روایت کی نسبت کہاں تک پہنچتی ہے؟

دی گئی نسبت کو دیکھ کر مرفوع، موقوف اور مقطوع میں فرق کرنا۔ روایت کی نسبت کہاں تک پہنچتی ہے؟ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. مرفوع، موقوف اور مقطوع

● مرفوع: نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب روایت۔ ● موقوف: صحابی کی طرف منسوب قول، فعل یا تقریر۔ ● مقطوع: تابعی کی طرف منسوب قول یا فعل۔

2. نسبت پہچانیے

● «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ» نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب ہے۔ ● «وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ» کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ ● «إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ» محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا قول ہے۔ ● نبی کریم ﷺ کی طرف نسبت مرفوع، ● صحابی کی طرف نسبت موقوف، ● اور تابعی کی طرف نسبت مقطوع کہلاتی ہے۔

3. تین مثالیں

● مرفوع مثال: «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ» نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب ہے۔ ● موقوف مثال: «وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ» کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ ● مقطوع مثال: «إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ» محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا قول ہے۔

4. نسبت کا نام، صحت کا حکم نہیں

● مرفوع روایت مقبول یا ضعیف ہو سکتی ہے۔ ● اسی طرح موقوف یا مقطوع روایت مقبول یا مردود ہو سکتی ہے۔ ● مرفوع، موقوف اور مقطوع صرف نسبت بتاتے ہیں، صحت یا ضعف نہیں۔

5. مشق کا آسان طریقہ

● نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف ہو تو مرفوع، ● صحابی کی طرف ہو تو موقوف، ● اور تابعی کی طرف ہو تو مقطوع منتخب کیجیے۔

مشق کے سوالات

سوال 1

«إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ» نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب ہے۔ اس نسبت کو کیا کہتے ہیں؟

  • مرفوع
  • موقوف
  • مقطوع

سوال 2

«وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ» کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ اسے کیا کہیں گے؟

  • مرفوع
  • موقوف
  • مقطوع

سوال 3

«إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ ...» محمد بن سیرین رحمہ اللہ، جو تابعی ہیں، کی طرف منسوب ہے۔ اسے کیا کہیں گے؟

  • مرفوع
  • موقوف
  • مقطوع

سوال 4

کسی قول، فعل یا تقریر کو موقوف پہچاننے کے لیے کون سی بات دیکھی جاتی ہے؟

  • راویوں کی کل تعداد
  • قول، فعل یا تقریر کی نسبت کسی صحابی کی طرف ہونا
  • عبارت کا مختصر ہونا

سوال 5

اگر کسی روایت کو مرفوع کہا گیا ہو تو صرف اسی لفظ سے اس کی صحت بھی ثابت ہو جاتی ہے۔

  • درست
  • غلط

تعاملی کوئز کھولیں