سورۃ عبس — حصہ ١

آیات ١–٩ · ہر لفظ کی نحوی و صرفی وضاحت سورۃ عبس — حصہ ١ کا اردو و انگریزی سبق پڑھیں اور مختصر کوئز کے ذریعے اپنی سمجھ جانچیں۔

سبق

1. سورۃ عبس، آیت ١

عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ جملے کی ترکیب دو معطوف افعالِ ماضی کا فاعل ایک ہی مستتر ضمیر هُوَ ہے: وہ ترش رو ہوا اور منہ موڑ لیا۔ آیت کا خلاصہ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے ایک نابینا طالبِ حق کی آمد پر تیوری چڑھائی اور رخ پھیر لیا۔ عَبَسَ — ترش رو ہوا گرامر: فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب۔ وَتَوَلَّىٰٓ — اور منہ موڑا گرامر: وَ حرفِ عطف ہے۔ بابِ تفعّل، فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب؛ نحوی حیثیت معطوف۔

2. سورۃ عبس، آیت ٢

أَن جَآءَهُ ٱلْأَعْمَىٰ جملے کی ترکیب أَن کے بعد آنے والا جملہ ایک مقدر سببی تعلق کے ذریعے وجہ بیان کرتا ہے۔ جَآءَ فعل، ساتھ لگی هُ مقدم مفعول بہ اور ٱلْأَعْمَىٰ فاعل ہے؛ جملے کے ٹھیک متعلق میں معتبر نحوی اختلاف ہے۔ آیت کا خلاصہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ نابینا صحابی آپ کے پاس آ گئے تھے۔ أَن — کہ گرامر: أَن حرفِ مصدری ہے؛ اس کے بعد کا جملہ مصدر کے معنی میں آتا ہے۔ جَآءَهُ — آیا اس کے پاس گرامر: فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب ہے۔ ساتھ لگی هُ مقدم مفعول بہ ہے؛ پورا جملہ أَن مصدریہ کا صلہ ہے۔ ٱلْأَعْمَىٰ — اندھا گرامر: ٱلْ حرفِ تعریف ہے۔ مرفوع، اسم؛ نحوی حیثیت فاعل۔

3. سورۃ عبس، آیت ٣

وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ جملے کی ترکیب استفہامی جملہ پوچھتا ہے کہ آپ کو کیا خبر۔ لَعَلَّهُۥ میں ضمیر اسمِ لعل اور يَزَّكَّىٰٓ کا جملہ خبرِ لعل ہے۔ آیت کا خلاصہ ممکن تھا کہ وہ اس تعلیم سے اپنی اصلاح کر لیتے۔ وَمَا — اور کیا چیز گرامر: وَ حرفِ استئناف ہے۔ مَا اسمِ استفہام ہے۔ يُدْرِيكَ — بتائے تجھ کو گرامر: بابِ افعال، فعلِ مضارع، واحد مذکر غائب؛ نحوی حیثیت خبر۔ ساتھ لگا كَ، ”ضمیرِ متصل“ ہے: واحد مذکر حاضر، نحوی حیثیت مفعول بہ۔ لَعَلَّهُۥ — شاید کہ وہ گرامر: لَعَلَّ حرفِ مشبہ بالفعل ہے اور یہاں ترجّی کا معنی دیتا ہے۔ ساتھ لگی هُۥ اس کا اسم ہے۔ يَزَّكَّىٰٓ — وہ سدھر جائے گرامر: بابِ تفعّل، فعلِ مضارع، واحد مذکر غائب؛ نحوی حیثیت خبرِ لعل۔

4. سورۃ عبس، آیت ٤

أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكْرَىٰٓ جملے کی ترکیب أَوْ دوسری صورت کو معطوف کرتا ہے۔ يَذَّكَّرُ کے بعد فاءِ سببیہ کے ساتھ نتیجہ آیا ہے کہ نصیحت اسے فائدہ دے۔ آیت کا خلاصہ یا نصیحت سن کر اس سے فائدہ اٹھاتے۔ أَوْ — یا گرامر: أَوْ حرفِ عطف ہے۔ يَذَّكَّرُ — نصیحت پکڑے گرامر: بابِ تفعّل، فعلِ مضارع، واحد مذکر غائب۔ فَتَنفَعَهُ — تو فائدہ دے اس کو گرامر: فَ فاءِ سببیہ ہے۔ فعلِ مضارع، واحد مؤنث غائب، منصوب۔ ساتھ لگا هُ، ”ضمیرِ متصل“ ہے: واحد مذکر غائب، نحوی حیثیت مفعول بہ۔ ٱلذِّكْرَىٰٓ — نصیحت گرامر: ٱل حرفِ تعریف ہے۔ مرفوع، اسم؛ نحوی حیثیت فاعل۔

5. سورۃ عبس، آیت ٥

أَمَّا مَنِ ٱسْتَغْنَىٰ جملے کی ترکیب أَمَّا تفصیل کی پہلی قسم شروع کرتا ہے۔ مَن اسمِ موصول اور مبتدا ہے، جبکہ ٱسْتَغْنَىٰ اس کا صلۂ موصول ہے؛ خبر اگلی آیت میں مکمل ہوتی ہے۔ آیت کا خلاصہ دوسری طرف وہ شخص تھا جو حق سے بے نیاز بن رہا تھا۔ أَمَّا — رہا گرامر: أَمَّا حرفِ تفصیل ہے۔ مَنِ — وہ جو گرامر: اسمِ موصول اور مبتدا ہے؛ آخری کسرہ اجتماعِ ساکنین سے بچنے کے لیے آیا ہے۔ ٱسْتَغْنَىٰ — بےپروائی کرتا ہے گرامر: بابِ استفعال کا فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب ہے اور فاعل مستتر هُوَ ہے؛ اس کا جملہ مَنِ کا صلۂ موصول ہے۔

6. سورۃ عبس، آیت ٦

فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ جملے کی ترکیب یہ پچھلی تفصیل کا جواب ہے۔ أَنتَ مبتدا، تَصَدَّىٰ کا جملہ خبر اور لَهُۥ فعل سے متعلق ہے۔ آیت کا خلاصہ آپ اس کی ہدایت کی فکر میں زیادہ متوجہ تھے۔ فَأَنتَ — تو آپ گرامر: فَ فاءِ جوابِ أَمَّا ہے۔ أَنتَ ضمیرِ منفصل اور مبتدا ہے۔ لَهُۥ — اس کی طرف گرامر: لَ حرفِ جر ہے۔ هُۥ ضمیر؛ نحوی حیثیت اسمِ مجرور ہے۔ تَصَدَّىٰ — مائل ہوتے ہیں گرامر: بابِ تفعّل، فعلِ مضارع، واحد مذکر حاضر؛ نحوی حیثیت خبر۔

7. سورۃ عبس، آیت ٧

وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ جملے کی ترکیب اسمیہ جملہ نفی کرتا ہے کہ یہ ذمہ داری آپ پر ہے۔ أَلَّا يَزَّكَّىٰ مصدری جملہ ہے: یہ کہ وہ پاکیزگی اختیار نہ کرے۔ آیت کا خلاصہ اگر وہ نہ سنورتا تو اس کی ذمہ داری آپ پر نہ تھی۔ وَمَا — اور نہیں گرامر: وَ حرفِ استئناف ہے۔ مَا حرفِ نفی ہے اور عمل نہیں کرتا۔ عَلَيْكَ — آپ پر ذمہ داری گرامر: عَلَيْ حرفِ جر؛ نحوی حیثیت متعلق ہے۔ ساتھ لگا كَ، ”ضمیرِ متصل“ ہے: واحد مذکر حاضر، نحوی حیثیت اسمِ مجرور۔ أَلَّا — کہ نہ گرامر: أَلَّا، أَنْ مصدریہ و ناصبہ اور غیر عامل لَا نافیہ سے مل کر بنا ہے۔ يَزَّكَّىٰ — وہ پاکیزگی اختیار کرے گرامر: بابِ تفعّل کا فعلِ مضارع، واحد مذکر غائب ہے اور أَنْ کی وجہ سے منصوب ہے؛ لَا اس کی نفی کرتا ہے مگر عامل نہیں۔ پورا جملہ أَنْ مصدریہ کا صلہ ہے۔

8. سورۃ عبس، آیت ٨

وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسْعَىٰ جملے کی ترکیب أَمَّا دوسری قسم شروع کرتا ہے۔ مَن اسمِ موصول اور مبتدا، جَآءَكَ اس کا صلۂ موصول اور يَسْعَىٰ آنے والے کی حالت بیان کرتے ہوئے حال ہے۔ آیت کا خلاصہ جبکہ سچا طالبِ حق آپ کے پاس شوق سے دوڑتا ہوا آیا۔ وَأَمَّا — اور رہا گرامر: وَ حرفِ عطف ہے۔ أَمَّا حرفِ تفصیل ہے۔ مَن — جو گرامر: اسمِ موصول اور تفصیلی ترکیب میں مبتدا ہے۔ جَآءَكَ — آتا ہے آپ کے پاس گرامر: فعلِ ماضی، واحد مذکر غائب ہے اور فاعل مستتر هُوَ ہے؛ ساتھ لگی كَ مفعول بہ اور پورا جملہ مَن کا صلۂ موصول ہے۔ يَسْعَىٰ — دوڑتا ہوا گرامر: فعلِ مضارع، واحد مذکر غائب؛ نحوی حیثیت حال۔

9. سورۃ عبس، آیت ٩

وَهُوَ يَخْشَىٰ جملے کی ترکیب واوِ حالیہ کے بعد اسمیہ جملہ ہے: هُوَ مبتدا اور يَخْشَىٰ کا جملہ اس کی خبر ہے۔ آیت کا خلاصہ وہ اللہ سے ڈرتا اور تعلیم حاصل کرنے کا طالب تھا۔ وَهُوَ — اور وہ گرامر: وَ واوِ حالیہ ہے۔ هُوَ ضمیرِ منفصل اور مبتدا ہے؛ پورا اسمیہ جملہ حال ہے۔ يَخْشَىٰ — ڈرتا بھی ہے گرامر: فعلِ مضارع، واحد مذکر غائب؛ نحوی حیثیت خبر۔

مشق کے سوالات

سوال 1

عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ ۝١ وَتَوَلَّىٰٓ کا عَبَسَ سے کیا تعلق ہے؟

  • معطوف فعلِ ماضی
  • معطوف اسماء منصوب
  • معطوف اسماء مجرور
  • افعالِ امر

سوال 2

أَن جَآءَهُ ٱلْأَعْمَىٰ ۝٢ جَآءَ کے ساتھ ٱلْأَعْمَىٰ کیا ہے؟

  • مفعول بہ
  • فاعل
  • خبر
  • صفت

سوال 3

وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ ۝٣ لَعَلَّهُۥ میں متصل هُ کیا ہے؟

  • خبرِ لعل
  • فاعل
  • اسمِ لعل
  • مفعول بہ

سوال 4

أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكْرَىٰٓ ۝٤ فَتَنفَعَهُ کو نصب کس نے دیا؟

  • حرف لَمْ
  • فعلِ مجہول
  • صیغۂ امر
  • فاء سببیہ کے بعد محذوف أَنْ

سوال 5

أَمَّا مَنِ ٱسْتَغْنَىٰ ۝٥ أَمَّا کے بعد مَنِ کیا ہے؟

  • مبتدا
  • خبر
  • مفعول بہ
  • حال

سوال 6

فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ ۝٦ اس جملۂ اسمیہ میں أَنتَ کیا ہے؟

  • خبر
  • مبتدا
  • مفعول بہ
  • حال

سوال 7

وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ ۝٧ أَلَّا کن دو حروف سے بنا ہے؟

  • إِنْ اور لَا
  • أَنْ اور لَمْ
  • أَنْ اور لَا
  • الف اور إِلَّا

سوال 8

وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسْعَىٰ ۝٨ يَسْعَىٰ کا جملہ کس حیثیت سے ہے؟

  • صلۂ موصول
  • جملۂ خبریہ
  • جملۂ صفت
  • جملۂ حالیہ

سوال 9

وَهُوَ يَخْشَىٰ ۝٩ وَهُوَ کی وَ کیا شروع کرتی ہے؟

  • جملۂ حالیہ
  • صلۂ موصول
  • جملۂ خبریہ
  • جملۂ صفت

تعاملی کوئز کھولیں