خود بخود ثابت ہے
سوال 14: اپنی سمجھ آزمائیں
قَضَى ... نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ میں وَجْهِهِ کا اس سفر سے متعلق مفہوم کیا ہے؟
- مسافر کے چہرے کی ظاہری شکل
- اس سفر کی سمت یا منزل جس کے لیے وہ گیا
- اس شخص کی پہچان جس سے مسافر ملنے گیا
تعاملی کوئز کھولیں